ek yahoodi k chaar swalat aor musalman bachay k jawabat


ek yahoodi k chaar swalat aor musalman bachay k jawabat
ek yahoodi k chaar swalat


ایک یہودی کے چار سوالات

مسلمانوں کے بازار میں ایک یہودی بادشاہ نے اعلان کرا دیا کہ میرے چار سوال ہیں۔ اگر کوئی مسلمان ان چار سوالوں کا جواب دے دے گا تو میں مان لوں گا کہ اسلام سچا مذہب ہے، اسلام اچھا مذہب ہے اور اسلام ہی پکا مذہب ہے۔ اس نے چار سوال رکھ دیے۔

پہلا سوال اس کا یہ تھا کہ اے مسلمانو! تم یہ بتاؤ کہ تمہارے رب سے پہلے کیا تھا؟

اس کا دوسرا سوال تھا اے مسلمانو! یہ بتاؤ کہ جب تم عبادت کرتے ہو تو پوری دنیا کے اندر جو مسلمان اللہ کے آگے جھکتے ہیں، سجدہ کرتے ہیں تو وہ رب تمہارے سجدوں کو، تمہاری عبادت کو کیسے دیکھ لیتا ہے۔

اس کا تیسرا سوال تھا کہ اے مسلمانو! یہ بتاؤ تمہارے رب کا چہرہ کدھر کو ہے، اس کا رخ کس طرف کو ہے۔

اس کا چوتھا سوال تھا کہ اے مسلمانو! یہ بتاؤ کہ تمہارا رب اس وقت کیا کر رہا ہے۔

یہ چار سوال اس نے رکھ دیے مجمع اکٹھا ہو جاتا ہے، بھیڑ لگ جاتی ہے۔ بڑے بڑے علماء وہاں بیٹھے ہوئے تھے لیکن اس کے چار سوال ایسے بھاری پڑے کہ کوئی ان سوالات کے جوابات دینے والا اس مجمع میں نظر نہیں ارہا تھا۔ اس یہودی نے جو سوالات رکھ دیے مجمع میں خاموشی طاری ہے لیکن اسی دوران مدرسے کی چھٹی ہو جاتی ہے اور بچے مدرسے سے سبق حاصل کر کے اپنے اپنے گھروں کو جا رہے ہوتے ہیں۔ انہی میں ایک چھوٹا سا بچہ آتا ہے اور اس نے کہا کہ اے لوگو! یہاں بازار میں بھیڑ کیسی ہے معاملہ کیا ہے مجمع اتنا اکٹھا کیوں ہے؟ لوگوں نے کہا کہ یہاں ایک یہودی نے چار سوال کیے ہیں اور وہ مسلمانوں سے کیے ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اگر کوئی مسلمان ان سوالات کے جوابات دے دے گا میں مان لوں گا کہ اسلام سچا مذہب ہے۔ لیکن اس کے سوالات کا جوابات دینے والا یہاں مجمع میں کوئی نظر نہیں آتا ہے۔ بچہ مجمعے کو چیرتا ہوا آگے جانے لگا۔ بچے نے کہا کہ میں اس کے سوالوں کا جواب دوں گا۔ لوگوں نے کہا بڑے بڑے علماء یہاں بیٹھے ہوئے ہیں تیری کیا اوقات یا تیری کیا حیثیت تو اس یہودی کے سوالوں کا جواب دے گا۔ بچہ مجمعے کو چیرتا ہوا محنت کرتا ہوا آگے جاتا ہے اور اسی یہودی کے سامنے جا کے کھڑا ہو جاتا ہے۔ جو اونچے تخت پر کرسی لگا کے بیٹھا ہوا تھا۔

یہودی سے بچے نے کہا کہ یہودی تو اپنے سوال بتا میں تیرے سوالوں کا جواب دوں گا۔ یہودی ہنسنے لگا کہنے لگا اتنے بڑے بڑے علماء یہاں تشریف رکھتے ہیں لیکن تو کیا جواب دے گا میرے سوالوں کا۔ تو بچے نے کہا کہ جواب دینے کے لیے عمر نہیں ہونی چاہیے علم کا ہونا ضروری ہے۔ آپ سوال رکھیں میں تیرے سوالوں کا جواب ضرور دوں گا۔

اس نے کہا کہ میرا پہلا سوال یہ ہے کہ تمہارے رب سے پہلے کیا تھا؟ بچے نے کہا آپ 10 سے نیچے کی گنتی گنو۔ اس نے گننا شروع کر دیا 10، 9، 8، 7، 6، 5، 4، 3، 2، 1 ہے۔ پھر بچے نے کہا کہ ایک سے پہلے کیا ہے؟ اس نے کہا ایک سے پہلے کچھ نہیں ہے۔ تو بچے نے کہا میرے رب سے پہلے بھی کچھ نہیں تھا، میرے رب کے بعد بھی کچھ نہیں ہے، وہ ہمیشہ سے ہے اور وہ ہمیشہ رہے گا۔ وہ اکیلا ہے وہی اکیلا رہے گا، اسے کوئی فنا نہیں ہے۔ بچے نے اس کے سوال کا جواب دیا۔ یہودی حیران رہ گیا۔ بچے نے کہا اب تو دوسرا سوال کر تیرا دوسرا سوال کیا تھا؟

تو یہودی نے کہا میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ جب پوری دنیا میں مسلمان اللہ کی عبادت کرتا ہے، اس کے اگے سجدہ کرتا ہے تو وہ رب کیسے تمہاری عبادت کو دیکھ لیتا ہے یا تمہیں سجدہ کرتے ہوئے دیکھتا ہے؟ بچے نے کہا ایک برتن میں پانی لے کر آؤ۔ ایک بڑے سے برتن میں پانی کو بلوایا گیا اور اس یہودی کے سامنے اس برتن کو رکھ دیا۔ بچے نے کہا اے یہودی اس برتن کے اندر جھانک کر دیکھ۔ یہودی نے جھانکا تو بچے نے پوچھا بتا تجھے اس کے اندر کیا نظر ارہا ہے؟ کہا اس میں تو میرا عکس یعنی میری تصویر نظر آرہی ہے، میرا چہرہ نظرآ رہا ہے۔ کہا کلیئر آرہا ہے۔ بولے مجھے بالکل اپنا چہرہ اس پانی کے اندر کلیئر نظرآ رہا ہے۔ تو کہا بچے نے کہ جیسے تو اس پانی کے اندر اپنے چہرے کو دیکھ رہا ہے ویسے ہی میرا پروردگار تمام مسلمانوں کی عبادتوں کو دیکھ رہا ہے۔ وہ اپنے بندے کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے (القرآن)۔ بچے نے اس کے دوسرے سوال کا جواب دے دیا، بچہ کہتا ہے تیرا تیسرا سوال کیا ہے؟

تو یہودی نے کہا میرا تیسرا سوال یہ ہے کہ تمہارے رب کا چہرہ کدھر کو ہے، اس کا رخ کس طرف کو ہے؟ تو بچے نے کہا ایک چراغ لایا جائے چراغ لایا گیا۔ اس کو روشن کیا گیا بچے نے کہا بتا یہودی اس چراغ کی روشنی کس طرف ہے؟ تو اس نے کہا اس کی روشنی تو چاروں طرف کو ہے۔ بچے نے کہا کہ جب اس چھوٹے سے چراغ کی روشنی چاروں طرف ہے۔ میرا رب تو بہت بڑا نور ہے۔ اللہ سے بڑا کوئی نور نہیں اور وہ ہر جگہ موجود ہے ہر شے پہ وہ قدرت رکھتا ہے (القرآن)۔ بچہ کہتا ہے تیرا چوتھا سوال کیا ہے؟

یہودی نے کہا میرا چوتھا سوال یہ ہے کہ تمہارا رب اس وقت کیا کر رہا ہے؟ تو بچے نے کہا دیکھ میں نے تین سوالوں کے جو جواب تھے وہ یہاں کھڑے ہو کر دیے اب میں چوتھے سوال کا جواب اس وقت دوں گا کہ تو کرسی سے اتر کے یہاں آئے اور میں کرسی پر بیٹھ جاؤں۔ تمام لوگوں نے کہا بات صحیح ہے بچے کو کرسی پر بٹھایا گیا اور یہودی کو نیچے اتارا گیا۔ اب یہودی سوال کرتا ہے کہ اے بچہ بتا تمہارا رب اس وقت کیا کر رہا؟ تو بچے نے کہا کہ میرا رب اس وقت یہ کر رہا ہے کہ ایک بچے سے ایک یہودی کو ذلیل کر رہا ہے اور اسے کرسی سے اتار کر نیچے کھڑا کر رہا ہے اور مجھے وہ کرسی پر بٹھا رہا ہے۔

جب اس طرح بچے نے تمام سوالات کے جوابات دیے تو مجمعے میں نعرہ تکبیر بلند ہو جاتا ہے اور یہ بچہ کوئی عام بچہ نہیں تھا بلکہ آگے چل کے یہی بچہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Comment