khawand ki farmaanbardar aorat ka waqia | hadees shareef


khawand ki farmaanbardar aorat ka waqia
khawand ki farmaanbardar aorat ka waqia


خاوند کی فرمانبردار عورت




امام غزالی حدیث لاتے ہیں کہ ایک خاوند گھر سے نکلا تو بیوی کو کہہ گیا کہ جب تک میں واپس نہ لوٹوں گھر سے نہ نکلنا۔ دو گلیاں چھوڑ کے بیوی کےوالدین کا گھر تھا۔ خاوند جہاد پہ چلے گئے یا کسی سفر پہ چلے گئے۔ کہہ گئے میری اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلنا۔

خاتون کے والد بیمار ہو گئے حضورﷺ کی بارگاہ میں پیغام بھیجتی ہے۔ کہتی ہے یارسول اللہﷺ والد بیمار ہے کیا حکم ہے۔ نبی پاکﷺ نے فرمایا چاہے تو جا سکتی ہے پر خاوند کی اطاعت کرے گی تو اس کے لیے زیادہ بہتر ہو جائے گا۔ دو چار دن کے بعد پھر پیغام بھیج دیا کہتی ہے محبوبہ باپ شدید بیمار ہے حکم کیا ہے۔ نبی پاک علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا چاہے تو جا سکتی ہے۔ کیونکہ حضور شارع ہیں، مختار ہیں شرعی معاملات میں کسی کو چاہے تو کسی چیز کی بھی اجازت عطا فرما سکتے ہیں۔ فرمایا میں اجازت دیتا ہوں جا سکتی ہے پر خاوند کی اطاعت میں رہے گی تو اس کے لیے بہترہے۔ حد ہو گئی بھائیو حد ہو گئی۔

عرض کرتی ہے حضورﷺ باپ انتقال کر گیا ہے۔ بیٹی ہوں کیا کروں رہ نہیں سکتی۔ حضورﷺ نے فرمایا میں اجازت دیتا ہوں چلی جائے پر خاوند کی فرمانبرداری کرے گی تو بہتر ہو جائے گا۔ صحابہ کہتے ہیں پہلے وہ پیغام بھیجتی تھی جب باپ کا انتقال ہوا تو اس شام مصطفیﷺ نے پیغام بھیجا۔ فرمایا پتہ کرو گئی تو نہیں۔ صحابی نے واپس آ کے عرض کی حضورﷺ کوئی نہیں گئی۔ فرمایا جاؤ اس سے جا کے میری طرف سے خوشخبری دے دو کہ تو نے اپنے خاوند کی فرمانبرداری کی ہے۔ رب کریم نے تجھے بھی بخش دیا ہے تیرے باپ کی بھی بخشش فرما دی سبحان اللہ تیرے اس عمل نے تیرے باپ کی بخشش کا سبب بنا دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Comment