nasooh ki tobah ka waqia | urdu moral story

nasooh ki tobah ka waqia
nasooh ki tobah ka waqia

نصوح کی توبہ


دراصل نصوح ایک عورت نما مرد تھا. جس کا ظاہری، حلیہ نین و نقش عورتوں کی طرح کے تھے. باریک اور شیریں آواز چہرہ بغیر داڑھی کے باریک اندام کا مالک اور نین نقش اور نزاکت ہوبہو عورتوں والی. اس نے اپنے ظاہری اس جو عورتوں کی مثل اس کا چہرہ تھا اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے عورتوں کے ایک حمام کے اندر ملازمت اختیار کر رکھی تھی. وہ عورتوں کا وہاں  مساج کیا کرتا تھا لیکن دیکھنے والا کسی  بھی طرح یہ شک نہیں کر سکتا تھا کہ یہ کوئی مرد ہے. وہ بالکل عورتوں کی مثل تھا. اب اس کام کو اس نے اپنا ذریعہ معاش بھی بنایا ہوا تھا اور اپنے نفس کی تسکین کے لیے وہ عورتوں کو مساج بھی کیا کرتا تھا. بارہا مرتبہ اس کے ضمیر نے اسے ملامت کی اور اس نے اللہ کے ڈر سے توبہ بھی کی. لیکن ہر بار وہ اپنی توبہ توڑ دیا کرتا تھا.

لیکن ایک روز ایسا ہوا کہ بادشاہ وقت کی بیٹی شہزادی اسی حمام میں مساج کے لیے آگئی. مساج کے دوران اس کی انگوٹھی کا یا ہار کا ایک ہیرا گم ہو گیا. اس نے اعلان کر دیا کہ اس حمام میں جتنے لوگ موجود ہیں ان تمام لوگوں کی تلاشی لی جائے. اب نصوح نے اپنے راز کو اشکار ہونے کے ڈر سے اپنے آپ کو ایک الماری کے اندر بند کر لیا. اسے تو اپنی فکر لاحق ہو گئی کہ آج تو میں نہیں بچ سکتا. آج میرا راز دنیا پہ آشکار ہو کے رہے گا۔ اور باہر آوازیں لگ رہی تھی کہ نصوح کہاں ہے نصوح کو تلاش کرو. اب جب نصوح کے کانوں میں الماری کے اندر یہ آواز گئی کہ نصوح کہاں ہے نصوح کو تلاش کرو۔ جب نصوح کی تلاشی لی جانی تھی تو ظاہر ہے نصوح کا راز آشکار ہو جانا تھا کہ وہ ایک مرد ہے.

نصوح نے سچے دل کے ساتھ اپنے رب کو پکار لیا. اورآنکھوں سےآنسو جاری ہو گئے۔ کہ اے اللہ آج میرا پردہ رکھ لے، آج میں صدق دل سے توبہ کرتا ہوں کہ دوبارہ اس حمام میں نہیں آؤں گا اور نہ ہی دوبارہ اس طرح کے کام میں دخل دوں گا اور اس نے جب سسچے دل سے توبہ کی

عشق تھا فتنہ گرو سرکش و چالاک میرا

آسمان چیر گیا نالہ بے باک میرا

یہاں اس کے صدق دل سے توبہ کرنے کی دیر تھی کہ باہر سے کسی کنیز نے کہہ دیا کہ نصوح کو چھوڑ دو کہ شہزادی کا ہار یا وہ موتی مل گیا ہے. نصوح نے اللہ کا شکر ادا کیا.

اور اس روز جب وہ حمام سے اپنے گھر چلا گیا تو اگلے روز اس نے عہد کر لیا کہ دوبارہ اس حمام پہ میں نہیں جاؤں گا. لیکن جب وہ کچھ روز کے لیے حمام پہ نہ گیا تو شہر کی جو رئیسہ خاتون اس کے پاس آتی تھی، اس کی مستقل گاہک تھی۔ انہوں نے باربار اس کو پیغام بھجوانے شروع کر دیے کہ تم ملازمت کے لیے، کام کے لیے، مساج کے لیے کیوں نہیں آتے. تو نصوح نے اپنے دل میں یہ گمان کیا کہ اگر میں مزید اس شہر میں اور رہا تو یقینا میں دوبارہ اس توبہ کو توڑ دوں گا۔ نصوح نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اس شہر کو چھوڑ کر کسی اور جگہ کسی ویران بستی میں آباد ہو جائے۔ جہاں اسے کوئی نہ جانتا ہو۔

نصوح نے ایسا ہی کیا کسی دور ویرانے میں جا کر وہ آباد ہو گیا۔ زندگی گزارنے لگا اب وہاں ایک روز اس نے ایک گائے کو دیکھا جو چرتی چرتی وہاں سے گزر رہی تھی تو اس نے یہ سوچا کہ شاید یہ کسی ریوڑ سے کھو گئی ہے۔ اس نے اس گائے کو اپنے پاس رکھ لیا کہ اس کا مالک اس کی تلاش میں نکلے گا ڈھونڈتے ہوئے وہ میرے پاس آجائے گا تو میں گائے کو اس کے حقیقی مالک کے حوالے کر دوں گا۔ اب دو چار روز گزر گئے مالک تو نہ آیا۔ لیکن وہاں سے ایک تجارتی قافلے کا گزر ہوا۔ اس قافلے نے نصوح کو دیکھا تو پانی کی فرمائش کی کہ ہمیں پانی کی پیاس لگی ہے پانی پلا دو۔ نصوح کے پاس پانی تو نہیں تھا اس نے اسی گائے کا دودھ دھویا اور اس تجارتی قافلے والے جو افراد تھے ان کے سامنے پیش کر دیا۔ تجارتی قافلے کے لوگوں نے دودھ پیا اور خوش ہو کر انعام کے طور پہ کچھ رقم نصوح کو دے دی۔

نصوح نے تجارتی قافلے سے ملنے والی وہ رقم یہ سوچ کر کہ اس راستے میں بہت سے قافلے گزرتے ہیں، لوگوں کو پیاس لگتی ہوگی۔ اس نے اسی راستے پر ایک کنواں کھدوا دیا۔ اب آنے جانے والے تجارتی قافلے اسی راستے کی طرف آنے لگے۔ اس راستے پر آمد و رفت معمول سے زیادہ ہونے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے نصوح کے گرد و نواح ایک بستی تعمیر ہونا شروع ہو گئی۔ آہستہ آہستہ لوگ وہاں مقیم ہونے لگے اور اس بستی کے تمام افراد نصوح کی دریا دلی اور اس کے اخلاق سے بڑے متاثر تھے۔ اس بستی میں نصوح کی بہت زیادہ عزت تھی۔ وہ اپنے ہر معاملے میں نصوح کو احساس برتری محسوس کروایا کرتے تھے کہ تم ہمارے معتبر شخص ہو۔

اب آہستہ آہستہ جب وقت گزرتا گیا، نصوح کی اس دریا دلی اور نیک دلی کا شہرہ جب دور دراز علاقوں تک پہنچنے لگا اور راہ چلتے چلتے بات بادشاہ کے دربار میں پہنچ گئی۔ جو بادشاہ وقت تھا اس کے وزیروں نے بتایا کہ یوں ایک نصوح قبیلے کا سردار ہے اور وہ بڑا دریا دل ہے۔ لوگوں کے ساتھ بڑا حسن سلوک کرتا ہے، بہت اچھا انسان ہے۔

بادشاہ نے نصوح سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کر دیا، وزیروں سے کہا کہ نصوح کو پیغام بھیجو میں اس سے ملنا چاہتا ہوں۔ لیکن نصوح نے یہ سوچ کر ملاقات سے انکار کر دیا کہ اگر میں بادشاہ سے ملا تو کہیں میرا راز آشکار نہ ہو جائے۔ تو بادشاہ نے جب انکار سنا تو اس کی بے نیازی سے اور متاثر ہوا کہ یہ کوئی بڑا شخص ہے، بڑے کردار کا مالک ہے۔ لہذا ہم خود اس کے پاس چلے جاتے ہیں۔ بادشاہ نے رخت سفر باندھا، نصوح کی طرف آ ہی رہا تھا کہ راستے میں خدا کی کرنی کہ اللہ نے ملک الموت کو حکم دیا کہ بادشاہ کی روح کو قبض کر لو۔ اب جب بادشاہ مر گیا تو وزیروں نے یہ سوچا کہ بادشاہ چونکہ نصوح کی بہت عزت کرتا تھا اور اس علاقے میں سب سے معتبر اب نصوح ہی ہے۔ لہذا اگلا بادشاہ ہمارا نصوح ہوگا۔ باہمی مشاورت کے ساتھ وزیروں نے نصوح کو تخت پہ بٹھا دیا۔

اب نصوح اس علاقے کا بادشاہ تھا اس نے اپنی رعایا میں بہت عدل و انصاف اور خوشیاں تقسیم کیں، کوئی بھی سائل، کوئی بھی بھوکا نہ رہا، عدل و انصاف کا بول بالا ہو گیا، ریاست بہت خوشحال ہو گئی۔ ایک دن اس کے دربار میں ایک اجنبی شخص آتا ہے اور آ کر کہتا ہے کہ بادشاہ سلامت میری گاۓ کھو گئی تھی تو نصوح کہنے لگا کہ وہ تمہاری گاۓ میرے پاس امانت رہی ہے۔ اور میرے پاس آج جو کچھ بھی ہے تمہاری گاۓ کی بدولت ہے۔ لہذا میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ میرے سارے خزانے کے آدھے مالک آج سے تم ہو میں یہ آدھا خزانہ تمہیں دیتا ہوں۔ تو اسی وقت وہ انسان اجنبی شخص کہنے لگا کہ میں اپنے رب کے حکم سے کلام کرتا ہوں کہ نہ تو وہ گاۓ کوئی جانور تھی اور نہ میں انسان کوئی عام انسان ہوں۔ میں اللہ کا بھیجا گیا فرشتہ ہوں اور وہ جانور بھی اللہ کا ایک فرشتہ تھا۔ ہم دونوں فرشتے نصوح کی توبہ کو پرکھنے کے لیے آئے تھے اور نصوح تمہیں مبارک ہو تم اپنے امتحان میں کامیاب ہو گئے ہو اللہ تم سے راضی ہو گیا ہے۔

قربان جاؤں کہ ایک وہ شخص نصوح جو حرام طریقے سے روزی کمایا کرتا تھا، حرام طریقے کے ساتھ اپنے نفس کی خواہش کو پورا کیا کرتا تھا۔ آج تخت پہ بیٹھا ہے اور بادشاہ ہے۔ آج اس کی شہزادیوں کے ساتھ شادی ہو چکی ہے اور وہ ایک علاقے کا بادشاہ ہے ۔

یہ سچی سچی توبہ کرنے کا صلہ تھا جو اللہ نے نصوح کو دیا۔ اللہ کریم ہمیں بھی ایسی سچی اور سچی توبہ نصیب کرے جس کے بعد ہم دوبارہ کسی گناہ کی طرف مڑ کے بھی نہ دیکھیں۔ اللہ ہمیں ایسی توبہ نصیب کرے اور پھر اس پر استقامت عطا فرمائے۔ اپنا بہت سا خیال رکھیے سلام پہنچے۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Comment