Are the prophets alive in the graves?

 

Are the prophets alive in the graves?
Are the prophets alive in the graves?

تاریخ
میں آتا ہے کہ جس جگہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ملک شام کے اندر خیمہ گاڑھا تھا
اسی جگہ حضرت داؤد علیہ السلام نے بیت المقدس کی بنیاد رکھی ۔بیت المقدس کی تعمیر
ابھی مکمل نہیں ہوئی تھی کہ حضرت داؤد علیہ السلام کی وفات کا وقت آن پہنچا ۔حضرت
داؤد علیہ السلام نے یہ ذمہ داری اپنے فرزند حضرت سلیمان علیہ السلام کو دی اور اس
کی تعمیر کا حکم فرمایا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنوں کی ایک جماعت کو اس کی
تعمیر پر اس کے کام پر لگا دیا ۔جنوں کی طبیعت میں چونکہ سرکشی ہوتی ہے وہ حضرت
سلیمان علیہ السلام کے ڈر سے اس کی تعمیر کرتے رہے ابھی تعمیر مکمل نہیں ہوئی تھی
کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کا وقت آن پہنچا ۔لیکن حضرت سلیمان علیہ
السلام نے اللہ کریم سے یہ دعا فرمائی کہ اللہ میری موت جنوں اور انسانوں کی جماعت
پر ظاہر نہ ہو، تاکہ یہ عمارت کی تعمیر میں مصروف عمل رہیں اور جو ان کو علم غیب
کا دعویٰ ہے وہ بھی باطل ٹھہر جائے۔ یہ کہہ کر یہ دعا مانگ کر حضرت سلیمان علیہ
السلام مسجد کے محراب میں داخل ہوئے اور اپنا عصا وہ لاٹھی کی ٹیک لگا کر آپ عبادت
میں مصروف ہو گئے اور اسی حالت میں آپ کی روح پرواز کر گئی۔ آپ کا وصال ہوا لیکن
جنوں کی جماعت یہ سمجھتی رہی کہ حضرت سلیمان علیہ السلام عبادت میں مصروف ہیں اور
ان کو اس لیے بھی عجیب نہ لگا کیونکہ حضرت سلیمان علیہ السلام پہلے بھی دو دو تین
تین ماہ اسی طرح عبادت میں مصروف عمل رہا کرتے۔ جنوں کی جماعت برابر اس کام میں
شریک رہی اور تعمیر نوع میں مصروف رہی۔ تعمیر ہوتی رہی ایک سال تک حضرت سلیمان
علیہ السلام عصا کے سہارے اپنی لاٹھی کی ٹیک لگا کر کھڑے رہے۔ 

                  قرآن
کریم نے بھی اس واقعے کو یوں ہی بیان فرمایا ہے۔ پھر اللہ کے حکم سے دیمک نے اس
لاٹھی کو کھا لیا اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا جسم اطہر زمین پہ آگیا اس وقت
پھر جنوں کی جماعت اور انسانوں کی جماعت کو پتہ چلا کہ آپ کی وفات ہو چکی ہے۔ حضرت
سلیمان علیہ السلام ایک سال کے عرصہ تک اپنے عصا کے سہارے وفات کے بعد یوں ہی کھڑے
رہے اور آپ کے جسم میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ یہی حال تمام انبیاء کا ان کی
قبروں کے اندر ہے کہ اللہ نے زمین پر حرام کر دیا ہے۔ مٹی کو حرام کر دیا ہے کہ وہ
انبیاء کے جسموں کو کھائے۔

            حدیث
پاک جس کو ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد
فرمایا کہ اللہ نے مٹی پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے نبی زندہ
ہیں اور ان کو رزق دیا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ 
 

Leave a Comment