A wise goldsmith and a cunning thief || ایک عقلمند سنار اور ایک چالاک چور

ایک عقلمند سنار اور ایک چالاک چور
A wise goldsmith and a cunning thief


چور اور سنار

ایک جوہری تھا سنارہ. تو اس نے مختلف ڈبیاں کھول کے لوگوں کے سامنے رکھیں  اور ایک موتی نکال کر کے کہا کہ یہ موتی شب افروز ہے یعنی  رات کو چمکتا ہے اور اس وقت دنیا میں جو قیمتی ترین موتی ہیں ان میں سے ایک موتی یہ میرے پاس ہے. خیر اس نے اپنا سامان سمیٹا تو اس مجلس میں ایک چور بھی بیٹھا ہوا تھا اس کے دل میں لالچ آ گئی تو اس نے اس جوہری سے کہا کہ جناب کہاں کے ارادے ہیں .تو اس نے کہا کہ میں بمبئی جا رہا ہوں اس نے کہا واہ واہ کیا اچھا ہوا میں بھی تو بمبئی جا رہا ہوں .تو چلو اکٹھا سفر ہوگا.

 وہ جوہری سمجھ گیا اس کی نیت کے کھوٹ کو کہ یہ میرا ہمسفر تو نہیں ہے اس کا دل آگیا ہے اس موتی پہ اور مجھ سے ہر صورت یہ موتی چرانا چاہتا ہے. لیکن وہ بھی بڑا سمجھدار تھا اس نے کہا آجائیے کوئی بات نہیں. سفر چلتا رہا رات ہوئی جب سامان اتارا اور سونے کی تیاری کی تو وہ جو اس نیت سے ساتھ ہم سفر بنا تھا اس نے بھی اپنی قمیض اتار کے لٹکا دی اور اس جوہری نے بھی .اس جوہری نے یوں کیا کہ نظر بچا کے وہ ڈبیا قیمتی موتی والی نکال کر کے اس کی جیب میں ڈال دی  اور خود بے فکر ہو کے سو گیا.

 جب یہ خراٹے لینے لگا تو چور اٹھا اس کا سامان ٹٹولا ،اس کی جیبیں دیکھیں، سارا دیکھتا رہا لیکن موتی  اس کو نہ ملا خیر دن چڑھ گیا.

 جوہری اٹھا اس نے نظر بچا کر کے اس کی جیب میں ہاتھ ڈال کر کے وہ موتی اپنی جیب میں ڈال لیا. صبح جب ناشتے پہ بیٹھے تو اس چور نے باتوں ہی باتوں میں بات کی وہ آپ کے موتی کی چمک چمک نظر نہیں آئی رات کو. تو وہ ہنس کے کہنے لگا نہیں میرے پاس ہی تو ہے اس نے  جیب سے نکال کے سامنے رکھ دیا.چور  دل ہی دل میں بڑا حیرت  زدہ ہوا کہ میں نے تو سارا سامان ٹٹولا یہ اگر یہیں تھا تو مجھے کیوں نہیں ملا. چلو آج سے اگلا دن آیا تو پھر اس نے قمیض اتار کے رکھی اور اس نے نظر بچا کے اس کی قمیض میں وہ موتی ڈال دیا اور خود بے فکر ہو کے سو گیا. یہ ساری رات اس کے سامان میں، اس کے لباس میں تلاش کرتا رہا اور وہ مزے سے سویا رہا . جوہری صبح اٹھا اور نظر بچا کےوہ موتی اپنی جیب میں ڈال لیا. ناشتے پہ پھر بات کی کہ وہ آج بھی کوئی چمک چمک دکھائی نہیں دی. اس نے کہا میرے پاس ہی ہے جیب میں ہاتھ ڈالا اور سامنے رکھ دیا. چور پھر  بڑا حیرت  زدہ ہوا دل ہی دل میں سوچا چلو کل صحیح .اس نے پھر ایسے کیا اور یہ ساری رات اس کا سامان ٹٹولتا رہا پوری تفصیل کے ساتھ .خیر جب صبح ہوئی تو اس نے پھر نظر بچا کے اپنی جیب میں وہ موتی رکھ لیا تھا. تو اس نے پھر پوچھا وہ رات والا موتی آپ کا نظر نہیں آیا جس کو آپ کہتے تھے چمکتا ہے کہاں ہے. جوہری نے کہا  وہ ڈبیا میں رکھا ہے اس لیے چمک دکھائی نہیں دی، تھا تو میرے پاس ہی اور جیب میں ہاتھ ڈالا سامنے رکھ دیا .

چور سر پکڑ کے بیٹھ گیا میں روز اس کی جیب ٹٹولتا ہوں، سامان بھی دیکھتا ہوں یہ رکھتا کہاں ہے میں نے تو کوئی جگہ نہیں چھوڑی. اس نے کہا سچ بتاؤں میں تیرا ہمسفر نہیں تھا میں چور تھا میں تم کو بتا رہا ہوں اب آپ میرے بھی استاد نکلے مجھے اتنا بتاؤ کہ یہ موتی آپ رکھتے کہاں تھے؟ میں ساری رات ٹٹولتا رہا اور تین دن ہو گئے مجھے میں نے کوئی گوشہ نہیں چھوڑا آپ کا سامان کھول کھول کے دیکھا ہے، آپ کا لباس الٹ پلٹ کے دیکھا لیکن مجھے ملا ہی نہیں ہے رکھتے کہاں تھے مجھے یہ تو بتاؤ .

اس نے کہا لوگوں کی جیبیں  ٹٹولتے رہے اپنی جیب میں ہاتھ ہی نہیں ڈالا 

بلے شاہ اڈ دیاں پھڑنا ایں جیڑا گھر بیٹھا ے انو پھڑیا ہی نہیں 

کہا تم کہاں اسے ڈھونڈ رہے ہو ذرا اندر بھی اتر کے دیکھو .اندر اتر و گے   تو اس کا سراغ مل جائے گا 

نہ مسجد وچ ،نہ مندر وچ لبھ یار نو ں اپنے اندر وچ 

جب اپنے اندر اترو گے تو پھر سوراخ زندگی نصیب ہو جائے گا. عرفان ذات ہوگا تو پھر عرفان الہی نصیب ہو گا .لیکن ہم دائیں بائیں ڈھونڈنے نکلے لیکن اپنے اندر اتر کے نہ دیکھا. تو سراغ زندگی ملتا ہی تب ہے جب اس کی چوکھٹ پہ جھکنا بندہ سیکھ جاتا ہے.تو اس کی چوکھٹ پہ جھک کر کے زندگی کی سربلندی حاصل کیجیے اور مقصد زندگی حاصل کیجیے .

Leave a Comment