Imam Hasan aur Hussain ke Bachpan ka Waqia|| Imam hassan or hussain ki sakhawat ka waqia

 امام حسن ؓ اور حسین کی بیماری کا واقعہ

امام حسن ؓ اور حسین ؓ بیمار ہو گئے تو حضرت فاطمہ ؓ نے منت مانگی۔ یا اللہ میرے بچوں کو شفا دے میں تین روزے رکھوں گی۔  اللہ تبارک و تعالیٰ نے بچوں کو شفا عطا فرما دی۔ اور میں سمجھتا ہوں یہ کربلا کی ٹریننگ تھی  بچوں نےروزے رکھے ۔ سات آٹھ سال کی عمریں بچوں کی۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں جب میں نے دیکھا کہ میرے بچے  روزے سے ہیں تو میں کہیں سے تھوڑے سے جو لایا۔یہ شہزادے ہیں کائنات کے سب سے بڑے۔ فرماتے ہیں میں نے بی بی پاک ؓ کو دیے تو سیدہ پاکؓ نے جو پیسے، روٹیاں پکائیں اور جب عین افطاری کے وقت کھانا سامنے آیا تو دروازے پہ بھکاری آیا۔  بڑا بے نیاز ہے اللہ ،عجیب رنگ ہے مالک کا۔عین افطاری کا وقت جب آدمی کہتا ہے کہ فٹافٹ ہو جائے۔ بھکاری دروازے پہ آیا اور اس نے سدا دی او میرے رسولؐ کے گھر والو کئی دنوں سے روٹی نہیں کھائی۔ حضرت علی ؓاور حضرت فاطمہ ؓ نے بچوں کی طرف دیکھا تو امام حسین ؓ چھوٹے تھے سب سے، انہوں نے سب سے پہلے برتن اٹھائے کھانے والے اور کہنے لگے اماں میں دے کے آؤں ۔حضرت فاطمہ ؓ رشک کرنے لگی ۔مصطفی  ؐکے نواسے باہر گئے اپنے حصے کا کھانا دے آئے۔

 اللہ فرماتے ہیں انہیں بڑی اشدضرورت ہو پھر بھی وہ دوسروں پہ ایثار کر دیتے ہیں ۔ پانی سے روزہ کھولا کھجوریں کھائی لیٹ گئے۔ سویرے کھجوریں کھائی روزہ رکھ لیا۔ شام ہوئی تو حضرت علی ؓ فرماتے ہیں میں پھر اگلے دن کے روزے کے لیےجولایا۔ فاطمہ ؓ نے پیسے، روٹیاں پکائیں۔ دو دنوں کی بھوک تھی پر مالک تو بڑا بے نیاز ہے آزمانے پہ آیا تو اس رنگ میں۔ عین افطاری کے وقت دروازے سے آواز نکلی اور مانگنے والے نے کہا کہ بھوکا بھی ہوں اور یتیم بھی ہوں۔ حضرت فاطمہ ؓ کہنے لگی بیٹا دیر نہ کرنا یتیم کا پیٹ بھرنے میں دیر نہیں ہونی چاہیے ۔کھانا باہر چلا گیا پانی اور کھجور سے روزہ  افطار کیا۔ شہزادے ہیں شہزادے یہ دو جہاں کے شاہ ہیں پاس کچھ رکھتے نہیں۔ دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں۔ کھجور پانی سے افطاری بھی سحری بھی۔ سویرے پھر اٹھے روزہ رکھا تیسرا دن ہے تیسرا ذرا دل پہ ہاتھ رکھنا بچہ ایک رات بھوکا ہو تو ماں سوتی نہیں۔ اور میں کہا کرتا ہوں ماں فالج والی ہو نا فالج والی ماں، فالج زدہ تو آدھی رات کو اس کا بیٹا جوان کہے تھوڑی بھوک لگی ہوئی ہے تو ماں کو رینگنا بھی پڑے تو وہ رینگ کے بھی جاتی ہے ،روٹی پکاتی ہے۔اور کہتی ہے میرا لال بھوکا نہ سو جائے اور مصطفی ؐ کی بیٹی سے زیادہ بچوں سے کون پیار کر سکتا ہے ۔تین دن کے بھوکے بچے تیسرا دن آیا( بڑے حوصلے سے بی بی کہہ دیتی چھوڑو ان کا تو کام ہے یہ تو آتے رہتے ہیں ۔میرے بچے بھوکے تم پہلے روٹی کھاؤ )لیکن میرے بھائی کربلا ایسے نہیں سجتی ۔یہ جو برگر کھا کے ناراض ہونے والے بچے ہوتے ہیں یہ میدانوں میں نہیں نکل پاتے ان کے لیے مشکل ہوتا ہے ۔

حضرت فاطمہ  ؓنے حضرت علی ؓ نے ڈیوٹی کی اپنے بچوں کو تیار کیا کربلا کے لیے۔ تیسرے دن جب کھانا رکھا  تو باہر سے بولنے والا بولا کہا میں مسکین ہوں ،لاچار ہوں ،گھر بھی کوئی نہیں ،کھانا بھی کوئی نہیں ۔امام حسین  ؓپھر اٹھے تیسرے دن کا بھی کھانا دے دیا ۔

حضرت علی ؓ فرماتے ہیں میں بچے پکڑ کے مسجد لے کے گیا کہیں بھوک سے میرے لال گر نہ جائیں۔ کہتے ہیں ہانتے کانپتے تینوں شہزادے مسجد میں داخل جو ہوئے تو بس ہماری قیمت پڑ گئی، مل پڑ گیا ہمارا ۔کہتے ہیں مسجد میں قدم رکھا تو ایسے لگا جیسے نبی پاک ؐہمارا انتظار کر رہے ہیں۔ فرماتے ہیں۔ کہ جب تیسرے دن کی مغرب کی نماز پڑھنے گئے تو حضور ؐ نے تینوں باپ بیٹوں کے چہرے کو دیکھا اور فرمایا علی ؓ یہ جبرائیل کھڑے ہیں اور فرما رہے ہیں تیرے تین دن کا عمل اللّٰہ تعالٰی کو بھی بڑا پسند آیا ہےاور محمد مصطفی ؐ کو بھی بڑا پسند آیا ہے۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Comment