Hazrat Maimoona in Urdu || ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالی عنہ

السلام علیکم دوستو! آج  کے  اس کالم  میں ہم ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت طیبہ اور ان کی حیات مبارکہ کے بارے میں تفصیلی تبصرہ کریں گے. یاد رہے کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا پیدائشی نام برا تھا جسے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے بدل کر میمونہ کر دیا .والد کی طرف سے اٹھارویں پشت میں مظہر پر جا کر آپ  رضی اللہ تعالی عنہ کا سلسلہ نسب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے جا ملتا ہے. آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی ولادت نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اعلان نبوت سے تقریبا 16 سال پہلے ہوئی تھی. ام المومنین کی حیات مبارکہ کے مکمل احوال اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی سیرت جاننے کے لیے کالم کو اخر تک لازمی پڑھینے گا۔

 حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالی عنہ کا خاندان اور بہنیں

 پیارے دوستو ! آپ  کو بتاتے چلیں کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کا تعلق قریش کے معزز قبیلہ بنو ہلال سے تھا ۔آپ  رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک بہن ام الفضل لبابۃ الکبری رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ ہوا تھا اور انہی سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے تھے.

 دوسری بہن لبابہ تو صغریٰ کا نکاح ولید بن مغیرہ مخزومی کے ساتھ ہوا جن سے مشہور صحابی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ
عنہ پیدا ہوئے .

تیسری بہن اسماءرضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح ابی بن خلف سے ہوا لیکن انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا.

 چوتھی بہن  اعزاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نکاح زیاد بن مالک الہلالی سے ہوا انہوں نے بھی اسلام قبول کر لیا تھا.

 اس کے علاوہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک ماں شریک بہن اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح حضرت جعفر طیار رضی
اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا ان سے عبداللہ ،اون اور محمد رضی اللہ تعالی عنہم پیدا ہوئے .جنگ موتہ  میں حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہ شہید ہو گئے ان کی شہادت کے بعد اسماءبنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا کا سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے  نکاح ہوا ۔ان سے محمد بن ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئے. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کے بعد ان کا نکاح حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ سے ہوا ان سے ایک بیٹا یحییٰ پیدا ہوا .

دوسری ماں شریک بہن سلمیٰ بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ہوا ان سے ایک بیٹی امت اللہ پیدا ہوئی .حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد ان کا شداد بن الحاد رضی اللہ تعالی عنہ سے نکاح ہوا جن سے عبداللہ اور عبدالرحمن رضی اللہ تعالی عنہم پیدا ہوئے.

 تیسری ماں شریک بہن سلامہ بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح حضرت عبداللہ بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ سے ہوا ۔

 چوتھی ماں شریک بہن زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ہوا . 

ماں شریک بہن کی تشریح

یاد رہے کہ ماں شریک بہن وہ ہوتی ہے کہ ان دونوں کی ماں ایک ہو والد الگ الگ ہوں یعنی ماں نے پہلے ایک شخص سے شادی کی اس سے اولاد ہوئی خاوند کی وفات یا طلاق کے بعد اس ماں نے کسی دوسرے شخص سے شادی کی اس سے بھی اولاد ہوئی اب پہلے شخص سے جو اولاد ہوئی اور اس دوسرے شخص سے جو اولاد ہوئی اسے ماں شریک کہتے ہیں. 

 حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ ماجدہ

دوستو آپ کو بتاتے چلیں کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کی والدہ ہند بنت عوف کا نکاح خزیمہ بن عبداللہ بن عمر بن عبد مناف
بن حلال بن عامر سے ہوا .ان سے ام المومنین سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئیں .اسی طرح ان کا نکاح عمیس بن معاد  بن حارث خشیمیہ سے ہوا ان سے اسماء ،سلمیٰ اور سلامہ رضی اللہ تعالی عنہم پیدا ہوئیں اور انہی ہند بنت عوف کا نکاح سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کے والد حارث بن حسن ہلالی سے ہوا جن سے لبابۃ الکبریٰ، لبابۃ الصغراء، اسماء اور اعزاء پیدا ہوئیں۔ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کے والدہ ہند بنت عوف کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ دامادوں کے اعتبار سے کوئی عورت اس خوش نصیب بڑھیا کے مقام کو نہیں پہنچ سکتی کیونکہ ان کے دامادوں میں جو جلیل القدر شخصیات شامل ہیں وہ یہ ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ،حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ، حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ ،حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ ،حضرت جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہ ،حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ ،حضرت عبداللہ بن کعب رضی اللہ تعالی عنہ ،حضرت شہداد بن الحاد رضی اللہ تعالی عنہ۔

 اس کے علاوہ ان کے نواسوں اور نواسیوں میں بھی کئی جلیل القدر صحابہ و صحابیات رضی اللہ تعالی عنہم شامل ہیں۔

 حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالی عنہ کانکاح

 پیارے دوستو !روایات کے مطابق سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کا پہلا نکاح مسعود بن امر بن عمیر صقفی کے ساتھ ہوا اس
نے سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کو طلاق دے دی۔ یہ وہی امر بن عمیر صقفی ہے جس کے تین بیٹے عبد لیل، مسعود اور حبیب طائف کے معززین شمار ہوتے تھے ۔ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے سفر طائف میں خصوصی طور پر دعوت اسلام دی لیکن انہوں نے بد اخلاقی کا مظاہرہ کیا اور اوباش لڑکوں کو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیچھے لگا دیا ۔

اس کے بعد آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا دوسرا نکاح ابو روحم بن عبدالزا سے ہوا کچھ عرصے ان کے ساتھ گزرا اور ان کا بھی انتقال ہو گیا۔

 ماہ ذکر سات ہجری کو عمرۃ القضا کے لیے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم مکہ مکرمہ تشریف لے گئے۔ اسے عمرۃ القضا اس لیے کہا جاتا
ہے کہ اسے ایک سال پہلے ذیقعد چھ ہجری میں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک خواب دیکھا کہ میں مدینہ منورہ سے مکہ گیا ہوں۔ وہاں میں نے بیت اللہ کا طواف کیا ۔صحابہ کرام سے اس خواب کا ذکر فرمایا تو صحابہ کرام رضوان اللہم اجمعین نے بھی اس
خواہش کا اظہار کیا کہ ہم بھی آپ کی مایت میں شرف ہمراہی چاہتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے صحابہ کرام کو ہمراہ لیا۔ جب آپ مقام حدیبیہ پہنچے جو مکہ کے قریب ہے اور اس کا کچھ حصہ حدود حرم میں بھی داخل ہے تو کفار نے مزاحمت کی مختصر یہ کہ چند کڑی شرائط کے ساتھ آپ کو واپس لوٹنا پڑا۔ ان میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ آئندہ سال عمرہ کے لیے تشریف لائیں اور جتنے دن اہل مکہ چاہیں آپ وہاں رہ سکتے ہیں۔ اسلحے کے بغیر آنا ہے ہاں صرف تلواریں لانے کی اجازت ہوگی اور وہ بھی
میان میں ہوں گی۔چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ماہ ذیقعد 7 ہجری کو تشریف لائیں ۔آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ہمراہ صرف وہ صحابہ کرام تشریف لائے جو صلح حدیبیہ میں آپ کے ساتھ شریک تھے۔

 آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہم اجمعین نے عمرہ عطا فرمایا۔ اسی دوران جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم عمرۃ القضا کو ادا فرما چکے تھے اور مکہ مکرمہ ہی میں تشریف فرما تھے تو حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے عرض کی کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم آپ برا یعنی میمونہ بنت حارث کو اپنے رشتہ ازدواج سے جوڑ لیں۔ چونکہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بہن ام الفضل بابۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالی عنہا حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کی اہلیہ تھیں۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ خاندانی طور پر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اچھی طرح جانتے تھے اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے اعلیٰ اخلاق و کردار سے خوب واقف تھے اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے گزارش کی کہ آپ ان سے نکاح فرما لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے قبول فرمایا۔ حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے 400 درہم حق مہر کے عوض آپ کا نکاح کر دیا۔

 یاد رہے کہ صلح حدیبیہ کی شرائط میں ایک یہ بھی تھی کہ مسلمان صرف تین دن مکہ میں رہیں گے شرط کے مطابق مدت قیام بھی پوری ہو چکی تھی ۔

 سہیل بن امر اور ہوی تب بن عبدالعزا قریش کی جانب سے دربار رسالت مآب میں حاضر ہوئے اور کہا شرط کے مطابق چونکہ مدت قیام ختم ہو گئی ہے لہٰذا آب اپنے ساتھیوں کے ہمراہ مدینہ واپس تشریف لے جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ولیمہ میں شرکت کے لیے انہیں کہا لیکن انہوں نے بات ماننے سے یکسر انکار کر دیا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہم اجمعین کو روانگی کا حکم دیا اور خود بھی مکہ سے چل پڑے۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اپنے آزاد کردہ غلام حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالی عنہ کو حکم دیا کہ وہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کو مکہ سے ہمارے قافلے تک پہنچائے۔
چنانچہ ابو رافع رضی اللہ تعالی عنہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کو مقررہ مقام تک بخیر و عافیت لے ائے ۔آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے400 درہم حق مہر ادا کیا۔

ایک فقہی مسئلہ

 دوستو یہاں ایک اہم مسئلہ قابل ذکر ہے قرآن کریم اور احادیث میں ایک فقہی مسئلہ ہے کہ کوئی شخص دو بہنوں کو نکاح میں اکٹھے نہیں رکھ سکتا خواہ وہ سگی بہنیں ہوں، ماں شریک ہوں یا باپ شریک ہوں۔ ام المومنین سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالی عنہا دونوں ماں شریک بہنیں ہیں اور دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ازواج مطہرات میں سے ہیں۔ یہاں یہ بات ذہن میں آ سکتی ہے کہ جب دو بہنوں کو نکاح میں جمع نہیں کیا جا سکتا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے  دو بہنوں سے نکاح کیسے فرما لیا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اصل مسئلہ اس طرح ہے کہ بیک وقت دونوں کو نکاح میں ایک ساتھ جمع نہیں کیا جا سکتا ہاں اگر ان بہنوں میں سے ایک نکاح میں باقی نہ رہے خواہ اس کی وجہ طلاق ہو یا عورت کا فوت ہونا ہو تو دوسری بہن سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔ بیک وقت دونوں کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنا حرام ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ام المومنین سیدہ زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے پہلے نکاح فرمایا پھر ان کی وفات کے بعد ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ سے نکاح فرمایا۔

سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ سےنکاح کےباعث اہل مکہ کا قبول اسلام

 پیارے دوستو میمونہ کا مطلب ہوتا ہے باعث برکت آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیش نظر اس نام کو منتخب کرنے کی کئی پوشیدہ حکمتیں بھی ہوں گی لیکن جو ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ صلح حدیبیہ کے اگلے سال عمرۃ القضا کی ادائیگی نے مسلمانوں کی شان و شوکت اور دین اسلام پر جانثاری نے اہل مکہ پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے کفار و مشرکین مکہ کا زور ٹوٹ چکا تھا۔ صرف چند بدگمانیاں باقی تھیں انہیں یہ صاف نظر آرہا تھا کہ اگر اہل مکہ کے ساتھ مسلمانوں کو مزید کچھ میل جول اور رہا تو سارے مکہ والے اسلام قبول کر لیں گے۔ غالبا یہی وجہ تھی کہ صلح حدیبیہ میں کفار کی طرف سے یہ شرط بطور خاص تھی کہ آئندہ سال مسلمان تین دن کے اندر اندر عمرہ کر کے واپس چلے جائیں گے۔

 نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی دلی خواہش یہی تھی کہ یہ لوگ اسلام قبول کر لیں اور اس مبارک خواہش کی تکمیل کے لیے آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس طرح کی صعوبتیں جھیلی سختیاں برداشت کیں ظلم و ناانصافی کو سہتے رہے اسی لیے بیوا و بے آسرا نیک خاتون کو سہارا دینے کے ساتھ ساتھ آپ کے پیچھے نظر اس وقت کے معروضی حالات بھی تھے۔ آپ سمجھتے تھے کہ اس نکاح سے فوائد و ثمرات میں اہل مکہ کے باثر شخصیات کے علاوہ اہل نجد کے لوگ بھی اسلام کے قریب آ جائیں گے۔ اسلامی اخلاق و تعلیمات کا قریب سے مشاہدہ کریں گے تو جو بدگمانیاں اذہان و قلوب میں گردش کر رہی ہیں وہ ختم ہو جائیں گی۔

 چنانچہ ایسے ہی ہوا حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کے خاندان والے مکہ کے باثر لوگوں میں سے تھے۔ اس نکاح کے بعد سیدہ
میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بھانجے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ نے اسلام قبول کیا۔ اسی موقع پر حضرت عمر بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ کنجی بردار کعبہ نے بھی اسلام قبول کر لیا۔ دوسری طرف
اہل نجد کا سردار زیاد بن مالک الہلالی جو کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بہنوئی تھا جب اہل نجد کو اپنے قبیلے کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ایک طرح کی قرابت داری کا علم ہوا تو وہی لوگ جنہوں نے کبھی دھوکے کے ساتھ 70 مبلغین اسلام کو شہید کرنے کا سنگین جرم کیا تھا اب وہی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے حامی بن گئے اور مسلمان ہو کر اہل اسلام کی اجتماعی قوت میں اضافے کا سبب بنے ۔

سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کاباکمال ایمان

پیارے دوستو آپ کو یہ جان کر حیرانگی ہو گی کہ آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے باکمال ایمان کی گواہی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دی ہے۔ حدیث پاک میں ہے کہ ایمان والی خواتین آپس میں بہنیں ہیں اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے چند خواتین کے نام لیے جن میں پہلا نام سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کا ہے۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ اتنے بڑے اعزاز سے عزت پانے کے باوجود اپنے گھریلو کام کاج خود کرتیں۔

 چنانچہ آپ کے بھانجے یزید بن العاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری خالہ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا گھر کے کام کاج خود کرتیں،کثرت سے مسواک کرتیں اور نمازوں کی ادائیگی کا خوب اہتمام کر تیں۔ 

دوستو آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے دل میں خدا کی محبت بھی موجود تھی اور یہ خوف بھی تھا کہ کہیں میرے کسی کام سے اللہ ناراض نہ ہو جائے۔ معاشرتی رہن سہن میں اسلامی تعلیمات کی سب سے بنیادی چیز صلہ رحمی بھی آپ کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی تقوی اور صلہ رحمی یہ دو اوصاف حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ نعمتیں خوب عطا فرمائی تھیں۔ 

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا آپ کے ان دو عمدہ اوصاف کی گواہی دیتے ہوئے فرماتی ہیں میمونہ ہم میں خدا خوفی اور
صلہ رحمی میں ممتاز مقام رکھتی ہیں۔

 روایات میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بھانجے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ اس حالت میں تشریف لائے کہ ان کے بال بکھرے ہوئے تھے ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمانے لگے کہ مجھے ام عمار کنگھا کرتی ہے لیکن یہ دن ان کی ماہواری کے چل رہے ہیں اس لیے انہوں نے کنگھا نہیں کیا۔ آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ شریعت کا مسئلہ ایسے نہیں جیسے تم نے سوچ رکھا ہے بلکہ ان دنوں میں بھی وہ آپ کو کنگھا وغیرہ کر سکتی ہیں پھر اس پر دلیل کے طور پر اپنا ذاتی عمل پیش کیا کہ جب ہمارے ہاں خاص ایام ہوتے تھے اس دوران بھی نبی کریم
صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہماری گود میں سر رکھ کر آرام فرما لیتے اور قرآن کریم کی تلاوت بھی فرماتے تھے۔اس کے بعد انہیں سمجھایا کہ بیٹا خاص ایام کے اثرات ہاتھوں تک سرائیت نہیں کرتے۔

 پیارے دوستو! آپ رضی اللہ تعالی عنہا فیاضی و سخاوت میں بھی بلند مقام رکھتی تھیں۔ غریب پروری اور لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے قرضہ اٹھانے سے بھی دریغ نہ کرتی تھیں۔ کبھی کبھار تو قرضہ بہت اٹھا لیتی چنانچہ لوگوں کی سماجی ضروریات کو پورا کرنے کے پیش نظر ایک بار زیادہ رقم قرض لی تو کسی نے کہا کہ آپ اس کو کس طرح ادا کریں گی تو اس پر آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے جو شخص ادا کرنے کی نیت میں مخلص ہو قرضے کی ادائیگی کا بندوبست خدا خود کر دیتا ہے۔ اسی سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے توکل  اللہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کو کس
قدر اللہ کی ذات پر یقین اور اعتماد تھا۔

 روایات بتاتی ہیں کہ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کثرت سے غلام اور لونڈیاں آزاد کرتی تھیں ایک بار آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک لونذی آزاد کی تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ان کے حق میں دعا دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تمہیں اس کا اجر عطا فرمائے۔

سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات

 دوستو! جہاں تک بات ہے آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کی تو کہتے ہیں کہ جس مقام پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نکاح کے بعد آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو قربت بخشی بالکل اسی مقام پر آپ رضی اللہ تعالی عنہا خدا کے قرب میں چلی گئیں۔ یعنی مقام سرف میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا ولیمہ ہوا اور اسی مقام پر آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے وفات پائی۔

 51 ہجری سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے دور امارت میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ حج یا عمرے کی غرض سے مکہ مکرمہ
تشریف لائیں۔ یہاں آ کر آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی طبیعت ناساز ہوئی۔ اپنے بھانجے حضرت یزید بن العاصم رحمہ اللہ کو فرمایا کہ مجھے مکہ سے لے چلو اس لیے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا کہ آپ کا انتقال مکہ میں نہیں ہوگا۔ یزید بن الاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ ام المومنین سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کو مرض کی حالت میں مکہ سے لے کر جب چلے مقام سرف پر پہنچے تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہو گیا۔

آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی نماز جنازہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے پڑھائی۔ حضرت عطا تابعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنہ کے جنازے میں شریک تھے جب آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا جنازہ اٹھایا گیا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ہیں اس لیے با ادب طریقے سے آہستہ آہستہ لے کر چلو زیادہ حرکت نہ دو۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Comment