چار بےوقوف بھائیوں کی مزاحیہ کہانی

چار بےوقوف بھائیوں کی مزاحیہ کہانی جسے پڑھ کر آپ یقیناً لطف اندوز ہوں گے۔

پرانے وقتوں میں کسی گاؤں میں ایک آدمی رہتا تھا۔ جس کے چار بیٹے تھے اور اس نے ایک گھوڑا بھی پال رکھا تھا۔ جب وہ آدمی مر گیا تو اس کے بیٹوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ گھوڑے کو کاٹ کر ان میں سے ہر ایک گھوڑے کا ایک ایک پاؤں لے لے۔ لیکن اختلاف یہ تھا کہ باقی جسم کو کس طرح بانٹا جائے کیونکہ وہ چاروں بے وقوف تھے۔

 اسی اثنا میں ایک شخص کا وہاں سے گزر ہوا اس نے ان سے پوچھا بھائیو آپ میں کس بات پر اختلاف ہے مجھے بتاؤ۔ ہو سکتا ہے میں تمہارے مسئلے کو حل کرنے کی کوئی راہ نکال لوں۔ ان بھائیوں میں سے ایک بولا کہ اس گھوڑے کو ہم برابر برابر کس طرح بانٹیں؟ اس شخص نے کہا اس گھوڑے کو فروخت کر کے رقم آپس میں بانٹ لو ۔

چاروں بھائی اس بات پر رضامند ہو گئے اور گھوڑے کو بیچنے کے لیے روانہ ہو گئے۔ سفر کے دوران ایک جنگل میں رات ہو گئی۔ چاروں بھائی دن بھر کے تھکے ماندھے تھے لیٹتے ہی انہیں نیند آگئی۔ جب وہ گہری نیند سوئے ہوئے تھے تو رات کے کسی پہر ایک چور وہاں نکلا۔ اس نے دیکھا کہ چاروں آدمی بے خبر پڑے خراٹے بھر رہے ہیں۔ وہ آہستہ سے گھوڑے کی طرف بڑھا، اس نے گھوڑے کی رسی کھولی اور آہستہ سے گھوڑے کو بھگا کر وہاں سے لے گیا۔

 تھوڑی دیر بعد ایک بھائی کی آنکھ کھلی تو اس نے دیکھا کہ گھوڑا وہاں سے غائب ہے۔ جلدی سے اس نے دوسرے بھائیوں کو بھی جگایا اور بتایا کہ ہمارا گھوڑا چوری ہو گیا ہے۔ ایک بھائی نے انگڑائی لیتے ہوئے کہا سو جاؤ رمضان خان لے گیا ہوگا صبح اس سے لے لیں گے۔ صبح چاروں اٹھ کر روانہ ہو گئے۔

 راستے میں انہوں نے ایک اونٹ کے پاؤں کے نشانات دیکھے تو ان چاروں بھائیوں میں سےایک کہنے لگا یہ اونٹ کے پاؤں کے نشانات ہیں۔ ان میں سے ایک نے کہا بھائی یہ کسی نر اونٹ کے نشانات ہیں۔ دوسرے نے کہا بھائی یہ اونٹ تو ایک آنکھ سے اندھا بھی لگتا ہے۔ پھر وہ اگے بڑھ گئے۔

 ابھی کچھ ہی دور گئے ہوں گے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص پریشان حالت میں آ رہا ہے۔ اس نے ان سے پوچھا بھائی آپ لوگوں نے یہاں کوئی اونٹ تو نہیں دیکھا ہے؟ تو ان میں سے ایک نے کہا نر اونٹ۔ دوسرے نے کہا ایک آنکھ سے اندھا بھی تھا۔ تیسرے نے کہا مہار کو توڑ کر نکل بھاگا تھا۔

 اس شخص نے کہا تم بالکل ٹھیک کہتے ہو اونٹ کہاں دیکھا ہے تم نے۔ اس پر انہوں نے ایک زبان ہو کر کہا ہم نے اونٹ تو نہیں دیکھا تم اگے جا کر ڈھونڈو اس نے کہا بھائیو تمہارے پاس اونٹ کے متعلق اس قدر معلومات ہیں اور پھر بھی تم انکار کر رہے ہو بھلا یہ کیا بات ہوئی ہو نہ ہو تم ہی میرے اونٹ کے چور ہو چلو بادشاہ کے حضور چلو وہی اس بارے میں فیصلہ کریں گے۔ چاروں بھائی اور پانچواں اونٹ کا مالک بادشاہ کے دربار کی طرف روانہ ہو گئے۔

 راستے میں انہیں ایک انسان کے پاؤں کے نشانات نظر آئے۔ چاروں بھائیوں میں سے ایک نے کہا یہ عورت کے پاؤں کے نشانات ہیں۔ دوسرے نے کہا یہ گھر سے ناراض ہو کر نکلی ہے۔ تیسرے نے کہا بھائی یہ تو عورت حاملہ بھی لگتی ہے یعنی اسے بچہ ہونے والا ہے۔

 باتیں کرتے ہوئے جب یہ آگے بڑھے تو ایک اور شخص سے ملاقات ہوئی۔ اس نے پوچھا راستے میں بھائیو تم لوگوں نے کسی عورت کو تو نہیں دیکھا۔ ایک بھائی نے کہا شاید ناراض ہو کر گھر سے نکلی تھی۔ اس نے کہا ہاں ہاں۔ دوسرے نے کہا میرے خیال میں حاملہ بھی تھی۔ اس نے کہا ہاں بالکل درست کہہ رہے ہو۔ تیسرے نے کہا کہ عشاء کے وقت کے گھر سے بھاگ گئی ہے۔ آدمی نے کہا ہاں بالکل ٹھیک۔ پھر چاروں نے یک زبان ہو کر کہا ہم نے تو اسے نہیں دیکھا جا کر کہیں اور تلاش کرو۔ اس نے کہا تمہاری بات پر میں کیسے یقین کروں جبکہ پہلے تم لوگوں نے اس کے متعلق سب معلومات بالکل درست پہنچائیں اور اب کہہ رہے ہو کہ ہمیں اس کے بارے میں معلوم نہیں وہ عورت یقینا تم لوگوں کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا اگر تمہیں ہم لوگوں پر شک ہے اور ہماری بات پہ تمہیں اعتبار نہیں تو ہمارے ساتھ تم بھی بادشاہ کے پاس چلو کہ وہ اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کریں۔

 چنانچہ وہ شخص ان کے ساتھ چل پڑا چلتے چلتے وہ ایک شہر میں پہنچ گئے۔ ایک گلی میں انہوں نے ایک شخص سے پوچھا بھائی رمضان خان کا گھر کہاں ہے۔ اسی وقت ایک گھر سے ایک شخص نکلا اور اس نے کہا رمضان خان میں ہوں کہو کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کل رات تم ہمارا گھوڑا لے گئے تھے وہ ہمیں واپس کر دو۔ اس نے کہا تم لوگ پاگل ہو، احمق ہو بھلا میں کیسے تمہارا گھوڑا لے گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر تمہیں انکار ہے تو چلو بادشاہ کے پاس وہی فیصلہ کریں گے۔

 اب یہ سب بادشاہ کے دربار میں پہنچ گئے بادشاہ نے پوچھا تم لوگ کیوں آئے ہو ،کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم انصاف کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں۔ پھر انہوں نے بادشاہ کو ساری باتیں باری باری بتائیں۔

 اونٹ کے مالک نے کہا جناب ان لوگوں نے پہلے میرے گمشدہ اونٹ کے متعلق سب معلوماتیں درست پہنچائیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہم نے اسے نہیں دیکھا، میرے اونٹ کو چرانے والے یقینا یہی لوگ ہیں مجھے انصاف چاہیے۔

 دوسرے نے کہا میری بیوی رات کو گھر سے نکلی ہے ان لوگوں نے اس کے متعلق بالکل صحیح معلومات دیں اور ساتھ ہی کہتے ہیں کہ ہم نے اسے دیکھا تک نہیں۔ میری بیوی کو اغوا کرنے والے یہی چاروں ہیں   اور کوئی نہیں۔

 بادشاہ نے ان چاروں سے پوچھا تم کیا کہنا چاہتے ہو۔ انہوں نے جواب دیا حضور ہماری بات پہلے دھیان سے سن لیں رات کو رمضان خان نے ہمارا گھوڑا چرا لیا۔

 رمضان خان نے کہا عالی جا مجھے اس کے متعلق بالکل معلومات نہیں۔ مجھے یہ لوگ ناحق پکڑ کر لائے ہیں۔

 بادشاہ نے ان سے پوچھا جس وقت رمضان خان گھوڑا چوری کر کے لے جا رہا تھا تم میں سے کس نے اس کو دیکھا۔ انہوں نے کہا حضور ہم میں سے کسی نے اس کو نہیں دیکھا۔ پھر بادشاہ نے کہا جب تم نے اس کو دیکھا تک نہیں تو اس کو کیوں کر مردے الزام ٹھہرا رہے ہو اور یہ دوسرے جو تم کو اپنے مقدموں میں ملزم ٹھہرا رہے ہیں اس کی صفائی میں بھی تم کچھ کہنا چاہتے ہو ۔

ان چاروں بیوقوف بھائیوں نے کہا حضور یہ لوگ ہم پر تہمت لگا رہے ہیں ہم مجرم نہیں ہیں۔ دراصل ہم علم غیب جانتے ہیں ہمیں سب کچھ اس علم کے ذریعے معلوم ہوتا ہے۔

 بادشاہ نے کہا میں تمہارا امتحان لینا چاہتا ہوں آیا واقعی تم لوگ علم غیب جانتے ہو یا نہیں۔ اس کے لیے میں کسی ایک چیز کے اندر ایک دوسری چیز چھپا کر رکھوں گا اگر تم لوگوں نے ٹھیک ٹھیک بتا دیا تو میں سمجھوں گا کہ واقعی تم علم غیب جانتے ہو اور بے قصور ہو۔

 پھر بادشاہ نے انار منگوایا اور اس کو ایک صندوق میں بند کر کے ان سے پوچھا بتاؤ کہ صندوق کے اندر کیا چیز ہے۔

 وہ ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ سب سے بڑے بھائی نے کہا کوئی گول گول سی چیز ہے۔ دوسرے بھائی نے کہا اس کے سر پر کوئی گیند نما چیز ہے۔ تیسرے نے کہا اس کے بیچ میں دانے دانے ہیں۔ چوتھے نے کہا کہہ کیوں نہیں دیتے کہ صندوق میں انار ہیں۔

 اب بادشاہ کو یقین ہو گیا کہ وہ سچ کہتے ہیں اور غیب کا علم جانتے ہیں۔ چنانچہ اس نے رمضان خان سے کہا کہ ان کا گھوڑا واپس کر دو یا اس کی قیمت ادا کر دو اور دوسروں سے کہا کہ تم جا کر اپنا اونٹ اور بیوی تلاش کرو کیونکہ یہ لوگوں کو واقعی علم غیب جانتے ہیں۔

 رمضان خان سے گھوڑے کی قیمت وصول کر کے انہوں نے اس رقم سے بھیڑ بکریاں خریدیں اور اپنے گاؤں کی طرف روانہ ہوئے۔ دوپہر کے وقت وہ ایک جنگل میں پہنچے وہاں درختوں کے سائے تھے اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا تھی یہ لوگ تھک کر چور چور ہو گئے تھے اس لیے وہیں بے خبر پڑھ کر سو گئے۔ تھوڑی دیر بعد جب ایک بھائی کی آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ایک لیلہ یعنی کہ ایک چھوٹا بھیڑ ایک چھوٹے سے درخت پر چڑھا ہوا ہے اور بھیڑیں چگالی کر رہی ہیں۔ اس نے اپنے بھائیوں سے کہا کہ چپکے سے اٹھنا۔ انہوں نے پوچھا کیوں بھئی اس نے کہا کہ بکریاں ڈنڈے توڑ رہی ہیں اور بھیڑیں ہمیں مارنے کے لیے آپس میں صلاح مشورہ کر رہی ہیں۔ چاروں بھائی وہاں سے بھاگ نکلے اور بھیڑ بکریوں کو انہوں نے وہیں چھوڑ دیا۔ ایک لیلہ ان کے پیچھے پیچھے بھاگنے لگا تو ایک نے پتھر اٹھا کر اس لیلے پر دے مارا اور کہنے لگا بھائیو ایک کو تو میں نے مار دیا ہے اب جتنی جلدی ہو سکے یہاں سے بھاگ نکلو ۔

جب یہ بہت دیر تک بھاگتے رہے تو تھک گئے اور ان کا سانس پھولنے لگا۔ اتنے میں ایک گھڑ سوار کا وہاں سے گزر ہوا۔ اس نے ان سے پوچھا ارے بھائی کیا ہوا کیوں بھاگ رہے ہو۔ انہوں نے ایک زبان ہو کر کہا ہماری بکریاں ڈنڈے توڑ رہی تھیں اور بھیڑیں آپس میں ہمیں مارنے کے لیے صلاح مشورہ کر رہی تھی۔

 اب ذرا دیکھو تو ہم سب پورے ہیں یا نہیں یہ کہہ کر چوتھے بھائی نے گننا شروع کیا تو اپنے آپ کو گننا بھول گیا اور کہنے لگا ہم تو تین ہوئے ہمارا چوتھا بھائی گم ہو گیا ہے۔ دوسرے نے کہا ٹھہرو میں گنتا ہوں۔ پھر اس نے گننا شروع کیا۔ یہ ایک، یہ دو، یہ تین اور ہم میں سے واقعی چوتھا غائب ہے۔ اور اسی طرح باری باری چاروں نے گنتی کی اور ہر ایک نے اپنے آپ کو نہیں گنا اور یہ سمجھتے رہے کہ چوتھا بھائی کہیں گم ہو گیا ہے۔ 

گھوڑ سوار نے کہا اگر میں تم لوگوں کی گنتی پوری کر دوں تو۔ انہوں نے کہا پھر ہم سب آپ کے غلام بن جائیں گے جہاں آپ ہمیں لے جائیں گے ہم آپ کے ساتھ جائیں گے۔

 گھوڑ سوار نے پہلے ایک بھائی کے ہاتھ کو پکڑا اور اس کو ایک طرف کر کے کہنے لگا یہ ایک۔ پھر دوسرے کا ہاتھ پکڑا اور کہا یہ دو ۔وہ اسی طرح گنتا گیا اور چار کے گنتی پوری کی۔ اس پر چاروں بھائی خوش ہو گئے اور کہنے لگے کہ ہم آج سے آپ کے غلام ہیں۔

 اس پر گھوڑ سوار نے کہا اب میرے ساتھ چلو تاکہ تمہاری بھیڑ بکریوں سے تمہاری صلح کرا دوں۔ یہ سب جب اس طرف جا رہے تھے تو راستے میں وہ لیلا نظر آیا جس کو انہوں نے مارا تھا۔ انہوں نے اس شخص کو بتایا کہ یہی وہ لیلا ہے جسے ہم نے مار دیا تھا۔ اس کے بعد جب بھیڑ بکریوں کے ریوڑ پر ان کی نظر پڑی تو وہ بھاگ کھڑے ہوئے۔ گھوڑ سوار بھیڑ بکریوں کے قریب گیا اور ان میں سے ہر ایک کے سر پر تھپکی دی۔ پھر ان بھائیوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگا اب بھیڑ بکریاں تمہیں کچھ نہیں کہیں گی۔ اس کے بعد انہیں کہا کہ آؤ تم بھی میرے ساتھ چلو ۔

گھوڑ سوار بھیڑ بکریوں کو لے کر اپنے گھر پہنچا۔ چاروں بھائی پہلے ہی اس کی غلامی قبول کر چکے تھے وہ بھی اس کے ساتھ آگئے۔  اس نے ان میں سے ایک سے کہا کہ تم ریوڑ چرانے لے جاؤ۔ دوسرے سے کہا کہ بیلوں کے اس جوڑے کے لیے گھاس کاٹ کر لاؤ اور ان کو کھلاؤ۔ تیسرے سے کہنے لگا کہ تم میری ماں کا خیال رکھو یہ بیمار ہے۔ تم خیال رکھنا کہ کہیں مکھیاں اس پر نہ بیٹھ جائیں اور جب میری ماں کو کسی چیز کی ضرورت پڑے تو اسے دے دینا۔ چوتھے سے کہا کہ تم گندم کی فصل کی کٹائی کر کے ایک جگہ سلیقے سے رکھنا۔

 مختلف کام ان چاروں کے سپرد کر کے وہ خود اپنے کاروبار میں مصروف ہو گیا۔ جس بھائی کے ذمے مکھی اڑانے کا کام تھا وہ ڈنڈا لے کر بیٹھ گیا۔ جب گھوڑ سوار کی ماں پر کوئی مکھی بیٹھتی تو وہ اسے ڈنڈے سے مارتا۔ وہ بیچاری چیختی چلاتی۔ تین چار ڈنڈے لگنے کے بعد وہ ادھ موئی ہو گئی اور پھر دم توڑ گئی۔ جب وہ بالکل ساکت ہو گئی تو اس نے سوچا کہ اب وہ آرام کر رہی ہے۔ اب اس پر چادر ڈال دی اور خود ایک طرف ہو کر بیٹھ گیا۔

 جس بھائی کے ذمہ بیلوں کو چارہ کھلانا تھا اس نے اپنے دل میں سوچا مجھ سے اس قدر کام نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا اس نے فوراً دونوں بیلوں کو ذبح کر کے ان کے منہ بھوسے میں گاڑ دیے کہ اب خود کھاتے رہیں۔

 گندم کی فصل پر جس بھائی کی ڈیوٹی تھی۔ اس نے سوچا کہ یہ تو بڑا اور محنت طلب کام ہے کیوں نہ ان دانوں کو بھون دیا جائے۔ یہ سوچ کر اس نے پوری گندم کی فصل کو آگ لگا دی۔

 اب چوتھے بھائی کا واقعہ سنیں جو بھیڑوں کو لے گیا تھا۔ وہ بھیڑیں چرا رہا تھا کہ اچانک ایک دو بھیڑیے ادھر آن نکلے اور بھیڑوں کو کھانے لگے۔ اس نے سوچا کہ اس گاؤں کے کتے کیسے بھوکے ہیں جو بھیڑوں کو کھا جاتے ہیں اور ان کے مالک ان کو کچھ نہیں دیتے وہ بھیڑوں کو وہیں چھوڑ کر خود واپس لوٹ آیا۔

 دوپہر کو جب گھوڑ سوار گھر پہنچا تو ایک بھائی سے پوچھا میری ماں کی اچھی طرح سے خدمت کی ہے نا۔ اس نے کہا جناب کیا پوچھتے ہیں آپ جب سے  گئے ہیں اس وقت سے آرام کر رہی ہیں۔ جب اس نے چادر اٹھا کر دیکھا تو ماں کا چہرہ خون آلود ہے اور وہ مر چکی ہے۔ اس نے اس بھائی کا کام دیکھا تو پریشان ہو گیا۔ اس نے سوچا کہ دیکھوں دوسرے بھائیوں کی خبر لینی چاہیے کہ انہوں نے کیا گل کھلائے ہیں۔ جب اس نے بیل والے سے پوچھا تم نے کیا کیا ہے۔ اس نے کہا ابھی تک بیلوں کے منہ بھوسے میں دیے ہوئے ہیں تاکہ وہ خود ہی کھاتے رہیں۔ جب دیکھا تو ان کے سر کٹے ہوئے اور بوسے میں گھسے ہیں۔ اس کے بعد اس نے فصل والے سے پوچھا کیا تم نے فصل کی کٹائی کر دی۔ تو اس نے خوشی خوشی بتایا کہ مجھے خیال آیا کہ آپ کی ماں بوڑھی ہے بھلا روٹی کہاں پکا سکے گی۔ میں نے گندم کو بھون لیا ہے۔ جب گڑ سوار نے دیکھا تو گندم کی پوری فصل کو  جلا ہوا پایا۔ چوتھے سے پوچھا کہ بھیڑ بکریاں کہاں ہیں۔ تو اس نے کہا  اس شہر کے کتے بے حد بھوکے ہیں آج تک ایسے بھوکے کتے میں نے نہیں دیکھے۔ وہ آکر بکریوں کو کھانے لگے ہیں میں نے ان پر ترس کھایا اور انہیں ایسا کرنے سے نہیں روکا۔

 گھوڑ سوار نے سب کی باتیں سنی تو اپنا سر پیٹ لیا اور پھر چاروں کو طلب کر کے ان سے کہا۔ تم لوگوں نے مجھے اس قدر نقصان پہنچائے ہیں کہ میری آئندہ نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔ تم لوگوں نے میری ماں کو مار ڈالا اور میرے کاروبار کو تباہ کر دیا۔ خیر تم ہو ہی بے وقوف میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔ تم ایسا کرو کہ بیلچا گینتی لے کر قبرستان چلے جاؤ اور وہاں ایک ایسی قبر تیار کرو جس کی لمبائی کان برابر ہو۔ چاروں بھائی قبر کھودنے کے لیے قبرستان روانہ ہو گئے۔ ایک نے گینتی ماری اور دوسرے نے اپنا کان وہاں رکھا اور کہنے لگا یہ قبر تو بڑی بن گئی۔ غرض یہ کہ باقی بھائی بھی کان رکھنے لگے اور اسی طرح کہتے گئے کہ قبر کان سے بڑی بن گئی۔ انہوں نے سوچا کہ گھوڑ سوار پہلے ہی بگڑا ہوا ہے اگر قبر بڑی بن گئی تو وہ اور زیادہ بگڑ جائے گا۔ یہ سوچ کر وہ واپس گھر پہنچے تو گھوڑ سوار بڑا حیران ہوا کہ یہ لوگ اس قدر جلدی واپس آگئے۔ اس نے ان سے پوچھا کہ تم نے قبر بھی کھو دی یا ایسے ہی واپس آگئے ہو۔ تو انہوں نے کہا جناب یہ کوئی مشکل کام تو نہیں ہے ہم تو قبر کھود آئے ہیں۔ اس نے کہا اس میں تو کافی وقت لگتا ہے معلوم نہیں تم لوگوں نے اتنی جلدی قبر کیسے کھود لی؟ پھر اس نے کہا چلو مجھے دکھاؤ۔

 جب قبرستان میں پہنچے تو قبر ڈھونڈنے لگے مگر اب جگہ نظر نہیں آرہی تھی۔ جب اپنی دانست میں وہ قبر کھود گئے تھے وہ جگہ کیا نظر آتی۔ جبکہ ایک ہی گینتی انہوں نے ماری تھی۔ اگر قبر کھودی ہوتی تو اس کی مٹی یقیناً دور سے نظر آ جاتی۔ قبر ڈھونڈتے ڈھونڈتے کافی وقت لگ گیا بالآخر انہیں وہ جگہ مل گئی۔ تب انہوں نے اس شخص سے کہا کہ یہاں آئیے یہ رہی قبر۔ اس نے جب دیکھا تو کہا تم لوگوں نے تو کمال کر دیا۔ اس میں انسان کی لاش بھلا کہاں آ سکتی ہے یہ تو مٹھی بھر قبر ہے۔ پھر بولا تم لوگ جا کر میری ماں کی لاش لے آؤ میں خود اس کے لیے قبر کھودوں گا۔

 وہ چاروں گئے اور مردے کو چارپائی پر رکھ دوڑتے ہوئے قبرستان کی طرف آئے۔ مگر راستے میں مردہ ماں چارپائی پر سے کہیں گر گئی۔ قبرستان پہنچ کر جب انہوں نے چارپائی رکھی تو ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ گھوڑ سوار نے پوچھا لاش لے آئے ہو۔ انہوں نے جواب دیا جناب ہم لاش لا رہے تھے لیکن راستے میں وہ کہیں بھاگ گئی۔ کیونکہ اب ہم یہاں پہنچ گئے ہم نے جو دیکھا تو چارپائی خالی پڑی ہے۔ اس نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مردہ بھاگ جائے۔ پھر غصے میں بولا جاؤ اور میری ماں کو جس طرح ممکن ہو سکے لے کر آؤ ورنہ اس کی جگہ تمہیں یہاں زندہ گاڑ دوں گا۔

 وہ مردہ لینے جا رہے تھے کہ راستے میں ایک بڑھیا نظر آئی جو لکڑیاں اکٹھی کر رہی تھی۔ انہوں نے اس سے کہا کہ تم یہاں لکڑیاں اکٹھی کر رہی ہو ادھر تمہارا بیٹا ہمیں زمین میں زندہ گاڑنے کی دھمکیاں دے رہا ہے چلو ہمارے ساتھ۔ چاروں نے اس بڑھیا کو زبردستی پکڑ کر چارپائی پر لٹا دیا اور قبرستان کی طرف روانہ ہو گئے۔ وہ بوڑھی عورت بیچاری چیختی چلاتی رہی مگر انہوں نے اس کی ایک نہ سنی۔ جب قبرستان پہنچے تو گھوڑ سوار سے کہنے لگے یہ لو اپنی ماں اب اس کو سنبھالو ہم تو مفت میں بدنام ہو رہے ہیں یہ تو ابھی بھی نہیں آرہی تھی ہم اسے زبردستی پکڑ کر لائے ہیں۔

 گھوڑ سوار نے جب بڑھیا کو دیکھا تو اس سے معافی مانگی اور یہ کہہ کر اسے گھر جانے کی اجازت دے دی کہ ان لوگوں نے میری مردہ ماں کو کہیں گرا دیا ہے اور اس کی جگہ تمہیں اٹھا کر لے ائے ہیں۔ اس کے بعد وہ خود اپنی ماں کی تلاش میں نکلا اور اس کی لاش کو کہیں سے ڈھونڈ کر لایا۔

Leave a Comment