تربیت کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟

تربیت کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟

معاشرے میں بچوں کی پرورش کے گرتے معیار کو دیکھتے ہوئے ہم نے جس سیریز کا آغاز کیا ہے آج پارٹ 2 جس کا عنوان ہے تربیت کیآ ہے اور کیا نہیں؟

 تربیہ کیا نہیں ہے؟                                       

 اس وقت ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہر وہ معاملہ جو نظر انداز ہو رہاہے، جس کے اندر ہم کمزوری دکھا رہے ہیں، جس کے اندر ہم معاشرتی طور پر کوئی بہت اعلیٰ کارکردگی نہیں کر پا رہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس کا جو تصور ہے اس تصور کے اوپر ہمیں reflect کرنے، اس پہ سوچنے، اس پہ غور کرنے اور اس تصور کو ٹھیک کرنے کاہمیں موقع نہیں مل رہا۔ ہماری مصروفیات جو ہیں وہ اتنی زیادہ ہو گئی ہیں کہ کچھ بہت اہم سوالات ان پہ غور کرنے کی توفیق ہمیں نہیں ملی اور انہی میں سے ایک موضوع ہے تربیہ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب تک ہمارا تصور تربیت ٹھیک نہیں ہوگا تربیت ٹھیک نہیں ہوگی۔ تو تصور تربیہ کی اصلاح، تربیت کی طرف پہلا قدم ہے۔

بچے کوپابندیوں میں جکڑدینا

   تربیہ کسی بچے کو پابندیوں میں جکڑ دینے کا نام نہیں ہے۔ تربیہ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اپنے بچے کے اختیار کو اپنے ہاتھ میں رکھنا شروع کر دیں۔ تربیہ یہ نہیں ہے  کہ آپ اپنی مرضی اور اپنے زور اور اپنے رعب یا اپنے خوف یا کسی لالچ کے ذریعے اس کو کسی نیکی پہ مجبور کریں، اس کو کسی برائی سے روک دیں۔ یہ تربیہ نہیں ہے یہ وقتی طور پر تو اس بچے کو کسی خرابی سے بچانے کا باعث بنے گا لیکن تربیہ نہیں ہے تربیت
یہ بھی نہیں ہے کہ آپ بچوں کی سکلز ڈیولپ کریں۔

بچے کو مذہبی معلومات یا قرآن حفظ کرا دینا

 ایک اور نازک سی بات میں یہ عرض کروں کہ تربیت حفظ قرآن کرانا بھی تربیہ نہیں ہے۔ بلکہ حفظ قرآن اصل میں اس کا جو اصل مقصد ہونا چاہیے وہ یہ کہ یہ کلام اللہ کی امانت بچے کے سینے میں محفوظ ہو رہی ہے، اس کے کلام اللہ کی امانت کے جو تقاضے ہیں اس کو  نبھانے کا جذبہ اور دائیہ اور ارادہ اور نیت بھی اس کے اندر پیدا ہو جائے یہ تربیہ ہے۔

 تربیہ یہ ہے کہ بچہ اپنے اختیار کا، ہر انسان، میں اور آپ ہر انسان اپنے اختیار کا بامعنی اور ذمہ دارانہ استعمال سیکھ لیں۔ اگر میرے اوپر کوئی اپنی مرضی مسلط کرتا ہے اور  میرا اختیار مجھے استعمال نہیں کرنے دیتا اور اس کی مرضی کی وجہ سے میں کسی خرابی سے دور رہتا ہوں اور اس کی مرضی کی وجہ سے میں کسی نیکی پر مجبور ہو جاتا ہوں تو  اس کا مطلب یہ ہے کہ میری تربیہ نہیں ہوئی ہے۔ میری تربیت تو جناب اس صورت میں  ہوگی کہ میں خود اپنے اختیار کا ذمہ دارانہ استعمال کروں، بامعنی استعمال کروں، درست استعمال کروں یعنی دوسرے لفظوں میں یہ ہے کہ میں اپنے choices میں responsible اور meenning full ہو جاؤں۔ میری choices ٹھیک ہو جائیں۔ یہ جو اللہ  تعالی نے ہر انسان کو اختیار عطا کیا ہے انسان اپنے اختیار میں ٹھیک رہے یہ تربیت  سے ممکن ہوتا ہے۔

 تو  تربیہ کیا نہیں ہے تربیت یہ نہیں ہےکہ اپنے بچوں کو بہت ساری معلومات رٹوا دینا، مذہبی معلومات رٹوا دینا بھی تربیہ نہیں ہے بلکہ تربیت یہ ہے کہ وہ اپنے معاملات کو لوگ کیا کہیں گے اس کی نظر سے نہ دیکھے بلکہ خدا کس بات کو پسند کرے گا اس طرح وہ معاملات کو دیکھے۔ جب اس کا شادی کا دن آئے تو وہ یہ نہ فکر کرے کہ میرے کون سے کام کو لوگ لوگوں کی وجہ سے وہ اپنی بہت سارے معاملات اپنے بہت ساری نادانیاں  لوگوں کے پریشر میں آ کے نہ کرے بلکہ یہ سوچے کہ میرا رب مجھ سے پوچھے گا سوال کرے  گا جواب دہی کا احساس کسی انسان میں پیدا ہو تربیت یہ ہے۔ تربیہ God Consciousness کا نام ہے، تربیہ People Consciousness کی کہہ لیجیے جو بیماری ہے یعنی لوگ کیا  کہیں گے اس سے چھٹکارے کا نام ہے۔ تربیہ جو ہے وہ کسی اصول اور کسی اقدار کے ساتھ  ایک غیر معمولی وابستگی اور کمٹمنٹ کو نبھانے کا نام ہے۔

 تو تربیہ جو ہے ایک بات میں اور عرض کروں کہ تربیہ جو ہے بچوں کو کچھ خاص قسم کے رویے  سکھا دینے کا نام نہیں ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ وہ دوسروں کے لیے وہ پسند کرے جو  اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ اور یہ وہ سٹینڈرڈ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے  سیٹ کیا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جو تربیت یافتہ اصحاب تھے ان کا  معاملہ یہ تھا کہ وہ دوسروں کے لیے اس سے بہتر پسند کرتے تھے جو وہ اپنے لیے پسند  کرتے تھے۔ ہماری تربیہ کا جو Minimum standard ہونا چاہیے وہ یہ ہے کہ ہم دوسرے کے لیے کم از کم وہ پسند کریں جو اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ اور بہترین بات یہ ہے کہ ہم دوسرے کے لیے اس سے بہتر پسند کریں جو ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ لیکن یہ تربیت ہو نہیں پائی ہے۔

تربیت  کیا ہے؟

 تو  تربیعہ کسے کہتے ہیں تربیہ کے کچھ معیارات ہیں۔ میں تربیت کے تین میعارات عرض کروں  گا۔ 

1:انسان اپنے اختیار کابامعنی اور ذمہ دارانہ استعمال کرسکے

پہلا  معیار جو میں نے ابھی عرض کیا کہ تربیت یہ ہے کہ انسان اپنے اختیار کا بامعنی اور درست اور ذمہ دارانہ استعمال سیکھ لے۔

2: انسان اپنی نیتوں میں پاکیزہ اور آرزوؤں میں نفیس ہوجائے

 تربیہ  کا دوسرا سٹینڈرڈ یہ ہے کہ انسان اپنی نیتوں میں پاکیزہ اور اپنی آرزوؤں میں نفیس ہو جائے۔ اور یہ بات کیا ہے جب میں یہ بات کر رہا ہوں کہ نیتوں میں پاکیزہ اور آرزوؤں میں نفیس ہو جائے تو اس سے مراد کیا ہے؟ اگر میں آپ سے یہ پوچھوں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی انسان جو بیہیویئر تو بہت اچھا شو کرے لیکن بندہ ٹھیک نہ ہو، کیا یہ ممکن ہےکہ کوئی انسان آپ کے ساتھ بہت اچھی طرح پیش آ رہا ہے لیکن کریکٹر ٹھیک نہیں ہے، کیا یہ ممکن ہے بالکل ممکن ہے۔

 تربیہ جو ہے وہ ہمارے وجود کی اندرونی تہوں پہ کام کرنے کا نام ہے۔ تربیت ہمارے قلب کو  درست حالت میں رکھنے کا نام ہے۔ اور قلب کے اندر سب سے قیمتی چیز کیا ہے نیت کا اخلاص اور نیت کا اخلاص کیسے پیدا ہوتا ہے؟ للہیت کا جوہر جب ہمارے اندر پیدا ہوتا  ہے تو نیت کا اخلاص پیدا ہوتا ہے۔ عقیدہ اصل میں ہمارے شعور کے اندر یہ ذمہ داری نبھاتا ہے کہ ہماری نیتوں کو پاکیزگی عطا کرے۔ خوف خدا ہماری نیتوں کو ٹھیک رکھنے کا ضامن ہے۔ تو اصل بات یہ ہے کہ ہماری نیتیں ٹھیک رہیں، ہمارے دل کی خواہشات ٹھیک رہیں۔

تعلیم اورتربیت میں فرق

 میں ایک فرق اور بیان کروں، دو لفظ ہمارےہاں اکثر استعمال ہوتے ہیں تعلیم اور تربیت۔ میں بہت چھوٹا اور آسان سا اس کا فرق عرض کروں گا۔ تعلیم یہ ہے کہ آپ اچھائی کو اچھا سمجھیں اور برائی کو برا سمجھیں۔ آپ کی سمجھ میں آ جائے کہ اچھا کیا ہے اوربرا کیا ہے، غلط کیا ہے اور صحیح کیا ہے۔ یہ تعلیم جو ہے وہ ہماری سمجھ کو فوکس  کرتی ہے۔

 تربیہ کیا ہے تربیت یہ ہے کہ میرے قلب کے اندر یہ آنکھ بیدار ہو جائے اور میرے قلب کے اندر جو میری آرزوؤںئیں ہیں اور میری خواہشات ہیں اور میری جو ترغیبات ہیں میری جو کہہ لیجیےAttentions ہیں اور میری جو wishes ہیں وہ نکھر جائیں وہ پاکیزہ ہو جائیں وہ پاک ہو جائیں یعنی مجھے اچھائی اچھی لگنے لگے اور برائی بری لگنے لگے۔ اس وقت معاشرے کی صورتحال یہ ہے کہ اسے سمجھ میں آیا ہوا ہے کہ اچھا کیا ہے اور سمجھ میں آیا ہوا ہے کہ برا کیا ہے؟ لیکن سچی بات یہ ہے کہ اسے اچھائی اچھی نہیں لگ رہی اور برائی بری نہیں لگ رہی۔ اگر لوگوں کا یہ حال ہو اگر میرا یا آپ کا یہ حال ہو یا یہ کیفیت ہو کہ میں اچھائی پہچانتا تو ہوں، سمجھتا بھی ہوں کہ یہ اچھی بات ہے، سمجھتا ہوں کہ یہ بری بات ہے لیکن بری بات کی طرف دل مچلتا رہتا ہے۔ جب اپنے آپ سے غافل ہوتا ہوں تو حالت غیبت میں پاتا ہوں، جب اپنے آپ کی طرف سے نظر ہٹاتا ہوں تو حسد کی آگ اپنے اندر جلنے دیتا ہوں۔ تو میرے اندر اگر برائی کے لیے کراہت پیدا نہیں ہوئی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ میری تربیت نہیں ہوئی ہے۔ اگر مجھے برائی سمجھ میں تو آئی ہے، برائی کو میں پہچان تو سکتا ہوں، صحیح اور غلط میں تمیز تو کر سکتا ہوں لیکن صحیح اور غلط کی اپنی زندگی میں صحیح کو اختیار کرنا اور غلط سے دور رہنا یہ میرے لیے دشوار رہتا ہے۔ اس لیے کہ میرا دل جو ہے وہ برائی کو پسند کرتا ہے، برائی پہ راغب ہوتا ہے اور اچھائی اس کے لیے دشوار رہتی ہے تو تربیہ جو ہے اس کا بہت بڑا معیار یہ ہے کہ انسان اپنی نیتوں میں پاکیزہ اور اپنی آرزوؤں میں نفیس ہو جائے اور یہ کام قلب پہ فوکس کر کے ہوگا۔  تربیہ کا جو فوکس ہے وہ قلب ہے۔ ذہن بعد میں ہے قلب پہلے ہے۔ خواہشات آپ کی ٹھیک ہو جائیں۔ دین کا جو انسان مطلوب ہے۔ بلکہ اگر میں یہ عرض کروں کہ  خدا کا جو انسان مطلوب ہےوہ وہ آدمی نہیں ہے جو جانتا زیادہ ہے اور سمجھتا زیادہ ہے اور بہت ساری چیزیں اس نے رٹی ہوئی ہیں بلکہ خدا کا انسان مطلوب وہ آدمی ہے جو لرزتا ہے اور جس کا دل خوف الہٰی سے پگھل کر انکھوں سے ٹپکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ کام کیسے ہوگا انسان اپنی نیتوں میں پاکیزہ ہو جائے اور اپنی آرزوؤں میں نفیس ہو جائے۔ اس کی ہر خواہش خوبصورت خواہش ہو، اس کی خواہشات گھٹیا خواہشات نہ ہوں،  اس کی پریشانیاں چھوٹی پریشانیاں نہ ہوں، اس کی پریشانیاں بڑے انسان کی پریشانیاں  ہوں۔

 میں  ایک چھوٹا سا واقعہ اپ کی خدمت میں عرض کرتا ہوں غالبا غزوہ احد کے بعد  کا واقعہ ہے۔ جب غزوہ احد میں مسلمانوں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا تو جب صحابہ کو ایک موقع اس میں ایسا آیا کہ صحابہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیریت کی خبر  نہیں مل پا رہی تھی اور بے انتہا غم اور پریشانی تھی اور ایک عجیب کیفیت تھی۔ تو ایک خاتون صحابیہ وہ بہت پریشان ہو کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ ہوا  تو نہیں ہے خیریت سے تو ہیں وہ نکلی یہ تلاش کرنے کے لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی طرح خیریت پتہ چل جائے۔ راستے میں کسی نے بتایا کہ تمہارے بھائی شہید ہو گئے تو انہوں نے کہا میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیریت پوچھ رہی ہوں تم مجھے کیا بات بتا رہے ہو۔ آگے بڑھی کسی نے بتایا کہ تمہارے شوہر  بھی شہید ہو گئے انہوں نے کہا بھائی مجھے یہ بتاؤ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کیسے ہیں۔ مزید آگے بڑھی کسی نے بتایا تمہارے بیٹے بھی شہید ہو گئے۔ انہوں نے پریشان ہو کر کہا کہ میں ان لوگوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیریت جاننا  چاہتی ہوں یہ لوگ مجھے ادھر ادھر کی باتوں میں لگا رہے ہیں۔

 یہ  کون سا قلب ہے یہ کون سا دل ہے جس کی آرزوئیں، جس کی پریشانیاں، جس کی نیتیں اتنی بلند ہو جاتی ہیں، اتنی نفیس ہو جاتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت  کا جو کمال ہے وہ یہ ہے کہ ہر صحابی کا جو دل ہے وہ دھل گیا ہے اس کو برائی بری لگنے لگی ہے اور نیکی کے لیے اس کے اندر ایک جذبہ موجود ہے۔

 ہمارا پرابلم یہ ہے کہ ہم جانتے زیادہ ہیں لیکن ہمارا دل اتنا کچھ جاننے کے باوجود اس فہم کا ساتھ نہیں نبھاتا۔ یہ ہمارا پرابلم  آج کے دور کا پرابلم  نہیں ہے کہ اسے بہت سی چیزیں پتہ نہیں ہیں پتہ تو بہت کچھ ہے۔ تو تربیت کا دوسرا معیار یہ ہے۔

3: خوداحتسابی کاعمل

 تربیت  کا تیسرا معیار یہ ہے کہ خود احتسابی کا عمل انسان میں جاری ہو کر اپنے کمال تک پہنچ جائے۔ اسے جب کسی انسان میں عیب نظر آئے تو وہ پریشان ہو جائے کہ یہ عیب میرے اندر تو نہیں ہے۔ اس وقت کے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہر انسان یا اگر ہر انسان نہ صحیح تو بہت سے لوگ دوسرے انسان کے اندر اس بات پر ناراض ہو رہے ہیں جس میں وہ خود بھی مبتلا ہیں۔ بہت سے لوگ دوسرے انسان کی اس بات سے پریشان ہیں جس میں وہ خود بھی مبتلا ہیں۔ اور جب وہ دوسرے انسان میں وہ پریشانی یا وہ غلطی یا وہ عیب یا وہ خامی یا وہ پرابلم دیکھتے ہیں تو ان کو یہ خیال نہیں آتا کہ یہ تو میرا بھی پرابلم ہے۔ اپنے آپ کو ٹٹولنے اور اپنے آپ کو اپنے نفس کو خود احتسابی کی کندال سے کریدنے کی توفیق ہمیں نہیں ہو رہی۔ ہمارا فہم دین دوسروں کو غلط اور صحیح ثابت کرنے میں  زیادہ صرف ہو رہا ہے۔ دوسروں کو جنت میں پہنچانے کی فکر میں زیادہ لگا ہوا ہے اپنے آپ کو آتش نار سے بچانے کی فکر میں کم لگا ہوا ہے۔ یہ بہت تکلیف دہ بات ہے اپنے آپ کو بچانے کی فکر دوسرے کو بچانے کی فکر سے زیادہ ہونی چاہیے۔ دوسرے کو خود اپنے آپ کو بچانے کی فکر اس وجہ سے لگے گی کہ آپ کو اپنے آپ کو بچانے کی فکر لگی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب کو دوسروں کو ٹھیک کرنے کی فکر لگی ہے اپنے آپ کو ٹھیک رکھنے کی فکر ہمیں کم نصیب ہوئی ہے۔

 تو  تربیہ کے تین بڑے معیارات میں نے عرض کیے۔ تربیت کیا ہے کیا نہیں ہے اس پہ میں نے  کچھ بات کی۔ میں اب آگے بڑھتا ہوں تربیہ   کیوں نہیں ہو پا رہی اس کے لیئےآپ اگلا  کالم ملاحظہ فرمائیں۔ اللہ حافظ

 

1 thought on “تربیت کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟”

Leave a Comment