دنیاوی رشتے

دنیاوی رشتے
دنیاوی رشتے 


قصہ تین بھائیوں کا

حضور نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا ایک بندے کے تین بھائی تھے۔ مثال دیکھنا اور ذرا سمجھانے کا انداز دیکھنا میرے حبیب ﷺ کا۔کریم رسول صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم فرمانے لگے اس کے تین بھائی تھے۔ اس کے انتقال کا وقت اگیا اس نے ایک بھائی سے پوچھا۔ بھائی میں
تو دنیا سے جا رہا ہوں تو میرے ساتھ کیا کرے گا؟

 اس نے کہا میں نے تیرے ساتھ کیا کرنا ہے، بس جیسے ہی تو فوت ہو جائے گا تیرا راستہ اور ہے میرا راستہ اور ہے۔ 

تو نبی پاک علیہ السلام نے صحابہ سے فرمایا اس بھائی کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔
کہا حضور ﷺ یہ تو بالکل سلام کے قابل بھی نہیں، اس سے تو اتنا سا بھی تعلق نہیں رکھنا چاہیے، جو فوت ہوتے ہی کہہ رہا ہے کہ تیرا راستہ اور ہے اور میرا راستہ اور۔۔۔ تو صحابہ کہنے لگے حضور ﷺ اس سے سلام دعا بھی نہیں رکھنی چاہیے، کوئی تعلق  نہیں، بھاڑ میں جائے یہ بھی کوئی بھائی ہے،، کہتا ہے ختم ہوتے ہی رشتے بھی ختم۔

 

 نبی   پاک علیہ السلام نے فرمایا پھر اس نے دوسرے بھائی سے پوچھا کہ یار میں تو دنیا چھوڑ رہا ہوں تو میرا بھائی ہے تیرا میرا رشتہ ہے اب تو بتا میں اگر مروں گا تو تو میرے ساتھ کیا کرے گا۔۔

 تو اس نے کہا بھائی میں تیری تیمارداری بھی کروں گا، جب تو فوت ہو جائے گا میں تیرے غسل کے ساتھ بھی شریک ہوں گا، تجھے کفن بھی پہناؤں گا، اپنے کندھوں پہ تجھے سوار کر کے قبر تک لے جاؤں گا، دفن میں بھی شریک ہوں گا، جنازہ بھی پڑھوں گا، تیری قبر پہ مٹی بھی ڈالوں گا لیکن پھر ساری دنیا واپس آئے گی تو میں بھی آ جاؤں گا۔۔

 نبی پاک ﷺ فرمانے لگے اس بھائی کے بارے میں کیا خیال ہے۔۔ 

عرض کی یا رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پہلے والے سے تو بہت بہتر ہے، تیمارداری بھی کر رہا ہے، غسل کفن بھی کر رہا ہے، جنازے نے بھی شریک ہو رہا ہے، جنازے کو کندھا بھی دے رہا ہے، دفن میں بھی شریک ہے۔

 

 حضور ﷺ فرمانے لگے اب اس نے تیسرے سے پوچھا کہ میں اگر دنیا  سے جاؤں گا تو میرے ساتھ کیا کرے گا۔۔

 اس نے کہا میں جب تیری جان نکلنے کا وقت آئے گا تو تیری آسانی کے لیے تیرے سرہانے کھڑا   ہو جاؤں گا اور جب تیری روح پرواز کرے گی تو میں قبر تک بھی تیرے ساتھ جاؤں گا، لوگ دفن کر کے آئیں گے میں قبر کے اندر بھی جاؤں گا اور جب پل صراط پہ تو گزرنے لگے گا اس وقت بھی میں تجھے حفاظت سے گزارنے کی کوشش کروں گا اور جب میزان عمل پر اعمال تلیں گے اس وقت بھی میں تیرے ساتھ کھڑا رہوں گا اور تیری سفارش کروں گا تاکہ تو صحیح طریقے سے اعمال تول جائے   اور وہ بھائی کہنے لگا میرے بھائی جب تجھے شدید پیاس لگے گی تو تیرے لیے پانی کا بندوبست کرنے کی کوشش کروں گا تو میرا بھائی ہے میں تجھے تنہا نہیں چھوڑوں گا، اتنی دیر تیرے ساتھ رہوں گا جب تک تو جنت میں داخل نہیں ہو جاتا تو میرے حبیب پاک علیہ السلام نے اب صحابہ سے پوچھا۔

 حضور ﷺ فرمانے لگے اس بھائی کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔

 تو صحابہ کہنے لگے۔ حضور ﷺ باقی دونوں کو چھوڑ دینا چاہیے تعلق اسی کے ساتھ رکھنا چاہیے جو قبر میں بھی جائے، میزان عمل پر بھی جائے، میدان محشر میں بھی ساتھ جائے، پل صراط پہ بھی ساتھ جائے، جنت میں داخلے کے وقت بھی ساتھ جائے، تعلق اس سے لگانا چاہیے۔

 

 تو حضور ﷺ نے فرمایا اب سنو میں تمہیں سمجھانا کیا چاہتا ہوں۔۔ یا رسول اللّٰہ ﷺ فرمائیے۔۔ 

فرمایا وہ جو پہلا بھائی تھا۔۔ جس نے کہا تھا مرتے ہی تیرا میرا تعلق ختم وہ تمہارا مال ہے، جب تم دنیا سے چلے جاتے ہو تو فوری طور پر مال سے تمہارا تعلق ختم۔۔

 

 او بھائی ناراض نہ ہونا بیٹیاں بیٹے بڑا پیار کرتے ہیں، پر  اماں مر جاتی ہے تو پہلے بالیاں اتارتے ہیں، میں نے دیکھا ہے سونے کی بالیاں پہلے اترتی ہیں بڑا پیار ہے ان کو رو رہے ہوتے ہیں پر بیٹے پہلے جیب میں ہاتھ ڈالتے ہیں، شناختی کارڈ سنبھالتے ہیں کہ وہاں بینک میں بھی جانا ہے، وہاں وراثت کا انتقال بھی درج کرانا ہے، بڑا پیار کرتے ہیں پر پہلے دیکھتے ہیں تیرے بٹوے سے کیا نکلا۔۔ تیرا مال اسی وقت وارثوں کے قبضے میں چلا جاتا ہے۔۔
سن اور یاد رکھ۔۔۔

 

 اللہ کے حبیب علیہ السلام فرمانے لگے وہ جو بھائی کہہ رہا تھا کہ میں قبر تک تیرے ساتھ جاؤں گا پھر جیسے دنیا واپس آئے گی میں بھی آؤں گا۔۔ فرمایا وہ تیرے رشتہ دار ہیں، وہ تیرا بھائی ہے، تیرا بیٹا ہے، تیرا دوست ہے، تیرے تعلق والا ہے وہ قبر تک جاتا ہے پر قبر میں نہیں جا سکتا۔۔

 

 تو محبوب ﷺ فرمانے لگے وہ جو تیسرا تھا جو کہتا تھا جنت میں داخل کرا کے اؤں گا وہ تیرا نیک عمل ہے، وہ تیرا نیک عمل ہے۔۔ فرمایا اس کے ساتھ تعلق مضبوط کر وہ تیرے دکھوں کا ساتھی، تیری پیاس کا ساتھی، تیری پریشانی کا ساتھی، تیرے پل صراط کا ساتھی، ہاں تیرا چھوٹا عمل بھی چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی قیامت میں اللہ کی بارگاہ میں تیری سفارش کرے گا اور کہے گا یا اللہ اس نے نماز پڑھی تھی اسے جنت میں داخل کر دے، اس نے روزہ رکھا تھا اسے جنت میں بھیج دے۔۔ تو محبوب ﷺ فرمانے لگے اس سے تعلق مضبوط کر جو تیرا پل صراط کا بھی دوست ہے کہ مال کا  تو لالچ کرتا ہے حالانکہ تیرے مرتے ہی مال تو کسی اور کا ہو جائے گا کسی اور کا کسی اور کا۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 عقلمنداں دا کم نہی دل دنیا تے لانڑاں

 اس ووٹی کئی خاوند کیتے جو کیتا سو کھانڑاں

 

  یہ تو کبھی کسی کی اور کبھی کسی کی، آج اس کی زمین اور   کل کس کی زمین، اس ووٹی کئی خاوند کیتے جو کیتا سو کھانڑاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Comment