16 Ahadith of the Holy Prophet / Read and refresh your faith

 

16 Ahadith of the Holy Prophet
Read and refresh your faith


1:      نماز میں شیطان کی مداخلت

بخاری شریف میں حدیث
مبارکہ ہے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو
شیطان آ کر اس کے ذہن میں وسوسے پیدا کرتا ہے۔ جسے ہم شبہ پیدا کرنا کہتے ہیں تو
اکثر کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔ اگر تمہارے ساتھ کبھی
ایسا اتفاق ہو تو تم بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لیا کرو یعنی وہ جسے ہم سجدہ صہو کہتے
ہیں۔
(بخاری حدیث= 1232)

2:      
جنت کی زندگی کیسی ہوگی؟

  جنتیوں کے
متعلق حضور اکرم صلی اللہ علیہ ہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں رہنے والوں کے
جسم پر بال نہیں ہوں گے، نہ تو ان کی داڑھی ہوگی اور ان کی آنکھیں سْرمگی ہوں گی
،نہ تو ان کی جوانیاں ختم ہوں گی اور نہ ہی ان کے کپڑے کبھی بوسیدہ ہوں گے۔ سبحان
اللہ  
(مشکوٰۃالمصابہ حدیث 5638)

3:     صرف تین مقام پہ جھوٹ بولنا جائز اور حلال ہے

کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر
کوئی شخص اپنی بیوی کو راضی کرنے کے لیے چھوٹ بولے تو یہ جھوٹ بولنا جائز بھی ہے
اور حلال بھی ہے؟ جی ہاں  رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ
تین جگہ بولے جانے والا جھوٹ جائز ہے اور حلال ہے ایک  یہ کہ آدمی جھوٹ بولے
تاکہ اپنی بیوی کو راضی کر لے اور دوسرا جنگ کے دوران بولے جانے والا جھوٹ اور
تیسرا لوگوں کے درمیان صلح کروانے کے لیے بولے جانے والا جھوٹ۔ یہ تین جھوٹ ایسے
ہیں جو انسانیت کی بھلائی کے لیے ہیں۔ بے شک اسلام بڑا خوبصورت مذہب ہے۔
(جامعہ
ترمذی حدیث نمبر 1939 چیپٹر 28)

4:     
    قابل رشک لوگ

 کیا آپ جانتے ہیں
کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ  وسلم کے مطابق قابل رشک کون لوگ ہیں؟ حضور نے
فرمایا دو لوگ قابل رشک ہیں ۔ہم دنیا دار لوگ ہیں ہم اپنے نظریے سے دیکھتے ہیں ہم
کسی کے پاس مال و زر ہو ،کسی کے پاس بڑی شہرت ہو، کوئی بڑا نام رکھتا ہو تو ہم
کہتے ہیں کہ یہ بندہ تو قابل رشک ہے۔ کسی کے پاس خوبصورتی ہو تو ہم کہتے ہیں یہ
قابل رشک ہے۔ جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دو آدمی قابل رشک
ہیں ۔ایک یہ کہ جسے اللہ نے قرآن کا علم عطا کیا اور اسے پھر وہ دن رات تلاوت کرتا
رہا اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے مال عطا کیا اور وہ دن اور رات اسے اللہ کی راہ
میں خرچ کرتا رہا ۔یہ وہ دو ادمی ہیں کہ جن پر آپ رشک کر سکتے ہیں۔ اب میں اور آپ
اپنا محاسبہ کریں کیا ہم میں ایسی کوئی چیز ہے کہ ہم قابل رشک ہوں۔ اللہ کریم عمل
کی توفیق عطا فرمائے۔ امین
(بخاری، مسلم، ابن ماجہ  )

5:   موت کی تمنا
کرنا کیسا؟

 اکثر لوگ باتوں
باتوں میں کہہ دیتے ہیں کہ کاش مجھے موت آجائے یعنی موت کی تمنا کرنا ۔حضور اکرم
صلی اللہ علیہ ہ وسلم نے موت کی تمنا کرنے سے سختی سے منع فرمایا۔ حضور ؐنے فرمایا
کہ موت کے بعد کا سماں ہولناک اور سخت ہے۔ اور یہ تو سعادت کی بات ہے کہ کسی بندے
کی عمر دراز ہو جائے تاکہ اللہ اسے اپنی طرف لوٹنے کی مہلت دے دے ۔یہ حدیث پاک کا
مفہوم ہے اس لیے ہم جو کبھی اکتا جاتے ہیں اور موت کی تمنا کرتے ہیں یہ گناہ ہے
اور مایوسی تو کفر ہے۔ قران کریم میں اللہ ارشاد فرماتا ہے کہ میری رحمت سے مایوس
مت ہونا جتنے مرضی گناہ کر لو ، اے بندے خود پہ زیادتیاں کر بیٹھے ہو جتنی مرضی کر
لو لیکن یہ مت کرنا کہ مایوسی کر بیٹھو۔  
(مشکوٰۃالمصابہ 1613)

6:    قسم
کھانے کے متعلق

 حضور اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے باپ داداؤں کے نام کی قسم نہ کھایا کرو اگر کسی
کو قسم کھانی ہے تو اللہ کے نام کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔  ایک اور روایت
ہے کہ سودا بیچنے کے لیے کوئی دکاندار اگر قسم کھائے اس سے سامان تو جلدی بک جاتا
ہے لیکن اس قسم کھانے کی وجہ سے اس میں برکت ختم ہو جاتی ہے ۔ ایک اور روایت ہے کہ
اگر کسی کو قسم کھانی ہے تو اللہ کے نام کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے اور جس نے
اللہ کے نام کے سوا قسم کھائی اس نے شرک کیا ۔
(صحیح بخاری حدیث 7401)

7:   شام ہوتے ہی اپنے بچوں کو روک لیں

نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب رات پھیلنے لگے یا رات کا اندھیرا شروع ہونے لگے تو
اپنے بچوں کو اپنے گھروں میں روک لیا کرو۔ اس وقت اپنے بچوں کو باہر نہیں بھیجنا
کیوں؟ حضور نے فرمایا کہ اس وقت شیاطین زمین پر پھیلنے لگتے ہیں اور جب عشاء کے
وقت میں سے ایک گھڑی گزر جائے تو پھر ان کو چھوڑ دو کہ چلیں پھریں۔ اور اللہ کا
نام لے کر دروازہ بند کر دو ۔اور اللہ کا نام لے کر چراغ بجا دو اور اللہ کا نام
لے کر پانی کے برتن ڈھک دو اور اسی طرح اللہ کا نام لے کر دوسرے برتن بھی ڈھک دیا
کرو۔ امتی ہونے کے ناطے ہماری زندگی کا وہی معمول ہونا چاہیے جو اسوہ حسنہ ہمارے
لیے ہے۔
  (صحیح بخاری حدیث 3280)

8:    قیامت کب
قائم ہو گی؟

جب ایک شخص نے حضور اکرم
صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ یا رسول اللہؐ قیامت کب قائم ہوگی تو حضور
ؐنےاس شخص سے سوال کیا کیا تم نے قیامت کی تیاری کر لی ہے؟ تو اس پر وہ شخص نے عرض
کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  میں نے قیامت کے لیے بہت زیادہ نمازیں،
روزے اور صدقات تیار نہیں کر رکھے لیکن یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ ہ وسلم میں
اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں۔ تو اس پر حضور
ؐنے ارشاد فرمایا کہ پس تم جس کے ساتھ محبت رکھتے ہو اسی کے ساتھ رہو گے۔ قربان یا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضور سے محبت اور اللہ کی محبت کا عالم یہ ہے
کہ انسان اگر اعمال میں کھوٹا بھی ہو اور محبت سچی ہو تو ایمان یہ ہونا چاہیے کہ
بخشش ہو جائے گی ۔
(صحیح بخاری حدیث  6171)

9: احد پہاڑ سے محبت

خیبر سے واپسی پر حضور
اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو احد پہاڑ دکھائی دیا تو حضور ؐنے ارشاد فرمایا کہ احد
ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم احد پہاڑ سے محبت رکھتے ہیں۔ پتھر بھی دل رکھتا ہے یہ
احد نے بتایا ہے۔ اور پھر حضور نے ارشاد فرمایا کہ اے اللہ ابراہیم علیہ السلام نے
مکہ مکرمہ کو حرمت والا شہر قرار دیا اور میں ان دو پتھریلے میدانوں کے درمیان
والے علاقے یعنی شہر مدینہ منورہ کو حرمت والا شہر قرار دیتا ہوں۔ سبحان
اللہ
  (صحیح بخاری حدیث 4084)

10: کھانے میں مکھی گر
جائے تو

اگر آپ کے کھانے یا پینے
والی چیز میں مکھی گر جائے تو پھر آپ نے کیا کرنا ہے؟  حضور اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر مکھی تمہارے کھانے پینے والی چیز میں گر جائے
تو اس کو پہلے ڈبو دو اور پھر باہر نکال کر پھینک دو کیونکہ مکھی کے ایک پر میں
بیماری اور دوسرے پر میں شفا ہوتی ہے۔
(بخاری شریف  حدیث نمبر 3320)

  مجھے یاد ہے
کہ جب میں چھوٹا تھا مجھے بتایا گیا کہ تم اگر مکھی گر گئی ہے تو اس کو نکال کے
باہر پھینک دو اور پھر اس چیز کو استعمال کر لو تو مجھے لگا کہ شاید یہ مذاق ہو
رہا ہے۔ لیکن جب حدیث مبارکہ پڑھی اس کے بعد شک کی گنجائش  باقی نہیں رہتی
کیونکہ یہ فرمان علی شان مصطفی کریم اقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ہے۔ اس سے
پہلے بہت سی باتیں ایسی ہیں کہ جب سائنس اربوں ڈالر خرچ کر کے اس نقطے پر پہنچتی
ہے، دروازہ کھولتی ہے تو سامنے سنت نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم پہلے سے موجود
ہوتی ہے۔

11: ایک عورت کا تنہا سفر
کرنا

  تن و تنہا
سفر کرنے والی عورتیں ذرا حضور اکرم صلی اللہ علیہ ہ وسلم کا یہ فرمان سن لیں
۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا  کہ کوئی بھی عورت تین
دن کا سفر تب تک نہ کرے جب تک اس کے ساتھ اس کا کوئی محرم رشتہ دار نہ ہو۔ 
اب آپ دیکھ لیں کہ ہمارے ارد گرد بہت سی برائیاں ان باتوں سے بھی جنم لے رہی ہیں
کہ ہم نے جو ہمارا دین اسلام ہمیں جو خوبصورتی کے ساتھ بیان کرتا ہے ہم اس کے
منافی چلتے ہیں، ہم اس کے برعکس چلتے ہیں اور پھر نقصان بھگتتے ہیں اور پھر پشیمان
ہوتے ہیں۔
(صحیح بخاری حدیث 1087)

12:  بدگمانی رکھنا

 کسی دوسرے اپنے
مسلمان مومن بھائی کے لیے اپنے دل میں بدگمانی رکھنا اللہ کریم سورہ حجرات میں
ارشاد فرماتا ہے کہ اے ایمان والو تم زیادہ بدگمانی سے بچو اس لیے کہ بعض
بدگمانیاں گناہ ہیں۔ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم
بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے ہم میں سے بہت سے ایسے لوگ ہیں
جو کسی کو کسی غلطی، کسی گناہ پر دیکھیں تو دل بدگمان کر بیٹھتے ہیں۔ یہ نہیں
سوچتے اگر خلوت میں ،تنہائی میں اس شخص نے اللہ سے توبہ حاصل کر لی تو ہم تو ابھی
تک اس کے بارے میں اپنے دل میں بدگمانی لیے بیٹھے ہیں جبکہ اللہ نے تو اسے معاف کر
دیا ہے۔ اور خواہ مخواہ ہم کسی کے بارے میں کسی سے کوئی بات سن لیں تو اس بدگمانی
پر گرہ لگا کے دل میں بیٹھ جاتے ہیں۔ اللہ معاف کر دیتا ہے انسان معاف نہیں کرتے۔
بدگمانی سے بچا کریں ۔اللہ آسانی حاصل اور تقسیم کرنے کا شرف عطا فرمائے۔امین

13: غیب کی خبریں بتانے
والوں کے پاس جانا

 کسی بھی جالی پیر
فقیر کے پاس جانے سے پہلے اس حدیث مبارکہ کو ضرور پڑھ لیجئے گا حضور اکرم صلی اللہ
علیہ ہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کسی بھی غیب کی خبریں سنانے والے کے پاس اگر کوئی
شخص جاتا ہے اور اس سے کوئی بات پوچھے تو 40 راتوں تک اس شخص کی نماز قبول نہیں ہوگی
۔اور نماز ایک افضل عبادت ہے اگر نماز ہی قبول نہیں تو اس کے علاوہ کون سی نیکی ہے
جو قبول ہوگی ۔

اب آپ خود حساب لگائیں کہ
ہمارے اطراف میں کتنے جالی پیر فقیر اور شعبدہ باز لوگ بیٹھے ہیں جو آپ کو طرح طرح
کی باتیں بتاتے ہیں۔ گو کہ وہ آپ کو جھوٹ ہی بتاتے ہیں لیکن آپ اس نیت سے جاتے ہیں
کہ آپ ان سے کچھ جان سکیں۔ تو یاد رکھیں آپ کی 40 روز کو یہ عبادت قبول نہیں ہوگی۔
اس لیے احتیاط برتیں۔
(صحیح مسلم حدیث 5821)

14: کسی تنگدست قرضدار سے
صلہ رحمی

  ترمذی شریف
کی حدیث مبارکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی
تنگدست قرضدار کو کچھ مہلت دے یا اس کا کچھ قرض معاف کر دے تو  ﷲ  قیامت
کے روز اسے اپنے عرش کے سائے کے نیچے جگہ دے گا اور اس روز اللہ کے عرش کے سائے کے
علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہوگا ۔
(جامع ترمذی 1306)

15: منافق کا انجام

صحیح بخاری کی حدیث
مبارکہ(6058) میں ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ ہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم قیامت کے روز
اس شخص کو سب سے برے حال میں پاؤ گے جو کچھ لوگوں کے سامنے ایک رخ سے گیا اور دوسروں کے
سامنے دوسرے رخ سے گیا یعنی ڈول دوغلہ پن، منافقت رکھنا۔

“عشق قاتل سے بھی اور مقتول سے
ہمدردی بھی”

“یہ تو بتا کس سے محبت کی جزا
مانگے گا”

“اور سجدہ خالق کو بھی اور ابلیس سے یارانہ بھی”

“یہ بھی بتا کس سے عقیدت کا
صلہ مانگے گا”

 یعنی ہم آدھا تیتر
اور آدھا بٹیر ہیں۔ پورے پورے اسلام میں داخل نہیں ہوئے جبکہ اللّٰہ قرآن میں فرماتا ہے
کہ اے مسلمانو ،اے مومنو!  ;اسلام میں پورے پورے داخل ہو جاؤ؛۔

16: لمحہ فکریہ

٫آخری زمانہ میں حق
اور سچ بات کہنے والوں کو بے وقوف سمجھا جائے گا، جبکہ دھوکے باز اور مکار کو
ہوشیار اور چالاک سمجھا جائے گا، . الحدیث

  

Leave a Comment