ہر قدم پر درود وپاک پڑھنے والے نوجوان کا ایمان افروز واقعہ

امام سفیان ثوری رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میرے ساتھ ایک شخص حج پر تھا ۔میں نے جب بھی اس کو دیکھا کہ وہ اپنے سفر کے دوران حتیٰ کہ طواف کے دوران اور منیٰ میں، عرفات میں، مزدلفہ میں جہاں بھی گئے وہ قدم نہیں اٹھاتا تھا جب تک ہر قدم پہ درود پاک نہ پڑھ لے۔ ہر ہر قدم پہ درود پاک پڑھتا تھا۔ امام سفیان ثوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے پوچھا کیا آپ یہ جو عمل کر رہے ہیں ہر قدم پہ درود پاک پڑھتے ہیں اور پھر دوسرا قدم رکھتے نہیں جب تک درود پاک نہ پڑھ لیں۔ کیا آپ کسی حدیث اور کسی روایت جو شرعی علم ہے،سند ہے کسی علمی سند کی بنیاد پر یہ کام کرتے ہیں؟ 


 اس نے کہا ہاں میں علم شرعی کی سند کی بنیاد پر یہ کام کرتا ہوں۔ اس نے پوچھا اے پوچھنے والے آپ کون ہیں ۔وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ امام سفیان ثوری ہیں۔ اتفاق سےجیسے حج پر آپس میں ساتھی مل جاتے ہیں ہم سفر ہو جاتے ہیں۔ آپ کون ہیں ؟ میں نے کہا میں سفیان الثوری ہوں۔

  اس نے پوچھا سفیان ثوری جو عراق کے ہیں یعنی جو جلیل القدر امام ہیں۔

میں نے کہا ہاں ۔

اس کے بعد اس نے کہا کہ میں نے درود پاک ہر قدم پہ پڑھنے کا وظیفہ اس وجہ سے شروع کیا کہ میں ایک سال پہلے  میں اپنی والدہ کے ساتھ حج کرنے آیا تھا۔ میری والدہ نے مجھے کہا دوران طواف کہ بیٹے میری خواہش ہے کہ مجھے کعبۃ اللہ کے اندر داخل کرو ،میں کعبۃ اللہ کے اندر جا کے عبادت کروں ۔(دروازہ کھلا ہوگا جو اس زمانے کھول دیتے تھے یہ تو تابعین کے بعد اتباع و تابعین اور سلف صالحین کا زمانہ ہے) تو میری والدہ نے خواہش کی بس میں نے اپنی والدہ کو اٹھا کے کعبۃ اللہ کے دروازے سے گزار کے اندر داخل کیا ۔جونہی کعبۃ اللہ کے اندر میری والدہ داخل ہوئی اس کا پیٹ پھول گیا ،متورم ہو گیا اور چہرہ سیاہ ہو گیا اور اس حالت میں میں پھر اس کے پاس پریشان ہو کر بیٹھ گیا۔ چہرہ متورم ہے ،چہرہ بالکل سیاہ ہو گیا اور پیٹ پھول گیا ہے اور قریب مرگ اس کی حالت ہو گئی ہے۔

میں پریشان ہو کے بیٹھ گیا، میں نے ہاتھ اٹھائے کہ باری تعالیٰ اب اس حالت میں اپنی والدہ کو کہاں لے کے جاؤں اور کعبۃ اللہ سے باہر
بھی نکالوں تو بڑی شرم ساری ہے سب لوگ طواف کرنے والے کیا کہیں گے۔

 اس حالت پریشانی میں میں تھا کہ اچانک سفید لباس پہنے ہوئے نورانی چہرے کے ساتھ کوئی شخص اندر داخل ہوا اور اندر آ کر اس شخص نے میری والدہ کے چہرے کی طرف اشارہ کیا چہرہ روشن ہو گیا سفید نور کے ساتھ ۔پھر میری والدہ کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اس کا بطن بھی بالکل اس کی سوجن اور سویلنگ نارمل ہو گیا پھر اس کی مرض ختم ہو گئی اور شفایاب اور صحت یاب ہو گئیں ۔جب وہ نورانی چہرے والے میری ماں کو شفایاب کر کے اس کے چہرے کو منور روشن کر کے اور اس کی ورم دور کر کے جانے لگے تو میں آگے دوڑا۔

میں نے عرض کیا اے میرے غم اور میری پریشانی کو اور میری مصیبت کو ختم کرنے والے آپ ہیں کون ؟بتائیں تو صحیح .

انہوں نے جواب دیا میں تیرا نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم  ہوں۔ 

اور اس کی والدہ کی عادت کیا تھی کہ اس کی والدہ کثرت کے ساتھ آقا علیہ السلام پر درود و سلام پڑھا کرتی تھی۔ کثرت سے درود و سلام پڑھتی تھی ۔اس کے دیگر اعمال کی وجہ سے وہ گرفت میں آگئی مواخذہ ہو گیا قریب اس کے کہ وہ مر جاتی یا اسی حال میں رہتی تو آقا الصلوۃ والسلام نے کثرت سے درود پاک کا صلہ آ کے عطا فرمایا ۔

تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب آپ نے اتنا بڑا کرم کر دیا تو مجھے  کوئی نصیحت کر جائیے حکم دے جائیے میں کیا کیا کروں زندگی میں۔ آپؐ نے فرمایا اے بندے، اے میری امتی ایک ہی نصیحت ہے کہ کوئی قدم نہ رکھنا نہ اٹھانا جب تک ہر قدم پہ مجھ پہ درود و سلام نہ پڑھ لے۔ اس دن سے میں ہر قدم پر آقا علیہ السلام پر درود و سلام پڑھتا ہوں یہ وظیفہ مجھے آپ علیہ السلام کی بارگاہ سے نصیب ہوا۔۔۔ 

1 thought on “ہر قدم پر درود وپاک پڑھنے والے نوجوان کا ایمان افروز واقعہ”

Leave a Comment