خاموش لوگ کیسے سب کو غلام بنا لیتے ہیں؟|| خاموش رہنے کا طریقہ | | خاموشی|| 6راز

خاموش لوگ کیسے سب کو غلام بنا لیتے ہیں
خاموشی کے 6 راز

 

ایک بے وقوف کی پہچان اس کی باتوں سے ہوتی ہے
جبکہ ایک سمجھدار انسان کی پہچان اس کے خاموش رہنے سے۔ کسی بہت ہی بڑے فلاسفر نے
کہا تھا کہ جس انسان نے یہ سمجھ لیا کہ کب، کیا،کہاں اور کتنا بولا ہے اس بندے کو
کامیاب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔جس طرح کمان سے نکلا تیر کبھی واپس نہیں آتا
ٹھیک اسی طرح منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کبھی واپس نہیں آتے۔ آپ کے الفاظ آپ کی طاقت
بھی بن سکتے ہیں اور آپ کی کمزوری بھی۔ آپ کا صحیح وقت پر چپ رہنا آپ کو بہت سی
پریشانیوں سے بچا سکتا ہے اور وہیں پر آپ کا بولا ہوا ایک بھی لفظ آپ کے لیے مصیبتیں
کھڑی کر سکتا ہے۔ پھر بھی بہت سے لوگ اپنی زبان کا استعمال خود کو سمجھدار ثابت
کرنے کے لیے کرتے ہیں جبکہ کئی انتہائی انٹیلیجنٹ ،جینیس وائز اور بادشاہ بھی یہی
بول کر گئے ہیں کہ خاموشی یعنی کہ سائلنس میں ہی اصلی پاور چھپی ہے۔ یہ سمجھدار
اور کامیاب انسان کو ہی پتہ ہوتا ہے کہ کب کہاں کتنا بولنا ہے۔ اسی لیے میں آج آپ
کو خاموشی کے چھ ایسے فائدے بتاؤں گا جس سے آپ آج سے نہیں بلکہ ابھی سے یہ سیکھ
جاؤ گے کہ کب کہاں اور کتنا بولنا ہے اور جتنا آپ کو بولنے کی ضرورت ہے اتنا ہی
بولو گے۔

 1: خاموشی آپ کے
مخالف کو کنفیوز کرتی ہے

 مان لو کہ کسی کمرے میں بحث ہو رہی ہے جب تک
کمرے میں موجود سبھی لوگ بالکل پرسکون نہ ہو جائیں تب تک کچھ نہ بولیں اور انتظار
کریں۔سبھی لوگوں کا دھیان آپ کی طرف بڑھنے لگے گا کہ یہ کچھ کیوں نہیں بول رہا ۔ان
کی ایکسپیکٹیشن بڑھنے لگیں گی آہستہ آہستہ سبھی لوگ سوچنے لگیں گے کہ یہ کیا سوچ
رہا ہے۔ دوستو !یہ کوئی راکٹ سائنس کا حصہ نہیں ہے۔بلکہ صحیح ٹائمنگ کا صحیح
استعمال ہے جب آپ کو لگے اب سب لوگ سکون میں ہیں سب کا دھیان آپ کی طرف ہے تب
بولنا شروع کرو۔ اپ کی بات 10 گنا زیاده اثر انداز اور ضروری لگے گی ۔

بہت بڑے بادشاہ ٹیپو سلطان نے اپنے دشمنوں کو
خاموشی کے ذریعے ہرایا تھا۔ کئی دفعہ وہ چپ رہ کر اپنے دشمنوں کو ایک گہری سوچ میں
ڈال دیتے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ جب آپ چپ رہتے ہو تو اپنے دشمنوں کو بے سکون کر
دیتے ہو ۔جہاں وہ صرف اور صرف آپ کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتے ہیں کہ آپ کا
پلان کیا ہے، آپ آگے کیا کرنے والے ہو،آپ اپنا الگلا قدم کون سا اٹھانے والے یہ سب
سوچنے میں وہ اپنے گول پر فوکس کھو دیتے ہیں اور آپ جیت جاتے ہیں ۔ٹیپو سلطان کا
کہنا تھا کہ جو یہ جانتا ہے کہ کیا بولنا ہے اور کیا نہیں بولنا وہ جیت جاتا ہے۔

2:  Silence
build  lasers focus

  خاموشی آپ کے فوکس کو بہت زیادہ
شارپ کر دیتی ہے۔ مولانا رومی کا کہنا تھا کہ بولنے سے پہلے اپنے الفاظ کو ان تین
سوالوں کے گیٹ سے گزرنے دیں۔

 پہلا آپ جو بول رہے ہو کیا اس میں ویلیو
ہے؟

 دوسرا کیا آپ کا بولنا ابھی ضروری ہے؟

 تیسرا کیا ان الفاظ سے کوئی فرق محسوس
ہوگا یا لوگ اسے ایک کان سے سنیں گے اور دوسرے کان سے نکال دیں گے۔

 ان تین گہرے سوالوں کا جواب آپ کو کسی سے
بات کر کے نہیں ملے گا بلکہ جب آپ خاموش رہوگے تب آپ کا فوکس ان سوالوں پر جائے گا
اور آپ بہترین الفاظ کا چناؤ کرنا سیکھ پاؤ گے۔ 

سائلنس اور فوکس دونوں ایک ساتھ آتے ہیں۔ اگر آپ
سوچ رہے ہو تو بول نہیں سکتے اور اگر آپ بول رہے ہو تو سوچ نہیں سکتے ۔بولنا اور
سوچنا کبھی ایک ساتھ نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ زیادہ بولتے ہیں وہ بس بولتے ہیں ان کی
باتوں کی زیادہ قدرنہیں ہوتی۔

 ایک اس جگہ پر الگ الگ ایموشنز کی وجہ سے
انسان کے اندر ہزاروں خیالات گزرتے ہیں۔ زیادہ بولنے والے کسی بھی خیال کو اپنی
زبان پر لے آتے ہیں جو کہ زندگی میں صرف مسائل ہی پیدا کرتا ہے۔ اور وہیں پر جو
لوگ خاموش رہتے ہیں ان کا فوکس بڑھ جاتا ہے۔ وہ جو بھی سوچ رہے ہوتے ہیں اسے اچھے
سے سمجھ پاتے ہیں۔ ان کے ذہن میں بھی کئی خیالات آتے ہیں کئی ایسی باتیں آتی ہیں
جو وہ بول سکتے ہیں پر وہ خاموش رہ کر اپنے رینڈم تھاٹس کو اچھے سے سٹرکچر کرتے
ہیں اور پھر وہ تب ہی بولتے ہیں جب ان کا بولنا ضروری ہوتا ہے۔

3:  خاموشی لوگوں
کی توجہ کھیچتی ہے

اگر کبھی آپ ایک گروپ بندی میں بیٹھے ہوں، کسی
میٹنگ یا کلاس روم میں بیٹھے ہوں تو کیسے خاموش  لوگوں کا اٹینشن کریپ کر
لیتا ہے۔ جب ٹیچر کچھ بول رہا ہوتا ہے یا لیکچر دے رہا ہوتا ہے تو آپ کا دھیان ایک
دم بھٹک جاتا ہے۔ آپ الگ الگ چیزیں سوچنے لگتے ہو، اپنے ساتھ بیٹھے دوست سے بات
کرنے لگتے ہو، ٹیچر کی آواز آپ کے بیک گراؤنڈ پہ چل رہی ہوتی ہے پر جیسے ہی ٹیچر
بولنا بند کرتا ہے اور آپ کو بات کرتے چپ چاپ نوٹس کرتا ہے تو آپ کا دھیان اپنے آپ
کو سائلنس پر چلا جاتا ہے ۔آپ کے مائنڈ میں سگنل جاتا ہے کہ کچھ تو ہوا ہے۔ آپ کا دھیان
ٹیچر پر چلا جاتا ہے کہ یہ چپ کیوں ہو گیا ۔

بالکل یہی چیزیں ہماری ڈیلی لائف میں ہر جگہ
ہوتی ہیں آپ نے بھی یہ نوٹ کیا ہوگا کہ جب آپ بول رہے ہوتے ہو تو کئی دفعہ لوگ آپ
کی باتوں پر ذرا بھی دھیان نہیں دیتے ،آپ کو صحیح سے ریپلائی بھی نہیں کرتے پر
جیسے ہی آپ چپ ہو جاتے ہو اچانک سب کا دھیان آپ پر اآجاتا ہے۔ اور پھر وہی لوگ آکر
آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا ہوا آج کل کوئی بات نہیں کرتے۔ سچ بتانا ایسا ہوتا ہے کہ
نہیں ۔

4: خاموشی اعتماد پیدا
کرتی ہے     ( Silence build trust )

  لوگوں کے ساتھ ریلیشن شپ جوڑنے کے لیے
اپنے سے اچھے لوگوں کے ساتھ کنکشن بنانے کے لیے ٹرسٹ بہت ضروری ہوتا ہے۔ اور کسی
کا بھی ٹرسٹ جیتنے کے لیے آپ کو انہیں سننا آنا چاہیے۔ آپ اپنی باتیں بتا کر اپنی
کہانی سنا کر صرف سامنے والے کو  ہنسا سکتے ہو یا متاثر کر سکتے ہو ۔ہو سکتا
ہے وہ آپ کو پسند بھی کرنے لگے پر وہ آپ پر اتنی جلدی بھروسہ نہیں کر پائے گا جب
تک آپ اسے سننے کی عادت نہیں ڈالو گے۔ 

اگر آپ کے مائنڈ میں یہ سوال آ رہا ہے کہ بولنے
سے زیادہ سننا کیوں ضروری ہے تو یہ سوال اسی طرح ہے کہ کیوں بچت کرنا خرچ کرنے سے
زیادہ ضروری ہے؟ لوگوں کی باتوں کو سننا اور اسے سمجھنا اتنا آسان نہیں ہے آپ چپ
رہ کر انہیں سننے کا ناٹک بھی کر سکتے ہو جہاں آپ چپ چاپ تو بیٹھے ہو مگر آپ کے
دماغ میں چل رہا ہے کہ یہ کب چپ ہوگا اور میں بولنا شروع کروں گا جس سے کبھی کوئی
فائدہ نہیں ہوگا ۔اپنے ارد گرد کے ماحول اور لوگوں سے زیادہ سے زیادہ انفارمیشن
جمع کرنے کے لیے آپ کا اپنی مشاہدہ اور سننے کی مہارت کا تیز کرنا بہت ضروری ہے۔
اور وہ ہوتا ہے صرف اور صرف سائلنس کی وجہ سے۔ 

زیادہ تر لوگ جب کسی سے ملتے ہیں تو وہ صرف اپنے
بارے میں بات کرنے لگتے ہیں کہ کیسے ان کی لائف کتنی اچھی ہے یا پرابلم سےبھری ہے۔
تھوڑی دیر بھی چپ رہنا انہیں بے چین کر دیتا ہے اسی لیے وہ بس بولتے جاتے ہیں۔
وہیں جو سکسیس فل اور پاور فل لوگ ہوتے ہیں انہیں آپ نے کبھی بھی زیادہ بولتے ہوئے
نہیں سنا ہوگا بلکہ وہ سامنے والے سے سوال کرتے ہیں انہیں جانتے ہیں  اور
انہیں سنتے ہیں۔

 جب آپ کسی کو دھیان سے سنتے ہو تو یہ
سامنے والے کو بہت اچھا فیل کرواتا ہے انہیں ایسالگتا ہے کہ ان کی نظر میں ان کی
ویلیو ہے۔ اور یہ آپ دونوں کے بیچ ٹرسٹ کو بڑھاتا ہے۔

5:  خاموشی طاقت
پیدا کرتی ہے  (Silence  build strength)

 دوستو !حقیقت تو یہی ہے کہ ہم میں سے% 98 
لوگوں کو خاموشی بالکل نہیں ہے ہم کہیں نہ کہیں اس سے ڈرتے بھی ہیں ہم خاموشی
  کو اکیلا پن کے برابر دیکھتے ہیں ۔ہم چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں دیکھیں ہماری
باتیں سنیں اور ہمیں ہمیشہ پسند کریں، ہمیشہ پیار کریں ہم سبھی کو لوگوں کا اٹینشن
چاہیے ہوتا ہے اور اسی اٹینشن کے لالچ میں ہم بولنا شروع کرتے ہیں اور ہماری ساری
باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہمیں سامنے والےپسند کریں ،ہم ان کی نظروں میں اچھا
دکھنے لگیں۔ اس لیے بول بول کر ہم اپنی اچھی باتیں انہیں سناتے ہیں۔ خاموشی 
ہمیں ڈراتی ہے کہ اگر ہم چپ ہو گئے تو کہیں سامنے والے کا دھیان ہماری کمیوں پر نہ
چلا جائے، کہیں وہ  اچھے سے ہمارہ مشاہدہ نہ کر پائے۔ کیونکہ اندر ہی اندر ہم
سبھی یہ بات جانتے ہیں کہ ہم پرفیکٹ نہیں ہیں اور خاموشی سے پرہیز کر کے ہم سچ کو
لوگوں سے چھپا رہے ہوتے ہیں۔ اس جھوٹی لائف کو جینے کے لیے  ہم اندر ہی اندر کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ جبکہ سائلنس ہماری
زندگی میں ایک آئینے کی طرح کام کرتا ہے۔ جب ہم سائلنس ہوتے پسند ہیں تو ہم اپنے
ٹرو سیلز کے ساتھ کنیکٹڈ ہوتے ہیں جو اصل میں ہیں۔ تب ہم دیکھ پاتے ہیں کہ ہمیں
خوش رہنے کے لیے لوگوں کی موجودگی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کوئی ہمارے ساتھ چاہے
اچھا سلوک کرے، ہماری بےعزتی کرے، ہمیں کچھ بھی بولے یا ہمیں اگنور کر دے اس سے
ہماری شخصیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور سائلنس ہمیں یہ طاقت دیتا ہے کہ ہم خود کے
ساتھ رہ کر اکیلا پن محسوس نہیں کرتے بلکہ سائلنس کے ساتھ ٹائم پاس کرنے سے ہم خود
کو اور زیادہ پسند کرنے لگتے ہیں جو ہماری خود داری اور خود اعتمادی کو بہت زیادہ
بڑھا دیتا ہے۔

6:  جب آپ چپ
رہتے ہو زیادہ بولتے نہیں

جب آپ چپ رہتے ہو زیادہ بولتے نہیں تو لوگوں سے
آپ کی سٹرینتھ اور ویکنسز دونوں ہی چھپی رہتی ہیں جس سے نہ ہی کوئی آپ کو نقصان
پہنچا سکتا ہے اور نہ ہی آپ کو کوئی بہکاسکتا ہے۔ اپنی خاموشی سے آپ اپنے کریکٹر
کے اوپر ایک پروٹیکشن سیلڈ لگا دیتے ہو اور کوئی نہیں جان پاتا کہ اس سائلنٹ
پرسنلٹی کے پیچھے کون سا انسان رہتا ہے۔ آپ کی اس رویے سے آپ کے چاہنے والے آپ کو
کبھی نہیں چھوڑتے اور آپ کے دشمن آپ پر کبھی اٹیک نہیں کر پاتے۔

 جب سامنے والا چپ ہوتا ہے تو آپ کے مائنڈ
میں آتا ہے کہ سامنے والا کیا سوچ رہا ہے اس کو الٹا کر دو اور سامنے والے کو
سوچنے دو کہ آپ کیا سوچ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر مان لو کہ آپ ایک جاب انٹرویو پر
ہو اور بات آپ کی سیلری پر چل رہی ہے۔ سامنے سے آپ کو ایک بڑی اماؤنٹ آفر کی گئی
ہو پر آپ کو اس سے زیادہ سیلری چاہیے تو کبھی بھی ایک دم سے جواب مت دو ۔تھوڑا انتظار
کرو کچھ پل سائلنس ہو جاؤ انکمفرٹیبل سائلنس کسی کو پسند نہیں ہے اسے ختم کرنے کے
لیے سامنے والا ضرور کچھ نہ کچھ بولے گا اور جانے انجانے میں وہ اپنی کوئی بات
ایسی ظاہر کر دے گا جس سے آپ فائدہ اٹھاؤ اور اپنی بات منوا پاؤ ۔۔۔۔۔

 

Leave a Comment