Mard Millat Maulana Ghulam Ghos Hazarvi || مرد ملت مولانا غلام غوث ہزارویؒ

مرد ملت مولانا غلام غوث ہزارویؒ
مرد ملت مولانا غلام غوث ہزارویؒ

یہ واقعہ اس مرد مجاہد ملت کا ہے جس نے اپنی ساری زندگی دین اسلام اور ختم نبوت کے لیے وقف کر دی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا ایک بیٹا تھا جو شدید بیمار تھا ۔جسے ڈاکٹرز نے لاعلاج قرار دے دیا تھا۔ وہ بستر مرگ پر تھا اور اپنی زندگی کی اخری سانسیں لے رہا تھا کہ ان کے گھر ایک بزرگ تشریف لے آئے اور آ کر اس مرد قلندر سے کہا کہ ہمارے علاقے میں ایک قادیانی مبلغ آیا ہوا ہے۔ جو لوگوں کے ایمان خراب کر رہا ہے لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے۔ آپ کی ضرورت ہے، آپ میرے ساتھ چلیے۔ اس مرد قلندر نے اپنے بیٹے کی طبیعت نہیں دیکھی اور فوراً چند کتابیں اٹھائیں اور کہا جلدی چلو۔

اس کے بیٹے نے اور بیوی نے کہا کہ بابا رک جائیں مت جائیں میں اپنی زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہوں مجھے آپ کی ضرورت ہے۔ تو اس مرد حر نے مرد قلندر نے مضبوط لہجے میں فرمایا بیٹا !میں محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خاطر ان کی عزت و ناموس کی خاطر دین اسلام کے لیے جا رہا ہوں۔میرا ایمان ہے انشاء اللّٰہ کل حوض کوثر پر تم سے ملاقات ہو جائے گی ۔اور یہ کہہ کر اجازت لی اور آپ روانہ ہو گئے۔
 
اڈے پہنچ کر ابھی بس میں بیٹھے ہی تھے کہ پیچھے سے کچھ اہل محلہ دوڑتے ہوئے آئے اور آ کر کہا کہ مولانا رک جائیں، ابھی مت جائیں آپ کے بیٹے کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس کا جنازہ پڑھا کر جائیے گا ۔جوان بیٹے کی موت باپ کی کمر توڑ دیتی ہے۔ اس مرد حر کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ سرد مگر مضبوط لہجے میں فرمایا جنازہ فرض کفایہ ہے اور امت مسلمہ کی رہنمائی فرض عین ہے۔میں فرض عین کو چھوڑ کر فرض کفایہ کے لیے نہیں جا سکتا۔ یہ کہہ کر اپنے سفر کا آغاز کیا۔ اس علاقے میں پہنچے۔ اللہ نے فتح سے سرفراز فرمایا۔ وہ قادیانی مبلغ شکست خوردہ ہو کر وہاں سے بھاگ نکلا۔ اس علاقے کی فضا تاجدار ختم نبوت، تاجدار ختم نبوت کے نعروں سے گونج اٹھی۔
 
اس مرد حر مجاہد ملت کو آج دنیا حضرت مولانا غلام غوث ہزار وک رحمت اللہ علیہ کے نام سے جانتی ہے۔ حضرت اقبال کہتے ہیں امام علی مقام جو تلوار کربلا میں لے کر گئے تھے وہ اقتدار کے لیے نہیں وہ دین کی سر بلندی کے لیے تھی۔
 
اے عہد حاضر گواہ رہنا چراغ الفت جلایا ہم نے؛
راہ وفا کے قدم قدم پر ہمارے لہو کے چراغ جلیں گے؛
اور ہمارا لہو بھی شامل ہے، تعزین گلستان میں؛
ہمیں بھی یاد رکھنا گلشن میں جب بہار آئے؛
 
اللہ کریم سے دعا ہے اللہ اپنے حبیب کی ناموس کے طفیل اس مرد قلندر ،پروان ختم نبوت کی قبر پر بے حساب رحمتوں کا نزول فرمائے اور ان کے درجات مزید بلند فرمائے۔
 
کی محمد  سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں؛
یہ جہاں چیز ہے کیا؟لوح و قلم تیرے ہیں؛
 
سلام یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔۔۔

1 thought on “Mard Millat Maulana Ghulam Ghos Hazarvi || مرد ملت مولانا غلام غوث ہزارویؒ”

Leave a Comment