diamond words episode # 01

30 روپے کی روٹی

ایک تندور والا جو روٹی پانچ روپے میں بیچتا تھا۔ اسے روٹی کی قیمت میں اضافہ کرنا تھا لیکن بادشاہ کی اجازت کے بغیر کوئی اس کی قیمت نہیں بڑھا سکتا تھا۔ تو وہ بادشاہ کے پاس گیا اور کہنے لگا بادشاہ سلامت مجھے روٹی کے 10 روپے کرنے ہیں۔

 بادشاہ نے کہا کہ 30 کی کر دو۔

 تندوری نے کہا
بادشاہ سلامت اس سے شور مچے گا، احتجاج ہو گا، مجھے جوتے  پڑیں گے۔

 تو بادشاہ نے کہا
کہ اس کی فکر نہ کرو میرے بادشاہ ہونے کا کیا فائدہ تم اپنا منافع دیکھو اور روٹی 30 کی کر دو۔

 اگلے دن اس نے روٹی کی قیمت 30 روپے کر دی شہر میں کہرام مچ گیا۔ لوگ بادشاہ کے پاس پہنچے اور شکایت کی کہ تندور والا ظلم کر رہا ہے ایک روٹی  30 روپے کی بیچ رہا ہے۔

 بادشاہ نے اپنے سپاہیوں سے کہا کہ میرے دربار میں تندوری کو پیش کرو۔ وہ جیسے ہی دربار میں پیش ہوا۔ بادشاہ نے غصے سے کہا کہ تم نے مجھ سے پوچھے بغیر قیمت کیسے بڑھا دی یہ رعایا میری ہے لوگوں کو بھوکا مارنا چاہتے ہو۔

 بادشاہ نے اسےحکم دیا کہ تم کل سے روٹی  آدھی قیمت پر بیچو گے ورنہ تمہارا سر قلم کر دیا جائے گا۔

 بادشاہ کا حکم سن کر عوام نے اونچی آواز میں نعرہ لگایابادشاہ سلامت زندہ باد۔

 اگلے دن سے 30 کی بجائے روٹی 15 میں بکنے لگی۔ یہ وہی روٹی تھی جو تندوری 10 روپے کی بیچنا چاہتا تھا۔ عوام خوش۔ تندوری خوش، بادشاہ بھی خوش۔

 اب آپ سوچ کر  بتائیں کہ وہ کون سے ملک کی عوام تھی ؟؟؟؟؟؟؟؟

لڑکیوں پر پابندیاں لگانےکی کیا وجہ ہے

 ایک لڑکی نے مولانا صاحب سے کہا کہ مولانا صاحب ایک بات پوچھوں۔

 مولانا صاحب نے فرمایا بولو بیٹی کیا بات ہے؟

 تو لڑکی نے کہا کہ
ہمارے سماج میں لڑکوں کو ہر طرح کی آزادی ہوتی ہے۔ وہ کچھ بھی کریں، کہیں بھی جائیں اس پر کوئی خاص روک ٹوک نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس لڑکیوں کو بات بات پر روکا جاتا ہے یہ مت کرو، یہاں مت جاؤ، گھر جلدی آؤ۔

 یہ سن کر مولانا  صاحب مسکرائے اور فرمایا کہ بیٹی آپ نے کبھی لوہے کی دکان کے باہر لوہے کے گودام میں لوہے کی چیزیں پڑی دیکھی ہیں۔ یہ گودام میں سردی، گرمی، برسات، رات، دن اسی طرح پڑی رہتی ہیں اس کے باوجود ان کا کچھ نہیں بگڑتا اور ان کی قیمت پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لڑکوں کی کچھ اس طرح کی حیثیت ہے سماج میں۔

 اب آپ چلو ایک سنار کی دکان میں۔ ایک بڑی تجوری اس میں ایک چھوٹی تجوری اس میں رکھی چھوٹی خوبصورت سی ڈبی ریشم پر نزاکت سے رکھا چمکتا ہیرا کیونکہ وہ جوہری اچھی طرح جانتا ہے کہ اگر  ہیرے میں ذرا بھی خراش آ گئی تو اس کی کوئی قیمت نہیں رہے گی۔

 اسلام میں بیٹیوں کی اہمیت بھی کچھ اسی طرح کی ہے۔ پورے گھر کو روشن کرتی جھلملاتے ہیرے کی طرح ذرا  سی خراش سے اس کے اور اس کے گھر والوں کے پاس کچھ نہیں بچتا بس یہی فرق ہے لڑکیوں میں اور لڑکوں میں۔

 پوری مجلس میں خاموشی چھا گئی اس بیٹی کے ساتھ پوری مجلس کی انکھوں میں چھائی نمی صاف صاف بتا  رہی تھی لوہے اور ہیرے میں فرق۔

آخری قہقہ

ابلیس نے آدم اور حوا کو ممنوعہ پھل کھانے پر قائل کر کے جنت سے نکلوا دیا تو قہقہ لگایا۔ لیکن آدم اور حوا نے معافی کی درخواست قبول ہونے اور روئے زمین پر خلیفہ مقرر ہونے کے بعد شکریہ ادا کیا لیکن قہقہ نہیں لگایا۔

 نمرود نے ابراہیم کو آگ میں پھینکا اور قہقہ لگایا اور حکم خداوندی سے آگ گلزار بن گئی۔ ابراہیم اٹھے خدا کا شکر ادا کیا لیکن قہقہ نہیں لگایا۔

 یوسف کو بھائیوں نے کنویں میں پھینکا، غلام کے طور پر بیچ دیا اپنے تئیں ان سے جان چھڑائی اور قہقہ لگایا۔ یوسف  مصر کے حکمران بن گئے خدا کا شکر ادا کیا لیکن قہقہ نہیں لگایا۔

 فرعون نے بنی یعقوب کے لڑکے مار دیے، انہیں غلام بنا لیا فرار ہوتے قافلوں کے سامنے آبی رکاوٹ دے کر قہقہ لگایا۔ موسیٰ دریا کے پار اترے۔ فرعون کو ڈوبتے دیکھا خدا کا شکر ادا کیا لیکن کہ قہقہ نہیں لگایا۔

 سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والہ وسلم مکہ سے اس حال میں نکلے کہ تن کے کپڑوں کے سوا کچھ پاس نہیں تھا مکہ والوں نے اسے اپنی جیت قرار دیا اور قہقہ لگایا۔ آٹھ برس بعد مولائے کل فاتح کے طور پر اسی شہر میں اس طرح داخل ہوئے کہ سر مبارک احساس شکر کے ساتھ اس قدر جھکا ہوا تھا کہ اونٹنی کے کوہان سے ٹکراتا تھا سب سرکش سزا کے منتظر تھے لیکن رحمت اللعالمینؐ نے عام معافی دے دی لیکن قہقہ نہیں لگایا۔

 عارضی کامیابیوں پرقہقہ لگانا ابلیس، نمرود، برادران یوسف، فرعون اور ابو جہل کا وتیرہ ہے جبکہ آدم، ابراہیم، یوسف، موسیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم جانتے تھے کہ تمام اختیارات اس ذات باری تعالیٰ کے پاس ہیں جسے زوال نہیں۔ وہ بلندی کس کام کی جس پر انسان چڑھے اور انسانیت سے گر جائے۔

بچپن کے دن

دوستو ہمارا بھی ایک زمانہ تھا پانچویں جماعت تک ہم سلیٹ پر جو بھی لکھتے تھے اسے زبان سے چاٹ کر صاف کرتے تھے یوکیلشیم کی کمی بھی کبھی ہوئی ہی نہیں تھی۔

 پاس یا فیل صرف یہی معلوم تھا کیونکہ فیصد سے ہم لاتعلق تھے۔

 ٹیوشن شرمناک بات تھی اور نالائق بچوں استاد کی کارکردگی پر سوالیہ نشان سمجھے جاتے تھے۔

 کتابوں میں مور کا پنکھ رکھنے سے ہم ذہین ہوشیار ہو جائیں گے یہ ہمارا اعتقاد اور بھروسہ تھا۔

 بیگ میں کتابیں  سلیقہ سے رکھنا سدرپن اور با صلاحیت ہونے کا ثبوت تھا۔

 ہر سال نئی جماعت کی کتابوں اور کاپیوں پر جلدیں چڑھانا ایک سالانہ تقریب ہوا کرتی تھی۔

 سکول میں مار کھاتے ہوئے یا مرغا بنے ہوئے ہمارے درمیان کبھی انا بیچ میں آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انا کیا ہوتی ہے یہ معلوم نہ تھا۔

 مار کھانا ہمارے  روزمرہ زندگی کی عام سی بات تھی مارنے والا اور مار کھانے والا دونوں ایک دوسرے سے کوئی شکایت نہ ہوا کرتی تھی۔

 ہم اپنے والدین سے کبھی نہ کہہ سکے کہ ہمیں ان سے کتنی محبت ہے اور نہ ہی باپ ہمیں کہتا تھا کیونکہi love you کہنا تب رائج نہ تھا اور ہمیں بھی معلوم نہیں تھا۔ تب محبت زبان سے ادا نہیں کی جاتی تھی بلکہ ہوا کرتی تھی۔

 رشتوں میں بھی کوئی لگی بندی نہیں ہوا کرتی تھی بلکہ وہ خلوص اور محبت سے سرشار ہوا کرتے تھے۔

 سچائی یہی ہے کہ ہم یا ہماری عمر کے قریب سبھی افراد اپنی قسمت پر ہمیشہ راضی ہی رہے۔ ہمارا زمانہ خوش بختی کی علامت تھا اس کا موازنہ آج کی زندگی سے کر ہی نہیں سکتے۔

 ہائے پلک جھپکتے گزر گئے۔ 

Leave a Comment