قبول اسلام سے قبل حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا ایمان افروذ واقعہ

قبول اسلام سے قبل حضرت عمر  رضی اللہ تعالی عنہ  کا ایمان افروذ واقعہ
 حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ

اسلام قبول کرنے سے کئی سال پہلے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ ایک دفعہ تجارتی قافلے کے ساتھ مال لے کر مکہ سے شام گئے۔ قافلے میں قریش کے کئی اور بڑے سردار بھی   شامل تھے۔ یہ قافلہ شام کے سب سے بڑے شہر دمشق گیا اور وہاں اپنا مال بیچ کر مکہ  واپس روانہ ہوا۔ تھوڑا سا فاصلہ طے کرنے پر حضرت عمر کو یاد آیا کہ ان کی ایک رشتہ دار خاتون نے انہیں کچھ سونا دیا تھا کہ اسے بیچ کر اس کے لیے کچھ کپڑے وغیرہ لیتے  ائیں۔ انہوں نے اپنے قافلے کے ساتھیوں سے کہا کہ فلاں عورت کا کام کرنے واپس دمشق جا رہا ہوں کوشش کروں گا کہ یہ کام کر کے جلدی واپس آجاؤں۔

 حضرت عمر دمشق واپس گئے تو بازار بند ہو چکے تھے مجبورا وہ ایک مسافر خانے میں ٹھہرے اور سو گئے۔ تھوڑی دیر کے بعد اللہ کا ایک بندہ مسافر خانے میں آیا اس نے حضرت عمر  کو جگایا اور اپنے ساتھ اپنے گھر لے آیا۔ یہ بات واضح نہیں تھی کہ وہ شخص حضرت عمر کو پہلے سے جانتا تھا یا ان کے والد خطاب سے ان کی واقفیت تھی۔ انہوں نے حضرت عمر کی بڑی خاطر و مدارت کی۔ کھانا کھا کر تو وہ سو گئے اور ان کا میزبان رات بھر عبادت کرتا رہا۔

 صبح کو حضرت عمر بیدار ہوئے تو ان کے میزبان نے کہا کہ اکیلے بازار مت جانا بازار میں لٹیرے اکثر مسافروں کو لوٹتے رہتے ہیں میرے ساتھ چلنا۔ یہ کہہ کر وہ سو گیا کیونکہ رات بھر جاگ رہا تھا. حضرت عمر نے اسے جگانا مناسب نہیں سمجھا اور اکیلے ہی بازار چلے گئے۔ ابھی بازار کھلا بھی نہیں تھا وہ بازار کھلنے کا انتظار کرنے لگے۔

 کچھ دیر کے بعد ایک عیسائی پادری اپنے نوکروں کے ساتھ آیا اور حضرت عمر کی طرف اشارہ کر کے اپنے نوکروں کو حکم دیا کہ اس شخص کو پکڑ لو یہ گرجے کا کام بہت اچھی طرح سے  کر لے گا۔ اس زمانے میں حضرت عمر بڑے تن و مند پہلوان تھے۔ پادری کے نوکروں نے اس کو پکڑ لیا اور ایک پرانے گرجے میں لے گئے۔ پادری نے اس کو ایک ہتھوڑا دیا اور اس کو گرجے کی ایک دیوار توڑنے پر لگا دیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس جگہ پر ایک نیا گرجا بنوانا چاہتا تھا۔

 حضرت عمر دن بھر کام کرتے رہے کہیں شام کو جا کر چھٹی ملی وہ تھکے ہارے واپس مسافر خانے  میں آ کر بیٹھ گیا۔ پہلے ہی دن والا نیک آدمی پھر آیا اور اس نے پوچھا کہ آپ کدھر  چلے گئے تھے۔ حضرت عمر نے اسے سارا قصہ بتا دیا۔ وہ شخص آج بھی ان کو اپنے گھر لے گیا اور ان کی بڑی خاطر و مدارت کی اور انہیں تاکید کی کہ کل بازار جاتے وقت مجھے ساتھ لے جانا۔ اس کے بعد وہ عبادت میں مشغول ہو گیا اور حضرت عمر سو گئے۔

 دوسرے  دن حضرت عمر بیدار ہوئے تو اپنے نیک میزبان کو سوتے پایا انہوں نے اب کی بار بھی اس کو جگانا مناسب نہیں سمجھا اور اکیلے ہی بازار چلے گئے۔ اتفاق سے پھر وہی پادری اپنے نوکروں کے ساتھ آیا اور حضرت عمر کو پکڑ کر ساتھ لے گیا۔ ان کو غصہ تو بہت آیا لیکن کیا کرتے غیر ملک میں وہ اکیلے تھے اور کوئی ہتھیار بھی پاس نہیں تھا۔
دوسری طرف پادری کے ساتھ سات آٹھ نوکر تھے اور وہ سب ہتھیار بند تھے۔ پہلے دن کی طرح ہی حضرت عمر ہتھوڑے کے ساتھ گرجے کی دیوار توڑتے رہے۔ جب دھوپ تیز ہوئی تو پادری اور اس کے نوکر انہیں کام میں مشغول دیکھ کر چلے گئے اور حضرت عمر دیوار کے سائے میں دم لینے کے لیے بیٹھ گئے۔ اتنی میں وہ پادری گھوڑے پر سوار چپکے سے آیا اور حضرت عمر کے سر پہ ضرب لگائی اور کہا کہ ہم سب گھر گئے تو تو نے کام ہی چھوڑ  دیا۔

 اب حضرت عمر کو صبر کی تاب نہ رہی انہوں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی ہر طرف سناٹا تھا  انہوں نے پادری کو گھوڑے سے کھینچ کر نیچے کر لیا اور اس کے سر پر ہتھوڑے پر  ہتھوڑے مارنا شروع کر دیے۔ وہ بہت چیخا چلایا لیکن اس کی مدد کے لیے کوئی نہیں پہنچا۔ حضرت عمر نے ٹوٹی ہوئی دیوار کا ایک بھاری ٹکڑا اٹھا کر اس کے سر پہ دے  مارا وہ پہلے ہی زخمی تھا اب اس نے دم دے دیا۔ اس کو مرتے دیکھ کر حضرت عمر تیزی سے بھاگ کھڑے ہوئے اور جس راستے سے دمشق آئے تھے وہ راستہ چھوڑ کر ایک دوسرے راستے  پر چل پڑے۔

 شہر سے کافی دور انہیں ایک خچر پر سوار رومی ملا جو روم سے تعلق رکھتا تھا وہ ان کے  ساتھ چلنے لگا وہ کچھ باتیں کرنے لگا لیکن نہ حضرت عمر ان کی زبان سمجھتے تھے اور نہ وہ ان کی زبان سمجھتا تھا۔ اس نے یکایک اپنی تلوار پر ہاتھ ڈالا حضرت عمر سمجھ گئے کہ وہ ان پر وار کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے فورا ہی خچر سے اسے کھینچ لیا اور اس سے تلوار چھین کر ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کر دیا۔ پھر آپ خچر پہ سوار ہو کر آگے چلے۔

عیسائی پادری کی پیشن گوئی

 اس کے بعد کیا ہوا اس کا حال خود حضرت عمر نے اس طرح بیان کیا ہے کہ اس جگہ سے روانہ ہو کر میں ایک گرجے پہنچا یہاں عیسائیوں کی ایک جماعت رہتی تھی میں گرجے کے اندر  داخل ہوا تو گرجے میں رہنے والے سب لوگ میرے ارد گرد جمع ہو گئے اور مجھ سے میرے
حالات کے بارے میں پوچھنے لگے۔ پھر وہ اپنے پادری کے پاس مجھے لے گئے۔ پادری مجھے  نہایت غور سے دیکھنے لگا اور اس کے بعد کہنے لگا یہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمہیں کسی چیز کا خوف ہے۔

 میں نے کہا کہ تم نے کیسے اندازہ لگا لیا کہ مجھے کسی چیز کا خوف ہے۔

 اس نے میرے سوال کو ٹال دیا اور کہا کہ آپ جب تک چاہیں یہاں ٹھہریں۔ آپ کو یہاں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں، آپ ہماری حفاظت میں ہیں۔

 پھر  اس پادری نے مجھے اپنے گھر میں مہمان کی طرح رکھا اور میری نہایت ہی خاطر و مزارت کی اور پھر پوچھا کہ آپ کون ہیں؟

 میں نے اسے بتایا کہ میں مکے کا رہنے والا ہوں اور قبیلہ قریش سے تعلق رکھتا ہوں۔ تجارتی قافلے کے ساتھ شام آیا تھا، تجارت کا مال بیچنے کے بعد ایک ضروری کام کے  لیے مجھے اپنے قافلے سے جدا ہو کر واپس دمشق جانا پڑا اب میں اپنے وطن واپس جا رہا ہوں اور راستہ بھٹک کر یہاں آ نکلا ہوں۔

 پادری مجھے غور سے دیکھتا رہا اور بار بار طرح طرح کے سوال کرتا رہا۔ میں نے ان کے ہاں نہایت ہی آرام سے رات بسر کی۔ صبح کو اس نے پوچھا کہ آپ کا ارادہ یہاں ٹھہرنے کا ہے یا آگے جانے کا۔

 میں نے کہا کہ اب میں آپ سے رخصت ہونا چاہوں گا۔ یہ سن کر پادری نے اپنا ایک شاندار گدھا جو بڑا خوبصورت اور نہایت ہی تیز رفتار تھا لےآیا۔ اس گدھے کی پیٹھ پر کھانے کی مزیدار چیزیں اور قیمتی تحفے بھرے ہوئے تھے اور پھر کہنے لگا کہاآپ اس گدھے پر سوار ہو جائیں اور چل پڑیں، راستے میں آپ کا گزر کسی عیسائی کے مکان کے پاس سے  ہوگا تو وہ آپ کو اس گدھے پر سوار دیکھ کر آپ کی بے حد تعظیم کرے گا اور آپ کی خاطر و مدارت میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔

 یہ کہہ کر پادری نے میرا ہاتھ پکڑا اور تنہائی میں لے کر کہنے لگا کہ اے عمر آپ پر میرا حق واجب ہو گیا۔

 میں نے کہا بے شک۔

 اس نے کہا آپ کا تعلق ایک معزز قوم سے ہے، میری آپ سے ایک غرض ہے۔

 میں نے کہا کہ آپ بیان کر لیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ آپ جیسا بڑا آدمی مجھ جیسے پریشان حال مسافر سے کوئی غرض رکھتا ہو ۔

اس نے بڑے یقین بھرے لہجے میں کہا کہ سنیں میں ایک ایسا آدمی ہوں جسے اللہ نے آسمانی کتابوں کا علم عطا کیا ہے۔ میں نے آپ کی ذات میں بہت سی ایسی نشانیاں دیکھی ہیں جو  یہ ظاہر کرتی ہیں کہ جب ایک مقررہ مدت پوری ہو جائے گی تو حالات میں زبردست تبدیلی آئے گی، اس وقت آپ ہمارے ملک کے حاکم بن جائیں گے اور یہاں کے سب شہروں میں آپ ہی کا حکم چلے گا۔ اس کے بعد پادری نے اپنی جیب سے دوات قلم اور کاغذ نکال کر کہا کہ میری غرض یہ ہے کہ آپ اس کاغذ پر لکھ دیں کہ اس گرجے اور اس کی جائیداد پر کسی قسم کا کوئی محصول لاگو نہیں کیا جائے گا۔

 میں نے حیران ہو کر پادری سے کہا کہ آپ مجھ سے مذاق تو نہیں کر رہے؟

 اس نے کہا کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے عیسیٰ علیہ السلام پر انجیل نازل فرمائی میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ بالکل سچ ہے۔ آپ مہربانی کریں اور میری درخواست قبول فرمائیں۔

 میں نے پادری کی باتوں کو اس کا وہم سمجھا اور جیسے اس نے کہا میں نے اسی طرح کاغذ پہ اسے لکھ کر دے دیا۔

 اس کے بعد گدھے پر سوار ہو کر چل پڑا راستے میں مجھے کئی جگہ پر عیسائیوں کی جماعتیں ملیں۔ انہوں نے مجھے ایک پادری کے گدھے پر سوار دیکھ کر میری بڑی خاطر و مدارت کی۔
میں اس طرح جگہ جگہ عیسائیوں کا مہمان بنتا تبوک تک پہنچ گیا۔ اللہ کی شان میں جس تجارتی قافلے کے ساتھ  گیا تھا وہ کافی دیر میرا انتظار کرنے کے بعد اسی جگہ سے چل پڑا تھا میں نے جہاں  اسے چھوڑا تھا۔ اور اب تبوک میں ایک کنویں کے قریب ڈیرا ڈالے ہوئے تھے۔

 قافلے والے میرے ساتھی مجھے دیکھ کر میری طرف دوڑ پڑے اور مجھ سے مل کر بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ ابن خطاب ہم لوگ تمہارا انتظار کرتے کرتے بالکل مایوس ہو گئے تو ہم نے  اس مقام کو کوچ کر دیا جہاں سے تم واپس دمشق گئے تھے۔ مگر تمہارے بارے میں ہم سخت
پریشان تھے۔ یہ تو بتاؤ کہ اتنے دن تم کہاں رہے؟

 میں نے وہ تمام حالات بیان کیے جو مجھے پیش آئے لیکن پادری سے جو میری گفتگو تنہائی میں ہوئی وہ بالکل ظاہر نہیں کی کیونکہ میں پادری کی اس باتوں کو اس کا وہم سمجھتا تھا اور اس کے عقیدے کی کمزوری سمجھتا تھا۔

قریش کے ایک سردار ابو سفیان بھی اس قافلے میں شامل تھے انہوں نے مجھے اس شاندار گدھے پر سوار دیکھ کر کہا ارے تم لوگ اس نوجوان کی اقبال مندی تو دیکھو اسے کسی ایسے میدان میں چھوڑ دیا جائے جہاں نہ پانی ہو، نہ سبزہ پھر بھی اسے رزق مل جائے گا۔

 پادری نے رخصت کرتے وقت مجھ سے کہا تھا کہ جب میں اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچ جاؤں اور  گدھے کی ضرورت نہ رہے تو اس کی رسی کو مضبوطی سے باندھ کر گدھے کو اسی جگہ پر چھوڑ  دو۔ لہٰذا میں نے ایسا ہی کیا۔ یہ دیکھ کر ابو سفیان نے کہا کہ ارے تم نے کیا کر دیا گدھے کو ایسی جگہ پہ چھوڑ دیا جہاں پہ چور اچکے اور درندے اکثر گزرتے رہتے  ہیں۔

 میں نے کہا اس کے مالک نے مجھے ایسا ہی کرنے کی ہدایت کی تھی وہ اس کی عادتوں سے زیادہ واقف ہے۔ اب وہ جگہ گدھے والا کنواں کے نام سے مشہور ہے۔

رشتہ دار خاتون کا خواب

 وہاں سے روانہ ہو کر ہمارا قافلہ مکہ پہنچا میری اور پادری کے درمیان جو گفتگو ہوئی تھی وہ مجھے بھلائی نہ بھولتی تھی پہلے تو کئی دن تک میں نے اسے اپنے دل میں ہی رکھا پھر مجھ سے ضبط نہیں ہوا اور یہ راز میں نے اپنے رشتہ دار خاتون کے سامنے ظاہر  کیا۔ جس نے مجھے سونا دیا تھا وہ بڑی عقلمند خاتون تھی۔ اس نے مجھ سے کہا کہ ابن خطاب میں تمہاری بچپن ہی سے تم میں اچھی نشانیاں دیکھ رہی ہوں جب تم بہت چھوٹے بچے
تھے تو میں نے ایک دفعہ خواب میں دیکھا کہ تم لمبے ہوتے جا رہے ہو اور تمہارا قد اتنا لمبا ہو گیا ہے کہ اس نے آسمان کو چھو لیا ہے۔ یہ دیکھ کر میں نے خواب میں کہا کہ ارے یہ میرے بچے کی کیا حالت ہو گئی ہے کسی نے کہا کہ یہ لڑکا دنیا اور  آخرت میں بھلائی پانے والا بنے گا۔

یہود و نصاریٰ کے عالم کی پیشن گوئی

 جاہلیت کے زمانے میں اس قسم کی باتوں کا مطلب میرے سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ مکہ میں ایک شخص اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ میں سے تھا جو بہت گمنام تھا عام لوگ تو اس سے واقف بھی نہیں تھے۔ لیکن قریش کے کچھ سردار اسے پہچانتے تھے اور اس کی بہت عزت کرتے تھے۔

 ایک دن دوپہر کے وقت میں اس کے ہاں گیا اور اس سے جا کر کہا کہ میں آپ سے چند باتیں کرنا چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ آپ ان کو اپنے دل میں راز بنا کر رکھیں اور کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں۔ اس نے ایسا کرنے کا وعدہ کیا تو میں نے اپنے سفر کے تمام واقعات اس کے سامنے بیان کر دیے اور اپنی رشتہ دار خاتون کے خواب کا بھی ذکر کیا۔
جب میں اپنی گفتگو ختم کر چکا تو اس نے کہا کہ ابن خطاب جس کو تم نے محصول کی معافی کا وعدہ لکھ کر دیا ہے وہ اس زمانے میں عیسائیوں کا سب سے بڑا عالم ہے۔ جو کچھ اس نے کہا وہ سب سچ ہے اور جلد ہی وہ سچ تمہارے سامنے آ جائے گا۔ جہاں تک تمہاری رشتہ دار خاتون کے خواب کا تعلق ہے تو اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مکے میں ایک بہت بڑا انقلاب آئے گا۔ زمانہ ایک نئی صورت اختیار کرے گا اور آنے والے زمانے کے آسمان اور زمین بدل جائیں گے۔

قبول اسلام اور خلافت

 میں وہاں سے گھر چلا آیا اور اس کی ساری باتیں اپنے دل میں لیے رہا۔ تھوڑے ہی عرصے کے بعد قریش کی مجلسوں میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ذکر ہونے لگا۔ یہ لوگ اس بات پر چڑتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم اپنے آپ کو اللہ کا رسول کہتے ہیں، لوگوں کو بتوں کی پوجا کرنے سے منع کرتے ہیں اور ایک اللہ کو ماننے پر زور دیتے ہیں۔ جلدی اللہ تعالیٰ نے اسلام کو ظاہر کر دیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ حالات وہی صورت اختیار کر رہے ہیں جس کی طرف آسمانی کتابوں کے عالم شام کے پادری نے اشارہ کیا تھا۔

 نبوت کے چھٹے سال حضرت عمر نے اسلام قبول کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے جان نثار ساتھی بن گئے۔ 11 ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس دنیا سے پردہ فرمایا تو حضرت ابوبکر مسلمانوں کے پہلے خلیفہ بنے۔ 13 ہجری میں انہوں نے وفات پائی تو حضرت عمر خلیفہ بنے۔

 ان کے سفرنامے کی روایت کرنے والے راوی کا بیان ہے کہ حضرت عمر فاروق اپنے خلافت کے زمانے میں شام تشریف لے گئے تھے تو ایک بہت بوڑھا آدمی جس کے بال برف کی طرح سفید ہو چکے تھے۔ عیسائیوں کی ایک جماعت کے ساتھ ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا
کہ اے امیرالمومنین کیا آپ مجھے جانتے ہیں؟

 حضرت عمر نے فرمایا کہ اگر آپ شام کے فلاح نگر کے پادری ہیں تو میں آپ کو پہچانتا ہوں۔

 اس نے کہا کہ جی ہاں میں وہی پادری ہوں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں نے آپ سے لکھ کر جو عہد کیا تھا وہ آج بھی قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذریعے ہمیں عزت بخشی، انہوں نے ہمیں اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ دین اسلام کی طرف دعوت دی اور ہم نے یہ قبول کی آپ ہی نے مجھے ان باتوں سے آگاہ کیا تھا۔ اب آپ کو کون سی چیز اسلام سے قبول کرنے سے روکتی ہے۔ بوڑھے پادری نے حضرت عمر کی باتیں سن کر اسی وقت اپنے ساتھیوں سمیت کلمہ پڑھ کر اسلام کی دولت حاصل کر لی۔

 اللہ تعالیٰ ہم سب کو قلب سلیم عطا فرمائے اور قرآن وحدیث پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین 

Leave a Comment