Jesus and the interpretation of dreams || Hazrat Isa (peace be upon him) and the interpretation of dreams


Jesus and the interpretation of dreams
 Jesus and the interpretation of dreams


ایک دن حضرت عیسیٰ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی بارگاہ میں ایک شخص آیا آکے عرض کرتا ہے اللہ کے نبی علیہ السلام میں نے ایک خواب دیکھا ہے۔ آپ کی بارگاہ میں اس کی تعبیر کے لیے حاضر ہوا ۔فرمایا کیا خواب دیکھا۔

عرض کرتا ہے اللہ کے نبی علیہ السلام خواب کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جنگل ہے اور میں بھاگ رہا ہوں۔ ایک شیر میرے پیچھے بھاگ رہا ہے کبھی کبھی وہ شیر بالکل میرے پاس آ جاتا ہے لیکن حیرانگی کی بات یہ ہے کہتا کچھ نہیں لیکن میں بھاگ رہا ہوں ڈر کے۔ میں آگے جا کے کیا دیکھتا ہوں کہ ایک کنواں ہے اب شیر پیچھے ہے۔ میں نے کہا کسی طرح تو شیر سے جان چھڑوائی جائے ۔ تو پہلے ارادہ یہ کیا کہ کنویں میں چھلانگ لگا دوں لیکن جب کنویں میں چھلانگ لگانے لگتا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ بہت بڑا سانپ منہ کھولےکنویں کے اندر ہےکہ چھلانگ لگائے اور میں اس کو نگل جاؤں۔

پھر کیا دیکھتا ہوں کہ کنویں کے اوپر ایک درخت ہے تو میں نے کہا چلو درخت سے لٹک جاتا ہوں کم از کم شیر سے تو جان چھوٹے۔ کہتا ہے میں نے چھلانگ لگائی اور میں درخت سے لٹک گیا۔ لیکن جب درخت سے لٹکا تو کیا دیکھتا ہوں ایک سفید رنگ کا چوہا اور ایک کالے رنگ کا چوہا ،جس ٹہنی کو میں پکڑ کے کنویں میں لٹکاہؤا ہوں اس کو دونوں ہی کاٹ رہے ہیں اپنے دانتوں سے۔ اب مجھے فکر پڑ گئی کہ اگرٹہنی چھوڑ کے اترتا ہوں تو باہر شیر ہے اگر نہیں اترتا تو ابھی یہ جو چوہے ہیں یہ اس ٹہنی کو کاٹ دیں گے اس کو اپنے دانتوں سے۔ ٹہنی ٹوٹے گی میں جا کے کنویں میں گروں گا سانپ مجھے کھا جائے گا۔

اسی فکر میں میں لگا ہوا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ جو درخت ہے جو کنویں سے نکلا ہوا ہے اس کے اوپر شہد کی مکھیوں کا چھتا ہے اور چھتے میں سے شہد ٹپک رہا ہے۔ اور وہ شہد میرے منہ میں گر رہا ہے تو جب وہ شہد میرے منہ میں گرا شہد میٹھا تھا۔ میں اس کے میٹھے میں مزے میں ایسا کھو گیا کہ اتنی دیر اس سفید اور کالے چوہے نے وہ ٹہنی کاٹ دی ۔ٹہنی کڑپ کر کے ٹوٹی اور میں کنویں میں گرا اور مجھے سانپ نکل گیا۔ ساتھ ہی میری انکھوں کھْل گئی ۔

اللہ کے نبی علیہ السلام نےاب اس کی تعبیر ارشاد فرمائی ہے ۔ حضرت عیسی نبی علیہ السلام نے فرمایا وہ جو شیر دیکھا ہے تو نے وہ جو تیرے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ بعض دفعہ بالکل تیرے قریب آ جاتا ہے لیکن کہتا کچھ نہیں وہ تیری موت ہے۔ جو ہر وقت تیرے ساتھ ساتھ ہے۔ لیکن جتنی دیر تک وقت نہیں آئے گا وہ اتنی دیر تک تیری حفاظت خود ہی کرے گی۔ سبحان اللہ وہ شیر اصل میں موت ہے۔ اور وہ جو کنویں تو نے دیکھا وہ اصل میں قبر ہے ۔ یہ کنویں کے اندر اژدھا ہے وہ تیرے برے اعمال ہیں جو تیرا انتظار کر رہے ہیں قبر میں۔ اور پھر تو درخت سے لٹک گیا تو کیا دیکھتا ہے کہ سفید اور کالا چوہا جس ٹہنی کو پکڑ کے تو لٹکا ہے اس ٹہنی کو کاٹ رہے ہیں وہ سفید اور کالا چوہا کیا ہیں؟ سفید چوہا دن ہے کالا چوہا رات ہے کاٹ رہے ہیں تیری زندگی کو ۔

اور ہم کیسے شیدائی لوگ ہیں سال بعد کیک کاٹتے ہیں ۔ کس خوشی میں کیک کاٹ رہے ہو تمہارہ تو ایک سال کٹ گیا ہے۔ ایک سال تیرا اور کم ہو گیا ہے کیک کاٹ رہا ہے۔ جو وہ ٹہنی ہے وہ تیری زندگی ہے سفید اور کالا چوہا کاٹ رہے ہیں اس کو ۔اور جو تونے دیکھا شہد ٹپک رہا ہے تیرے منہ میں وہ دنیا کی لذتیں ہیں اور تو خود بھی کہہ رہا ہے کہ وہ میٹھا میرے منہ میں گرا اور میں سب کچھ بھول گیا اور میں جا کے قبر میں گر گیا وہ دنیا کی لذتیں ہیں۔ جس نے تجھے سارا کچھ ہی بھلا دیا ہے نہ تجھے قبر یاد ہے، نہ تجھے حشر یاد ہے، نہ تجھے اللہ کی بارگاہ میں پیش ہونا یاد ہے یہ ہم لذتوں میں پڑ گئے ہیں حضرت اور ہم سارا کچھ ہی بھول گئے ۔

لیکن یاد رکھنا اے غافل! ہم بھول گئے ہیں لیکن وہاں وقت کے ساتھ ساتھ سب کچھ لکھا جا رہا ہے۔۔

Leave a Comment