An Arab chief who bought a girl for a camel | islaami waqiat

 

An Arab chief who bought a girl for a camel
Islami waqiat

اونٹ
کے عوض بچی خریدنے والے ایک عرب سردار کا ایمان افروز واقعہ…..

صحابی رسول حضرت صعصعه بن ناجیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ اسلام قبول کرنے سے پہلے بھی آپ کے پاس بہت مال تھا۔ بڑے مالدار شخص تھے، آپ
کی حویلی میں اکثر مسافر قیام کیا کرتے تھے۔ ایک ایسا گھر جہاں سے ہر سائل کو کچھ
نہ کچھ کھانے کو عطا کر دیا جاتا۔

 حضرت صعصعه بن
ناجیہ نے جب اسلام قبول کیا، دروازے رسول صلی اللہ علیہ ہ وسلم پر تشریف لے آئے،
حضور نے کلمہ پڑھایا تو عرض کرنے لگے کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم
حضور زمانہ جاہلیت میں اسلام قبول کرنے سے پہلے جو میں نے نیکیاں کی تھیں۔ کیا
اللہ مجھے ان نیکیوں کا بھی اجر عطا کرے گا۔ قربان جاؤں مصطفی کریم آقا نے پوچھا
تو نے کون سی نیکی کی ہے۔

 تو حضرت صعصعه بن ناجیہ عرض کرتے ہیں محبوبہ ایک روز
میرے دو اونٹ گم ہو گئے تھے۔ میں اپنے تیسرے اونٹ پہ بیٹھا اور اپنے دو اونٹوں کی
تلاش میں نکل گیا۔ جنگل کی دوسری طرف نکل گیا جہاں پرانی بستی تھی۔ تو وہاں ایک
شخص بیٹھا اونٹوں کو چرا رہا تھا۔ میں نے جا کر کہا کہ یہ دو اونٹ تو میرے ہیں تو
وہ کہنے لگا کہ یہ بس چرتے چرتے آکر اس میں شامل ہو گئے تھے۔ اگر تیرے ہیں تو تو
لے جا۔ اتنے میں اس نے پانی بھی منگوا لیا کھجوریں بھی منگوا دی میں بیٹھ گیا اور
پیچھے سے ایک بچے کی رونے کی آواز آنے لگی۔ ایک نومولود بچہ اس نے فورا سے پوچھا
بیٹی آئی ہے کہ بیٹا۔ تو میں نے فٹ سے پوچھ لیا کہ اگر بیٹا آئے گا تو کیا کرو گے
اور اگر بیٹی آئی تو کیا کرو گے؟ تو کہنے لگا کہ اگر بیٹا آئے گا تو قبیلے کی شان
بڑھائے گا۔ لیکن اگر بیٹی آئی تو اسے زندہ درگو کر دوں گا۔ میں اپنے داماد کا غصہ مول نہیں لے سکتا۔ میرے قبیلے کی بڑی بےعزتی ہوگی۔ استغفر اللہ

 یہ زمانہ جاہلیت
کی بات ہے۔ ہمارے بیٹیوں کا حوصلہ دیکھ لے دنیا ہم ان کے سامنے بیٹے دعا میں
مانگتے ہیں۔ تو حضرت صعصہ کہتے ہیں کہ محبوبہ میرا کلیجہ پھٹنے لگا، میرے دل میں
رحم آگیا۔ میں نے اسے کہا کہ اچھا پھر پتہ کرو کہ بیٹی آئی ہے کہ بیٹا۔ اس نے جب
پوچھا تو بتانے والے نے بتایا کہ بیٹی آئی ہے۔ تو میں نے پھر پوچھا کہ تم واقعی
اسے زندہ دفن کرو گے تو وہ کہنے لگا کہ ہاں میں اسے زندہ دفن کر دوں گا۔ تو میرے
دل میں رحم آگیا۔

 نبی خدا میں نے
اسے کہا کہ تو ایسا کر یہ بیٹی دفن نہ کر یہ بیٹی مجھے دے دے تو وہ کہنے لگا کہ
بدلے میں تو ہمیں کیا دے گا۔ تو میں نے کہا کہ تو میرے یہ دونوں اونٹ رکھ لے یہ
بیٹی مجھے دے دے۔ تو وہ کہنے لگا کہ نہیں دو نہیں جس پہ بیٹھ کے تو آیا ہے یہ اونٹ
بھی لوں گا۔ تو میں نے اس شخص سے کہا کہ اچھا ایسا کرو کہ تم کوئی اپنا، کوئی شخص
میرے ساتھ روانہ کرو جو مجھے حویلی تک چھوڑ دے اور واپسی پہ یہ تیسرا اونٹ بھی میں
اس کے حوالے کر دوں گا۔

 یا رسول اللہ صلی اللہ
علیہ ہ وسلم میں نے تین اونٹ دے کر اس بچی کو اپنے ساتھ حویلی میں لے آیا۔ اپنی
کنیز کے حوالے کر دیا وہ اسے دودھ پلاتی کھجور نرم کر کے کھلاتی۔ مجھے جب فرصت
ملتی میں اس کے پاس چلا جاتا۔ محبوبه  وہ  بچی میری داڑھی کے ساتھ
کھیلنے لگتی، میرے سینے کے ساتھ لگ جاتی، مجھے پیار کرتی اور مجھے اس کا اتنا لطف
آنے لگا، اس نیکی میں اتنا مزہ آنے لگا کہ میں پھر بچیاں تلاش کرنے لگا۔ کون کون
سے قبیلے ہیں جو بچیوں کو زندہ دفن کرتے ہیں۔ میں ان قبیلوں میں جاتا تین اونٹ
دیتا اور بچی کو اپنے پاس لے آتا اور اس وقت دو عالم کے تاجدار مدینہ صلی اللہ
علیہ والہ وسلم اس وقت محبوبه میری حویلی پہ 360 بچیاں ہیں۔ جو کھیل رہی ہیں،
پروان چڑھ رہی ہیں۔

 اتنے میں حضور کے
چہرے کی طرف دیکھا تو حضرت صعصعه بن ناجیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں۔ حضور
کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔ مصطفی کریم آقا کی داڑھی مبارک سے آنسو کے قطرے ٹپک
رہے تھے۔ اتنے شفیق آقا ہیں۔ حضور نے آگے بڑھ کر مجھے سینے لگا لیا اور جو سینے
لگا کے پیار کیا اور کہنے لگے کہ یہ تجھے اللّٰہ نے انعام ہی تو دیا ہے۔ یہ تیری ان
نیکیوں کا صلہ ہی تو ہے کہ تجھے دولت ایمان سے سرفراز کر دیا ہے۔ اللہ نے تجھے
قبول کر لیا ہے۔ قربان جاؤں اور پھر حضور نے فرمایا یہ تو وہ انعام ہے جو اللہ نے
تجھے دنیا میں دیا ہے ایک وہ انعام ہے جو کل قیامت کے روز اللہ تجھے عطا کرے گا
قربان یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔۔

 بیٹیوں سے پیار کیجیے یہ حضور ﷺ کی سنت ہے۔۔۔۔                                

 

 

Leave a Comment