A silent message || ایک خاموش پیغام

ایک خاموش پیغام
ایک خاموش پیغام

ایک بادشاہ دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا تو اس کا گزر ایک ایسی سلطنت سے ہوا جہاں کا ماحول بڑا پر سکون تھا ۔وہاں کے باشندوں نے جنگ کا نام تک نہیں سنا ہوا تھا،وہاں کے باشندے شہنشاہ کو مہمان بنا کر اپنے سردار کی جھونپڑی میں لے گئے۔ 

سردار نے شہنشاہ کا بڑا پرجوش استقبال کیا ۔تھوڑی دیر بعد وہاں پہ دو قبائلی فریق حاضر ہوئے۔ یہ جھونپڑی عدالت کا کام بھی کرتی تھی۔ تو پہلے فریق نے کہا کہ سردار میں نے اس سے زمین خریدی اس کے پیسے اس کو دیے۔ ہل چلانے کے دوران اس میں سے خزانہ نکل آیا کیونکہ میں نے اس کو صرف زمین کے پیسے دیے ہیں۔ اس خزانے پہ میرا کوئی حق نہیں بنتا میں یہ اسے لوٹانا چاہتا ہوں لیکن یہ لے نہیں رہا ۔

جبکہ دوسرے فریق نے کہا کہ میں نے اس کو صرف زمین بیچی اور اس کے پیسے لے لیے۔اب اس میں سے خزانہ نکلے ،پانی نکلے، گیس نکلے اس کے اوپر میرا کوئی حق نہیں بنتا۔لہٰذا میں  اس سے یہ نہیں لے سکتا ۔

سردار نے بڑے غور سے سننے کے بعد پہلے فریق سے کہا کہ تمہارا کوئی بیٹا ہے۔

 اس نے کہا جی ۔

سردار نے دوسرے فریق سے پوچھا تمہاری کوئی بیٹی ہے۔

 اس نے بھی اس بات میں ساری ہلا دیا۔

 سردار نے کہا ان دونوں کی شادی کروادو اور یہ خزانہ ان کے حوالے کر دو۔

شہنشاہ بڑا حیران ہوا اور فکر مندی کی سوچ میں مبتلا ہو گیا ۔سردار نے پوچھاکہ آپ میرے فیصلے سے مطمئن نہیں ہو  تو شہنشاہ نے کہا نہیں ایسی بات تو نہیں ہے لیکن یہ میرے لیے حیران کن ضرور ہے۔ کیونکہ ہمارے ملک میں اگر ایسا کوئی مقدمہ آتا تو وہ اس طریقے سے آتا کہ پہلا فریق کہتا کہ میں نے اسے زمین خرید لی ہے اس کو پیسے دے دیے ہیں اس میں جو خزانہ نکلا ہے وہ میرا ہے لیکن یہ مجھ سے لینا چاہتا ہےتو میں اس کو نہیں دے سکتا کیونکہ زمین تو میں نے خریدی ہے۔ جبکہ دوسرا فریق کہتا کہ یہ زمین کے صرف میں نے پیسے لیے ہیں خزانے کے پیسے تو نہیں لیے تو یہ جو خزانہ نکلا ہے وہ میرا ہے اور یہ مجھے دیتا نہیں ہے۔

 تو سردار نے کہا کہ آپ اس کا کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

شہنشاہ نے کہا کہ ہم دونوں فریقین کو حراست میں لے لیتے اور خزانہ شاہی خزانے میں جمع کروا دیتے ہیں۔

 سردار براہ حیران ہوا اور پوچھنے لگا کہ آپ کے ملک میں سورج روشنی دیتا ہے۔

 اس نے کہا جی بالکل دیتا ہے۔

 سردار نے دوسرا یہ پوچھا کہ وہاں بارش بھی ہوتی ہے۔

 اس نے کہا جی بالکل ہوتی ہے۔

 سردار حیرانگی میں اس نے کہا کہ اچھا مزید آپ یہ بتاتے جائیں کہ وہاں کوئی ایسے جانور بھی ہیں جو گھاس اور چارہ کھاتے ہیں۔

 تو شہنشاہ نے کہا ہاں جی بالکل ہیں ۔

تو سردار نے کہا او خوب اب میں سمجھا۔ کیونکہ نا انصافی والی سرزمین پر ان جانوروں کے توسط سے سورج روشنی دے رہا ہے اور بارش کھیتوں کو سیراب کر رہی ہے۔

 شاید ہمیں بھی ان جانوروں کے توسط  سے ہوا اور پانی میسر ہے۔ 

Leave a Comment