Diamond Words episode # 2

فیفی عبدو

دوستو!  فیفی عبدو ایک رقاسہ کا نام تھا۔ حکومتی ایوانوں سے لے کر بزنس کلاس تک سب فیفی کے ٹھمکوں کی زد میں تھے۔

 ایک مرتبہ قاہرہ کے ایک فائو سٹار ہوٹل میں فیفی اپنے جلوے دکھانے کے بعد اس نے شراب پینے کے لیے بار کا رخ کیا۔ زیادہ شراب پینے کی وجہ سے فیفی اپنے ہوش کھو بیٹھی اور بار میں ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ وہاں پہ وی وی ائی پی کی سیکیورٹی کے لیے موجود ایک پولیس آفیسر وہاں پہنچا جس نے فیفی کو بڑے مودب لہجے سے کہا کہ آپ ایک مشہور شخصیت ہیں۔ اس طرح کی حرکتیں آپ کو زیب نہیں دیتی۔

 یہ آفیسر خوش مزاجی اور خوش اخلاقی کے لیے مشہور تھا۔ اس ہوٹل میں قیام کرنے والی اہم شخصیات انہیں پسند بھی کرتی تھیں۔ وہ ایک فرض شناس آفیسر تھے۔

 فیفی کو پولیس آفیسر کی مداخلت پسند نہ آئی اور اس نے نشے کی حالت میں اعلیٰ ایوانوں کا نمبر گھمایا اور پولیس آفیسر کا کہیں دور تبادلہ کروا دیا۔

 اگلی شام جب فیفی کا نشہ اترا تو اس نے ہوٹل انتظامیہ سے پولیس آفیسر کے بارے میں پوچھا تو اسے بتایا گیا کہ آپ نے اس کا تبادلہ کروا دیا ہے۔ فیفی نے فون گھمایا سرکار نے پولیس آفیسر کو واپس ہوٹل رپورٹ کرنے کا حکم دیا۔

 پولیس آفیسر نے پولیس سے متعلقہ وزیر کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔ ان دنوں وجدی صالح وزیر ہوتے تھے۔ وزیر نے حیرت سے پولیس آفیسر کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ اس ہوٹل میں ڈیوٹی کرنے کے لیے پولیس آفیسرز بڑی بڑی سفارشیں کرواتے ہیں اور آپ کو تو دوسرا موقع ملا ہے اور آپ استعفیٰ پیش کر رہے ہیں۔

 پولیس آفیسر نے تاریخی جواب دیا کہ جس ملک میں ایک شرابی عورت کے کہنے پر ٹرانسفر اور ایک رقاسہ کے کہنے پر واپسی ہو اس ملک میں کسی غیرت مند کا رہنا آر اور عیب ہے۔ چند ماہ بعد  اس آفیسر نے مصر ہی چھوڑ دیا۔

 یہ صرف مصر کی کہانی نہیں ہے یہ میرے ملک کی بھی کہانی ہے۔ یہاں بھی کنجر آج اتنا ہی زیادہ بااختیار ہے۔۔۔۔۔

محبت کبھی نہیں مرتی

 ایک چھوٹی سی بات پہ میاں بیوی آپس میں جھگڑ پڑے۔ گرمیوں کی رات تھی دونوں چپ چاپ اپنی اپنی جگہ پر سو گئے۔ آدھی رات ہوئی تو شوہر کو کافی زور کی پیاس لگی تو روم سے نکل کر پانی پینے کچن میں چلا گیا۔

 گلاس رکھ کر مڑا ہی تھا کہ اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی روم کے دروازے پر کھڑی غصے سے اس کی طرف دیکھ رہی ہے اور بولی۔

 آپ نے پانی خود کیوں پیا؟ 

تو شوہر بولا ہاتھ تھوڑے نہ ٹوٹے ہیں خود بھی پی سکتا ہوں کسی کا محتاج نہیں۔ اس پر بیوی نے شوہر کا گریبان پکڑ لیا۔ گریبان پکڑا ہی تھا کہ اس کے ہاتھ کانپنے لگے، آنکھیں پانی سے نم سرخ ہو گئیں اور گڑگڑاتے ہوئے بولی۔

 ایک بات غور سے سن لیں لڑائی جھگڑا اپنی جگہ لیکن میں اپنا حق اور خوشی چھننے نہیں دوں گی۔ آپ کو نہیں پتہ مجھے آپ کو پانی دیتے ہوئے کتنی خوشی ہوتی ہے۔ اس نے کہا ہی تھا کہ شوہر نے کس کے اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور سارا جھگڑا وہیں ختم کر لیا۔

 10 سال بعد آدھی رات کو شوہر پانی پینے کے لیے اٹھا۔ پانی پی کر پلٹا تو اس بار روم کے دروازے پر کوئی نہیں تھا بلکہ دروازے پر لگی ایک خوبصورت تصویر اس سے کہہ رہی تھی۔

 محبت کبھی نہیں مرتی خود کو اکیلا نہ سمجھیے گا میں آپ کے ساتھ تھی اور ہمیشہ آپ کے ساتھ رہوں گی۔آنکھوں میں آنسو لیے کانپتے ہاتھوں سے اس نے تصویر کو اتارا اور اپنے سینے سے لگا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

 قدر کیجئیے جیون کے ان رشتوں کی جو خود سے زیادہ آپ کی فکر کرتے ہیں۔ خوش رہیے محبت سے رہیے لڑائی جھگڑوں سے دور ہی رہیئے۔ میاں بیوی ایک دوسرے کو شیئر کیجئے اور اپنے رشتے میں محبت پیدا کیجئے۔۔۔۔۔

Leave a Comment