دل میں نور پیدا کرنے والے تین کام

دل میں نور پیدا کرنے والے تین کام

تین چیزیں انیشلی ایسی ہیں جو آپ کو مدد دیتی ہیں ایسا دل پیدا کرنے یا دل کے حال کو امپروو کرنے میں تین چیزیں مدد دیتی ہیں اور پھر تین چیزیں ان کو مستحکم کرتی ہیں، پروٹیکٹ کرتی ہیں۔ تین چیزیں سپورٹو ہیں اور تین چیزیں پروٹیکٹو اور پروموٹو ہیں ۔جو ہیلپ کرتی ہیں آپ کی وہ ہے قرآن مجید کی قرات، تلاوت کرنا اس کا معنی مفہوم تدبر اور ترتیل کے ساتھ۔ اب یہ پریسکرپشن دے رہا ہوں۔

1: تدبر اور ترتیل سے قرآن پاک کی تلاوت

جس طرح تلاوت ہم کرتے ہیں نا ایک پارہ پڑھ دیا یا پاؤ پڑھ دیا وہ نہیں۔ وہ اس میں ہیلپ نہیں دیتا ثواب دیتا ہے اس مقصد کے لیے دل زندہ کی طرف، لائیو ہارٹ کی طرف بڑھنے کے لیے نہیں۔ قرآن مجید کی تلاوت کرنا قرات کرنا تدبر کے ساتھ، ترجمہ رکھ لیں اور اس کی ٹرانسلیشن پہ غور کریں تھوڑا سا پڑھیں پھر غور کریں اور جب غور کریں تو دل اور دماغ ایک جگہ ہو جائے، دل اور دماغ یکجا ہو جائیں۔ جب وہ جنت کی بات کرے قرآن تو آپ کا دل اور دماغ جنت کو دیکھیں، دوزخ کی بات کرے اور ڈرائے تو آپ کو دوزخ نظر آئے دل کی آنکھ سے اور دماغ کی آنکھ سے، وہ اپنے انعامات کی بات کرے تو آپ کو انعام نظر آئیں وہ عوامر حکم کی بات کرے تو آپ کو اس کے حکم محسوس ہوں کہ اللہ مجھ سے چاہ رہا ہے  کہ میں یہ کروں، منع کرے توآپ محسوس کریں کہ مجھے منع کر رہا ہے۔ جو جو پڑھیں اس کو اپنے من پر محسوس کریں۔ جو قرآن مجید کی تلاوت کریں اس کے معنی کو وارد کریں اپنے اوپر خواہ آپ ایک صفحہ ہی پڑھ سکیں ایک رقوع ہی پڑھ سکیں  بس۔

 کوانٹٹی ثواب دیتی ہے دل کو زندہ نہیں کرتی، کوالٹی زندہ کرتی ہے۔ تو جب قرآن مجید کا مطالعہ کریں تو دیکھیے اس طرح دل کیسے زندہ ہوگا ۔یاد رکھیں ثواب کرنے سے صرف ثواب کی طلب سے نہیں کثرت سے پڑھتے جائیں پڑھتے جائیں تو تراویح کی نمازیں بھی زندگی گزر گئی پڑھتے۔ قاری بھی حفظ قران کرتے ہیں، ختم قران کرتے ہیں، شبینے ہوتے ہیں، روز تلاوتیں ہوتی ہیں اس سے ثواب ضرور ملتا ہے  مردہ دل زندہ نہیں ہوتے مردہ دلوں کو زندگی کی طرف لانا اور دل کے حال بدلنے کی ضرورت ہے  کہ جب قران مجید کھولیں پڑھیں تو تصور سمجھا رہا ہوں، آپ کو نسخہ سمجھا رہا ہوں اور نسخہ  یہ ہے کہ جب قران مجید کھولیں اور پڑھیں تو آپ اس تصور میں گم ہو جائیں  کہ یہ اللہ تعالی کا پیغام ہے جیسے محبوب خط بھیجتا ہے نا اور آپ اس خط کو بڑے ذوق شوق سے بار بار پڑھتے ہیں۔ اولاد سے محبت ہوتی ہے اولاد دور گئی ہوئی ہے بیٹا، بیٹی پڑھنے گئے ہوئے ہیں تو پہلے زمانے خط آتے تھے اب تو ای میل ہے، ٹیلی فون ہے نا پہلے خط آتے تھے۔والدین  خطوں کو اٹھا  اٹھا کے پڑھتے تھے اچھا کسی کو پڑھنا نہیں آتا تھا تو وہ گلی محلے میں پڑھے ہوئے آدمی کے پاس لے جاتے تھے کہ یہ میرا خط آیا ہے ذرا مجھے پڑھ کے بتائیں، پھر بار بار پڑھتے تھے بار بار پڑھتے تھے۔ اب پتہ نہیں آپ کو وہ زمانے کی کیفیتیں  یاد ہیں کہ نہیں۔ جس سے محبت ہوتی ہے اس کےخط کوباربارپڑھتے  ہیں جس کو محبت ہوتی ہے اس کو بار بار دیکھتے ہیں بار بار دیکھتے ہیں ۔ ای میل آ جائے تب بھی بار بار پڑھتے ہیں۔ آپ اس کو باربارپڑھتےہیں کیاایسانہیں کرتے؟ جس کسی سے محبت ہوتی آپ اس کو باربارسنتےہیں بار بار دیکھتے ہیں۔  تو آپ سیراب ہی نہیں ہوتے اور اگر ایک بار دیکھیں، پڑھیں اور اس کے بعد دوبارہ نہ پڑھیں اس کا مطلب ہے اس سے دماغ کا رشتہ ہے آپ کا دل کا رشتہ نہیں ہے۔ دل کا رشتہ ہو تو بار بار لذت آتی ہے۔

 بار بار دیکھیں اب یہ جو آپ کو دل زندہ کرنے کا نسخہ بتا رہا ہوں یہ تو قران مجید سے شروع کر رہا ہوں اونچی درجے کی چیز اور نیچے اترتے اترتے روز کا ایک خطاب سنیں ٹی وی پہ لگائیں، کمپیوٹر پہ آن لائن سنیں اور دیکھیں۔وہاں سے شروع کریں یہاں تک آئیں یہ ساری چیزیں دل کی زندگی کی طرف لے جائیں گیں۔

 کنسنٹریٹ کریں دل اور دماغ کو یکجا کر لیں۔ تو جب پڑھیں تو یہ سمجھیں کہ محبوب کا کلام ہے اور محبوب کا کلام ہے تو محبت سے پڑھیں۔ تو جب اس کیفیت کو پیدا کریں گے بار بار اور یہ ایک ریاضت ہے روز کریں گے، روز کریں گے۔ کرنے سے ہوگا یہ مسلسل مشق سے ہوگا۔ یہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی وظیفہ دے دوں تو اس تسبیح کو کریں تو ہو جائے گا ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ہر روز کریں گے اس تصور کو بٹھا کے سنیں گے میری گفتگو کو سنیں گے اس ٹکڑے کو ہی سن لیں تھوڑا سن کے پھر دیکھیں۔ اور جب اس میں انٹر ہوں تو آپ پھر قرآن مجید کی وادیوں میں چلے گئے، قرآن مجید کے باغات  میں چلے گئے،  قرآن میں پہاڑوں کو دیکھ رہے ہیں۔ غرض جو کچھ قرآن بیان کرتا چلا جاتا ہے وہ تمہارے اوپر وارد ہوتا چلا جائے۔ یعنی جو کچھ آپ پڑھیں اس میں آپ کنورٹ ہوتے جائیں اور جتنا آپ بہتر پڑھ سکیں۔بے شک آدھا صفحہ پڑھیں یا  10 آیات۔

  جتنی بھی آیات پڑھیں مگر اس کے معنی کو پڑھیں اور رک جائیں مسلسل پڑھتے نہ چلے جائیں تھوڑا سا پڑھیں اور اس پہ پھر تدبر کریں رک جائیں  غور کریں۔  غور کرنے کےبعد  پھر تھوڑی دیر آنکھ بند کر لیں جو پڑھا ہے جو تصور بیان ہوا ہے اس کو اپنی نگاہوں، میں دل میں تصور کو دیکھیں۔ چشموں کا بیان ہوا ہے چشمے بہہ رہے ہوں گے تو پھر آنکھیں بند کر کے تھوڑی دیر دیکھیں جنت میں چشمے بہہ رہے ہیں۔ باغات ہوں گے پڑھ لیں اور پھر آنکھیں بند کر کے دیکھیں اللہ کی جنت میں کیا باغات ہوں گے ان کو دیکھیں تھوڑا سا۔ نور ہوگا پھر تصور کریں نور ہوگا، اللہ کی قربت ہوگی وہ قربت کیسے ہوگی اس کو جو سمجھ میں آتا ہے  اس کو تصور میں لائیں۔ ایسی قربت ہوگی اللہ راضی ہوگا وہ راضی ہوگا تو کیسی رضا ہوگی، وہ خوش ہوگا کیا کرے گا۔ بس اس کیفیت کو جیسا بھی سمجھ میں آتا ہے اس کو محسوس کریں۔ جیسے آپ کا شیخ خوش ہوتے ہیں آپ سے تو آپ کی کیا فیلنگ ہوتی ہے، جیسے ماں اور باپ خوش ہوتے ہیں آپ کے عمل سے آپ کی فیلنگ کیا ہوتی ہے، جب اور بڑے دنیا خوش ہوتی ہے آپ کی فیلنگ کیا ہوتی ہے تو اس فیلنگ کو اندر سمائیں اور پھر دیکھیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اس سے اللہ راضی ہوتا ہے تو اللہ کی رضا کی فیلنگ کو لے، محسوس کریں، ڈوبیں جو پڑھیں تھوڑا سا حصہ اس کے تصور کو سمجھیں، آنکھیں بند کریں پھر اس کو اپنے اندر اتاریں۔ یہ ہے تدبر اور ترتیل سے پڑھنا۔

 اور ترتیل میں آپ آہستہ جب پڑھیں تو ہلکا ہلکا ساتھ گنگنائیں، ترنم تغنم۔ اپنے آپ ہر بندے کی اپنے من کو راضی کرنے کے لیے ایک سر ہوتی ہے تھوڑا سا گنگنائیں۔  مگر وہ کام تھوڑی دیر آدھا گھنٹہ لگا لیں،  20 منٹ لگا لیں تنہائی میں کیا کریں ساروں کے سامنے نہیں گنگنا سکتا بندہ۔ تو پڑھے، غور کرے پھر آنکھیں بند کرے پھر گنگنائے اس لفظ پر تو یہ اس قرآن مجید کو محبوب کا خط سمجھ سے اس سے دل کا تعلق جوڑے یہ ہے طریقہ۔ دل کو جو تلاوت زندہ کرنے کی طرف لے جائے گی اور منور کرنے کی طرف لے جائے گی۔

2:  عدم اور حضوری قلب

دوسرا جب اللہ کا ذکر کریں، قرآن مجید پڑھیں اور تسبیح کریں، اللہ اللہ کریں، ذکر کریں، آنکھیں بند کر کے سمجھیں کہ اللہ کے بارگاہ میں اس کی مجلس میں بیٹھے ہیں اور ادب کے ساتھ بیٹھے دل پر ادب وارد کریں۔ جیسے آپ بڑوں مشائخ، اولیاء، صالحین کی مجلس میں شیخ کی مجلس میں بیٹھتے ہیں، آقا علیہ السلام کی بارگاہ میں مدینہ پاک جاتے ہیں جالی مبارک کے سامنے بیٹھتے ہیں، کعبہ شریف کے سامنے بیٹھتے ہیں تو جب کعبہ کو آپ  دیکھتے ہیں تو آپ کے اندر ایک کیفیت ہوتی ہے نا ایک فیلنگ ہوتی ہے۔ روضہ اطہر دیکھتے ہیں آقا علیہ السلام کا تو ایک فیلنگ ہوتی ہے نا بس جب ذکر کریں تو کچھ وقت نکالیں روز تھوڑا سا۔ جس میں قرات قرآن مجید بھی ہے اسی میں ذکر ہے یا درود جو پڑھیں تو اس کو عدم اور حضوری قلب کے ساتھ۔ ایسے سمجھیں جیسے اللہ پاک سن رہا ہے۔ اللہ پاک سن رہا ہے تو آپ اس کے حضور حاضر ہیں اس کی مجلس میں حاضر ہیں اور پھر ادب کے ساتھ پڑھیں اس کو ڈوب جائیں۔

3: قیام اللیل

 تیسرا ٹوٹے ہوئے دل اور عاجزی کے دل کے ساتھ اور نرم اعضاء کے ساتھ، طہارت کے ساتھ ہر وقت وضو کے ساتھ رہے اور وہ کسی کوئی وقت رات کا یا شام کے بعد کا یا پچھلی رات کا یا مغرب کے بعد کا جب تھوڑا اندھیرا ہو جائے تو کچھ وقت اس کے حضور دو نفل ہی ہوں اس کیفیت میں قیام کریں اور وہ تصور کریں کہ میں مالک کے دروازے پر کھڑا ہوں اس کے دروازے پر کھڑی ہوں اس طرح دو نفل ہی پڑھ لیں مگر اس کیف کے ساتھ پڑھیں۔  قیام اللیل مغرب کے بعد کے نفلوں سے شروع ہو جاتا ہے۔ پچھلی رات نصف لیل کا وقت ملے آخر شب کا ملے اول شب کا ملے بعد از مغرب ملے اوابین جس کو کہتے ہیں دو نفل، چار نفل جو بھی وقت ملے مگر اس میں تصور یہ کریں جب تھوڑا سا اندھیرا چھا جائے تو تصور یہ کریں شام کی نماز ہے مغرب کے بعد یہ قیام اللیل کا وقت شروع ہو جاتا ہے کہ اپ اللہ کے دروازے پر، مالک کے دروازے پر کھڑے ہیں سائل بن کے۔ وہ مالک ہے دروازہ کھولے نہ کھولے اس کی مرضی وہ مالک آپ در پر کھڑے ہیں بس۔ اس تصور کے ساتھ نماز پڑھیں۔

 یہ تین کام ہیں جو دل میں نور کا پیدا کرنا شروع کر دیں گی۔ کرتے رہیں ، کرتے رہیں اس سے دل میں نور پیدا ہوگا ۔

Leave a Comment