شیروں کی بکریوں سے صلح // حضرت میمونہ ولید کی کرامات // ایمان افروز واقعہ

شیروں کی بکریوں سے صلح // حضرت میمونہ ولید کی کرامات کاایمان افروز واقعہ

حضرت میمونہ ولید کی کرامات
شیروں کی بکریوں سے صلح


ہماری تاریخ میں ایک بہت ہی خوبصورت نام ہے حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ۔ میں ان کا ایک ایسا ایمان افروز واقعہ آپ سے شیئر کرنے جا رہا ہوں اور میرے اب تک کے مطالعہ کا بہت خوبصورت واقعہ جس کو پڑھنےکے بعد آپ کی طبیعت اور ایمان دونوں تازہ ہو جائیں گے۔
 
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ نے ساری حیاتی نکاح نہیں فرمایا۔
تیرے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ کیا
صبر ایوب کیا گریہ یعقوب کیا
 
یوں ہی جوانی گزار دی خیال ہی نہیں آیا ،فرصت ہی نہیں ملی اللہ کے ساتھ اس قدر لاو لگا لی۔ پھر ایک روز بیٹھے آپ حدیث مبارکہ کا مفہوم مطالعہ کر رہے تھے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ جنت میں ہر شخص کا جوڑا جوڑا ہوگا ۔اگر کوئی شخص اس حالت میں مسلمان مر گیا کہ نکاح نہیں ہوا تو اللہ اس کا نکاح جنت میں فرما دے گا۔ یعنی ہر کوئی جوڑے کی شکل میں ہوگا تو دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اللہ یہاں تو عمر گزر گئی نکاح نہیں ہوا ۔بزرگی آگئی تو آگے جنت میں میرا ہمسفر کون ہوگا ،شریک حیات کون ہوگی؟ تو دل میں تجسس پیدا ہوا ۔دعا فرمائی کہ اللہ مجھے وہ دکھا دے جو میرا ہمسفر ہوگا۔ رات کو سوئے دعا قبول نہیں ہوئی دوسری رات بھی یہی دعا فرمائی سو گئے قبول نہیں ہوئی۔ تیسرے روز دعا قبول ہوئی خواب میں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک سیاہ رنگ کی عورت نظر آئی ۔حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنہ کے دیس کی رہنے والی حبشہ سے ان کا تعلق اور کہتی ہیں کہ میں بصرہ میں رہتی ہوں نام ہے میمونہ ولید ۔اب آپ کو پتہ مل گیا تھا۔ عبداللہ بن زید کا تجسس اور بڑھ گیا۔ آپ کی آنکھ کھلی فجر میں نماز ادا کی نوافل پڑھے اور بصرہ کا رخت سفر باندھ دیا ۔
 
بصرہ پہنچے لوگوں نے آپ کا نام بہت سن رکھا تھا، بڑا پرتپاک استقبال کیا ۔اور پوچھا کہ حضرت یوں اچانک آنے کی وجہ دریافت فرمائی تو آپ نے فرمایا کہ میمونہ ولید سے ملنا چاہتا ہوں تو لوگوں نے کہا کہ اپ اتنی دور سے اتنا سفر کر کے میمونہ سے ملنے ائے ہیں۔ اس میں حیرت کی بات کیا ہے حضرت عبداللہ بن زید نے کہا تو لوگوں نے کہا کہ میمونہ تو پاگل ہے، دیوانی ہے، لوگ اسے پتھر مارتے ہیں۔ تو آپ نے حیرت سے پوچھا کہ پتھر کیوں مارتے ہیں۔ تو کہنے لگے کہ جب لوگ ہنستے ہیں تو میمونہ روتی ہے اور جب لوگ روتے ہیں تو میمونہ ہنستی ہے اور اجرت لے کر لوگوں کی بکریاں چراتی ہے اس وقت بھی جنگل میں بکریاں چرانے گئی ہیں۔ آپ عصر تک انتظار کر لیں آجائیں گیں تو ملاقات ہو جائے گی۔ تو آپ نے کہا کہ عصر کس نے دیکھی ہے آپ نے فورا اپنا گھوڑا لیا اور جنگل کا رخت سفر باندھ دیا ۔لوگوں نے منع کیا کہ حضرت جنگل درندوں سے بھرا ہوا ہے آپ مت جائیں آپ کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ لیکن آپ نے کہا کہ میں عصر کا انتظار نہیں کر سکتا۔ آپ جنگل کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ فرماتے ہیں کہ جنگل واقعی درندوں سے بھرا ہوا تھا اور دل ہی دل میں کہہ رہے تھے کہ میمونہ ولید کی شجاعت کو سلام کہ اس درندوں بھرے جنگل میں وہ روز بکریاں چرانے آتی ہیں۔ اگر سارے درندے مل کر اس پر حملہ کر دیں تو اس کی بکریوں کو کون بچا سکتا ہے اکیلی عورت بھلا کیا کر سکتی ہے۔ لیکن تجسس تھا۔
 
آپ لوگوں کی بتائی ہوئی اس جگہ پر پہنچے۔ لیکن جو معاملہ دیکھا وہ لوگوں کے بتائے ہوئے معاملے سے بالکل برعکس تھا ۔آپ کیا دیکھتے ہیں کہ میمونہ ایک طرف جائے نماز بچھائے نوافل میں مشغول ہیں دیکھ کر عقل دھنگ رہ گئی۔ دنیا سے کنارہ کشی اس لیے اختیار کی تھی لوگ دیوانہ سمجھتے پتھر مارتے لیکن میمونہ یہاں جنگل میں آ کر دنیا سے کٹ آف ہو کر اللہ کی یاد میں مشغول ہیں۔ جب میمونہ ولید کو یوں نوافل پڑھتے دیکھا تو دل میں خیال آیا کہ میمونہ اگر نماز پڑھ رہی ہیں تو بکریاں کون چرا رہا ہے۔ پھر آپ نے بکریوں کو دیکھا تو بکریاں ایک جھنڈ میں چر رہی ہیں۔ لیکن ان کی طبیعت میں چونکہ شرارت ہوتی ہے۔ جب بھی کوئی بکری دوڑتی تو آگے سے شیر بکری کو ڈراتا اور بکری بھاگ کر دوبارہ اپنے جھنڈ میں شامل ہو جاتی ۔
 
گویا معلوم ہوا کہ میمونہ ولید کی بکریوں کی حفاظت خود درندے یعنی شیر کر رہے ہیں۔ آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ یہ طبیعت کے برعکس معاملہ کیسے ہوا شیروں نے تو بکریوں کو کھانا ہوتا ہے اور اگر شیر ہی بکریوں سے دوستی کر لیں گے تو پھر کھائیں گے کیا ۔ایسا کیسے ممکن ہے یہ تو طبیعت کے بالکل برعکس معاملہ تھا۔ ابھی آپ اسی حیرت میں مبتلا تھے کہ میمونہ ولید نے سلام پھیر لیا اور مخاطب ہو کر کہا کہ عبداللہ وعدہ تو جنت میں ملنے کا تھا آپ تو یہاں تشریف لے آئے ۔تو اس پر آپ مزید حیرت میں مبتلا ہو گئے اور کہنے لگے کہ آپ سے میری پہلی ملاقات ہے۔ آپ کو میرا نام کیسے معلوم ہوا ؟اس پر میمونہ ولید کہتی ہیں جس رب نے آپ کو میرا پتہ بتایا اسی رب نے مجھے آپ کا پتہ بتا دیا تھا۔ سبحان اللہ
 
تو پھر آپ نے اپنا سوال دہرایا کہ میمونہ اچھا یہ بتائیں کہ دنیا سے تو آپ نے کنارہ کشی کی لیکن یہ میں کیا ماجرہ دیکھتا ہوں کہ بکریوں سے شیروں نے دوستی کر رکھی ہے وہ انہیں کھاتے نہیں۔ یہ تو ایک طبیعت کے بالکل برعکس معاملہ ہے اگر وہ اس سے دوستی کر لیں گے تو کھائیں گے کیا ۔تو اس پر میمونہ ولید نے بہت خوبصورت بات کی جس کو سن کر آپ کا ایمان تازہ ہو جائے گا کہ عبداللہ جب سے میں نے اپنے رب سے صلح کر لی ہے تب سے ان شیروں نے بھی بکریوں سے صلح کر لی ہے ۔میں نماز پڑھتی ہوں بکریاں شیر چراتے ہیں یہ میرے رب کا مجھ پہ فضل ہے۔ سبحان اللہ
 
جب کوئی رب کا ہو جاتا ہے تو رب پھر اس کا ہو جاتا ہے۔
مٹا کے اپنی ہستی سراپا جستجو ہو جا
جو تو چاہے گا وہ ہوگا جو وہ چاہے وہ تو ہو جاتا
 
اپنا بہت سا خیال رکھیے جزاکم اللہ خیر

3 thoughts on “شیروں کی بکریوں سے صلح // حضرت میمونہ ولید کی کرامات // ایمان افروز واقعہ”

Leave a Comment