Allah ki narazi ki nishani by Molana Raza Saqib Mustafae//نماز پنجگانہ

اللّٰہ                تعالیٰ کی ناراضگی  کی نشانیاں

اللّٰہ تعالیٰ جس پر  ناراض ہوتا ہے اس کا آ ب و دانہ بند نہیں کرتا ،سورج کو حکم نہیں کرتا کہ اس کے آنگن میں روشنی نہیں پھیلانی، چاند کو نہیں روکتا کہ تیری کرنیں اس کے ویڑے میں نہیں پڑنی چاہیے بلکہ اللہ جب کسی سے ناراض ہوتا ہے  تو سجدوں کی توفیق چھین لیتا ہے۔ سجدوں کی توفیق چھن گئی تو پھر سمجھو اللہ ناراض ہے ،اللہ راضی نہیں ہے اور اگر سجدوں کی توفیق نصیب ہو جائے کسی نے واصف علی واصف مرحوم سے پوچھا تھا کہ کیسے ہمیں پتہ چلے گا کہ ہماری نماز قبول ہو گئی ہے تو انہوں نے کہا تھا ایک نماز کے بعد دوسری عطا ہو جائے تو سمجھ لو پہلی قبول ہو گئی ہے ۔تو نمازوں کا نصیب ہونا یہ اللّٰہ کی رضا اور اللہ کی خوشنودی کی دلیل ہے اور سجدوں کی توفیق کا چھن جانا یہ اللہ کی ناراضگی کی دلیل ہے۔

 میں اور آ  پ دیکھیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ دیکھیے دولت تو کفار کو بھی ملتی ہے اللہ دولت اسے بھی دیتا ہے جس سے راضی ہے اسے بھی دیتا ہے جس سے  راضی نہیں۔ لیکن سجدوں کی توفیق اسے ہی دیتا ہے جس پہ وہ راضی ہے۔ تو پنجگانہ نماز اپنا شعار  زندگی بنا لیجئے ،نماز قضا نہ ہونے پائے ۔قیامت کے دن بے نمازی اس صف میں کھڑا ہوگا جس صف میں نمرود کھڑا ہوگا ،جس صف میں ہامان کھڑا ہوگا ،قارون کھڑا ہوگا ،شداد کھڑا ہوگا ۔

مجھے بتائیے ہم میں سے کوئی یہ گوارا کرتا ہے ہم سب اس  میں کھڑے کر دیے جائیں جہاں دشمنان خدا کھڑے ہوں ۔آج کوئی نماز پڑھے یا نہ پڑھے حشر کے دن حکم ہوگا کہ اللہ کے حضور سجدہ کرو ہر کوئی سجدہ کرنا چاہے گا  جو نہیں پڑھتا وہ بھی کرنا چاہے گا لیکن بے نمازی کی کمر اکڑ جائے گی وہ آرزو رکھنے کے باوجود سجدہ نہیں کر پائے گا ۔

قرآن بتاتا ہے کچھ لوگ جہنم کو دھکیلے جا رہے ہوں گے انہیں کچھ لوگ پوچھیں گے تم جہنم کو کیوں جا رہے ہو کیا ہوا تمہیں تو وہ جواب میں کیا کہیں گے ہم نماز نہیں پڑھا کرتے تھے ۔ قیامت کے دن جو بندے سےسب سے پہلا حساب  لیا جائے گا وہ نماز کا ہی ہو گا پہلا سوال بندے سے یہ ہوگا ۔

 چڑیاں بھی رب کی تسبیح بولیں اور اشرف المخلوقات سویا رہے جب صبح کا وقت ہوتا ہے۔ حشرات الارض بھی بلوں سے نکل کے رب کی تقدیس کے ترانے پڑھ رہے ہوتے ہیں، درختوں کی شاخوں پہ چڑیاں پرندے وہ بھی اللہ کی تقدیس کے ترانے پڑھ  رہے ہوتے ہیں، حشرات الارض بھی اس کی تقدیس کے گیت گا رہے ہوتے ہیں اور اشرف المخلوقات خراٹے لے رہا ہو، اس سے بڑی بدنصیب بھی کیا ہو سکتی ہے۔

 آئیے پنجگانہ نماز شعار زندگی بنا لیں اس مجلس میں اگر کوئی بے نمازی ہے تو آج عزم مصمم کر کے یہاں سے لوٹیں کہ آج کے بعد نماز نہیں چھوڑوں گا اور اگر آپ پنجگانہ نماز کی عادت رکھتے ہیں تو آپ کو مبارک ہو لیکن یہ عزم کر کے جائیے اپنے گھروں میں اپنے عز و اقرباء اور اپنے دوست احباب کو اس زور سے تلقین اور تاکید کریں گے  کہ وہ پکے نمازی بن جائیں گے.

 بندہ بندگی سے سجتا ہے زندگی آمد برائے بندگی ،زندگی بے بندگی شرمندگی.اگر زندگی میں بندگی نہیں تو زندگی کے پلے ہے کیا. علماء نے لکھا ہے کہ یہ سارے درخت حالت قیام میں ہیں ،چوپائے حالت رکوع میں ہیں ،مینڈک تشہد میں ہیں اور حشرات الارض سجدے میں ہیں اور انسان اشرف المخلوقات ہے ۔اس کی عبادت میں درختوں کا قیام بھی رکھا گیا اور رکوع بھی رکھے گئے اور سجدے بھی رکھے گئے اور قعدے بھی رکھے گئے اس لیے تاکہ اس کی عبادت تمام مخلوقات کی عبادات کی جامع بن جائے۔ لیکن یہ اس کے باوجود اللہ کے حضور سجدہ ریز ہونا پسند نہ کرے تو بتائیے کیسے رحمتیں اس کے اوپر اتریں گیں۔

 خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو پنجگانہ نماز ادا کرنے کے بعد نماز تہجد بھی قضا نہیں ہونے دیتے۔ سجدوں سے اللہ کے حضور حاضری پیش کرتے ہیں۔ سب سے زیادہ بندہ اللہ کے اس وقت قریب ہوتا ہے جب سجدے میں سر رکھا ہوا ہوتا ہے۔ انسان کے اشرف اعضاء اس کے سر میں ہیں بولنے کی قوت زبان سر میں، دیکھنے کی قوت آنکھیں سر میں، سونگنے کی  قوت
ناک سر میں، چکھنے کی قوت زبان سر میں، سننے کی قوت کان سر میں، سوچنے کی قوت دماغ سر میں اور سر مالک کے در پہ ناک بھی رگڑ رہا ہے، پیشانی بھی رگڑ رہا ہے اور زبان سے کیا کہہ رہا ہے سبحان ربی الاعلی مالک مجھ سے نیچے کوئی نہیں تیرے سے بالا کوئی نہیں۔ انسان کو بندگی کا ذوق جب نصیب ہو جاتا ہے جب اس کے حضور بندہ جھکنے لگ جاتا ہے تو پھر وہ کسی کے آگے نہیں جھکتا وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ہزار سجدے سے آدمی کو دیتا ہے نجات۔

 حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی مرویات سے ہے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ جس کی بہتری کا ارادہ کرتا ہے اس کو دین میں سمجھ عطا کر دیتا ہے سبحان اللہ اس کو دین میں فقاہت نصیب کر دیتا ہے۔ دولت کا کثرت سے مل جانا یا نہ ملنا یہ کوئی بات نہیں ہے دولت اللہ انہیں بھی دیتا ہے جن پہ راضی ہوتا ہے اور انہیں بھی دیتا ہے جن پہ ناراض ہوتا ہے۔ قارون کو دولت دی، فرعون کو دولت دی بادشاہت بھی دی، ہامان ہے، شداد ہے، شدید ہے کتنے کتنے دولت مند اور تخت و تاج کے مالک گزرے اللہ ان پہ راضی نہیں تھا لیکن ان کو بھی دولت دی جن پہ راضی تھا حضرت عثمان غنی کو دولت عطا کی، حضرت عبدالرحمن ابن عوف رضی اللہ تعالی عنہ کو صحابہ میں سب سے زیادہ دولت مند حضرت عبدالرحمن ابن عوف تھے ان کو بھی دولت عطا کی اور بھی لوگوں کو ۔حضرت سلیمانؑ کو پیغمبری بھی دی ،دولت بھی دی ،بادشاہت بھی دی۔ تو دولت وہ اسے بھی دیتا ہے جس پہ راضی ہوتا ہے اور دولت اسے بھی دیتا ہے جس سے راضی نہیں بھی ہوتا۔ لیکن فقاہت فی الدین دین کی سمجھ صرف اسے دیتا ہے جس پہ راضی ہوتا ہے۔ تو جس کو دین کا فہم دے دیا گیا دین کی سمجھ دے دی گئی اللہ تعالی اس پہ راضی ہے۔ جس کی بھلائی چاہتا ہے، جس کی بہتری چاہتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ جل شانہ دولت دین دے دیتا ہے اور دین کی سمجھ عطا کر دیتا ہے۔

 حضور علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک اور فرمان سن لیجئے جو ایسے راستے پہ چلا جس میں وہ علم کی تلاش کرتا تھا جو علم طلب کرنے کے لیے کسی راہ کا مسافر ہوا تو وہ جنت کے راستے پہ چلا ہے جتنے قدم اٹھاتا ہے وہ جنت کی طرف قریب ہوتا چلا جاتا ہےٗ۔ تو راہ علم کے سفر میں اللہ نے اتنی برکتیں رکھی ہیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اللہ نے اختیار دیا یا دولت لے لو یا بادشاہت لے لو یا پھر علم  لے لو ان تین چیزوں میں اللہ نے ان کو ایک چیز اختیار کرنے کا اختیار دیا یا دولت لے لو یا بادشاہت لے لو یا علم لے لو ۔انہوں نے کہا مالک مجھے علم دے دے کہا اچھا تو نے علم کو اختیار کیا دولت اور بادشاہت اس کے صدقے دے دی ۔سبحان اللہ 

ایک زمانے میں ایک ملک نے دوسرے ملک پر قبضہ کر لیا تو جو بادشاہ وقت تھا اس کو گرفتار کر لیا ۔تو جب گرفتار کر کے دربار میں لایا گیا تو وہ جو دوسرے ملک کا محکوم بادشاہ تھا وہ سامنے کھڑا ہے تو اس نے اس کو کہا کہ میں بھی چونکہ بادشاہ ہوں اور تم بھی اس سلطنت کے شہنشاہ رہے ہو تو میں تمہیں قتل نہیں کرتا تمہیں معاف کرتا ہوں اور اب اس ملک میں میں تمہیں کوئی عہدہ دینا چاہتا ہوں اب تم بتاؤ تم کون سا عہدہ قبول کرو گے۔ اب ہمارے حکمران ہوتے ہیں وہ کہتے  وزیر خزانہ لگا دو لیکن اس نے کہا مجھے معلم لگا دو مجھے ٹیچر لگا دو تو وہ بادشاہ ہنس پڑا کہنے لگا پھر دوبارہ بادشاہی چاہتے ہو ۔تو یہ بادشاہی ہے یہ شہنشاہی ہے۔ تو جو راہ علم پہ چلا وہ جنت کے راستے پہ چلا اللہ اس کے لیے جنت کی راہیں بھی آسان کر دیتا ہے اور دنیا پہ بھی اللہ تعالی اس کو عزتوں سے نوازتا ہے۔ تعلیم و تعلم کا جہان حقیقی جہان ہے۔

 تو باقاعدہ آٹھ سال کا کورس کرے یہ تو ہر شخص کے لیے ممکن نہیں ہے لیکن سب کے اوپر لازم ہے کہ وہ ضروریات دین سیکھے۔ ان میں نماز ،روزہ ،حج ،زکوۃ اگر کاروبار کرتا ہے تو کاروبار کے مسائل۔اسی طرح کفر و اسلام، بنیادی عقائد یہ وہ چیزیں ہیں جو ہر ایک شخص کے اوپر سیکھنی واجب ہے اور ضروری ہے۔ تو ان کو سیکھنے کے لیے علمی حلقوں میں جانا بیٹھنا علماء کی صحبت میں بیٹھنا یہ اپنے اوپر لازم کر لیں۔

 

1 thought on “Allah ki narazi ki nishani by Molana Raza Saqib Mustafae//نماز پنجگانہ”

Leave a Comment