The history and biography of Khwaja Nizamuddin Auliya in urdu

یہ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو محبوب الہٰی کہتے ہیں نا ان کا واقعہ بھی علماء نے یہ لکھا ہے صوفیا نے کہ ان کے شیخ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمت اللہ تعالی علیہ ایک دن موج میں آگئے اور کہا کہ نظام الدین محب بنو گے یا محبوب بنو گے۔

علاؤ الدین خلجی 

علاؤ الدین خلجی حضرت نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لیے ترستا تھا کہ مجھے حضرت نظام الدین اولیاء کے حضور حاضر ہونا نصیب ہو۔ لیکن آپ اس کو کہتے تھے فقیر کی خانقاہ کے دو دروازے ہیں اگر تو ایک دروازے سے آیا تو میں دوسرے سے باہر نکل جاؤں گا اور اگر تو نے زیادہ تنگ کیا تو میں تیرا شہر چھوڑ جاؤں گا اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے تیرا وطن، تیرا ملک چھوڑ جاؤں گا۔

 ایک دن وہ آپ کی خانقاہ کے اندر اچانک پہنچ کے آپ کی خانقاہ کے اندر جانا چاہا تو آپ نے خادموں سے کہا دروازے بند کر دو۔ دروازے بند کر دیے گئے۔ بادشاہ سمجھا کہ یہ اتنے پکے لوگ ہیں فقی کہ مر جائیں گے دروازے نہیں کھولیں گے تو کشت و خون ہوگا۔ اس نے کاغذ کے ایک ٹکڑے پہ لکھا اور خادم کے ذریعے حضرت کو پہنچایا۔ لکھا یہ کہ  یہ کیا بات ہوئی کہ بادشاہوں کی چوکھٹ پہ بھی بواب چوکیدار اور فقیروں کے دروازوں پر بھی بواب۔  فرق کیا ہوا شاہی میں اور فقیری میں تو حضرت نے کاغذ کے ٹکڑے کی پشت پر لکھا فرق یہ ہے کہ بادشاہوں کے دروازوں پر جو بواب ہوتے ہیں وہ فقیروں اور سائلوں کو روکنے کے لیے ہوتے ہیں اور فقیروں کی چوکھٹ پہ جو بواب ہوتے ہیں  وہ بادشاہوں کو روکنے کے لیے ہوتے ہیں۔ اس نے کہا حضرت اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کی خانقاہ کی زیارت کر سکتا ہوں؟ آپ نے کہا جاؤ کر لو۔ وہ گیا خانقاہ دیکھی تو لنگر خانہ دیکھا، مختلف جگہیں دیکھی جب استبل میں پہنچا۔ گھوڑوں کا استبل تھا بہت بڑا حضرت نظام الدین اولیاء کا تو جب وہاں پہنچا تو کیا دیکھا کہ گھوڑوں کی جو میخیں ہیں، کلیں جو ہیں وہ چاندی کی ہیں اور جن زنجیروں اور سنگلوں سے ان کے پاؤں باندھے ہوئے ہیں وہ سونے کے۔ تو بادشاہ کو پھر شرارت سوجی تو اس نے پھر کاغذ کے ٹکڑے پہ لکھ کے حضرت کو بھیجا یہ کیا ہوا بادشاہوں کے پاس بھی سونا اور فقیروں کے پاس بھی سونا چاندی تو فرق کیا ہوا بادشاہوں اور فقیروں میں۔ تو شیخ نے اسی کاغذ کے ٹکڑے کی پشت پر لکھا فرق یہ ہے بادشاہ خزانوں میں سنبھال کے رکھتے ہیں فقیر گھوڑوں کے قدموں میں ڈال کے رکھتے ہیں۔ تو ان کے نزدیک سونے چاندی کی اہمیت کیا ہوتی ہے۔

بہار چین (قیمتی قالین)

 جب بہار چین یہ بہت بڑا قیمتی قالین تھا۔ ایران جب فتح ہوا حضرت فاروق اعظم کے زمانے میں تاریخ پڑھیں تو یہ بہار چین ایسا قیمتی قالین تھا کہ اس زمانے میں اگر کسی کو وہ بہار چین پہ بٹھا دیتے تو وہ ساری زندگی ناز کرتا کہ میں بہار چین پہ بیٹھا ہوا ہوں۔ تو حضرت عمر کے زمانے میں جب ایران فتح ہوا تو وہ بہار چین قیمتی جو قالین تھا وہ اونٹوں پہ لاد کے مدینے بھیجا گیا اور جب وہ مال غنیمت اترا اور اس میں بہار چین بھی تھا تو لوگوں نے پوچھا کہ کیا کیا جائے۔ کسی نے کہا مسجد نبوی میں بچھا دیا جائے تو حضرت عمر نے کہا یہ اس قابل کہاں ہے کہ مسجد نبوی میں بچھایا جائے۔ تو کہا کہاں رکھا جائے مسجد نبوی سے باہر جہاں لوگ جوتے اتارتے تھے حضرت عمر نے حکم دیا کہ یہاں بچھا دو لوگ جوتے صاف کر کے مسجد میں جایا کریں۔ سبحان اللہ جس قالین پہ زمانے کو ناز تھا وہ قدموں میں بچھا ہوا تھا۔ یہ اسلام کا مزاج ہے۔

Khwaja Nizamuddin Auliya 1 The history and biography

محبوب الہٰی

 یہ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کو محبوب الہٰی کہتے ہیں نا ان کا واقعہ بھی علماء نے یہ لکھا ہے صوفیا نے کہ ان کے شیخ حضرت بابا فرید الدین گنج شکر رحمت اللہ تعالی علیہ ایک دن موج میں آگئے اور کہا کہ نظام الدین محب بنو گے یا محبوب بنو گے۔ تو یہ بڑی خدمت کرتے تھے اپنے شیخ کی تو کہا کہ محب بنو گے یا محبوب تو کہا حضرت اگر اجازت ہو تو اپنی ماں کو نہ پوچھا آوں اللہ اکبر۔ ان لوگوں کی مائیں بھی تو صاحب حال ہوا کرتی تھی۔ تو کہا کہ اگر اجازت ہو تو اپنی ماں کو نہ پوچھا آوں کہ محب بننا یا محبوب بننا ہے۔ کہا جاؤ تمہیں اجازت ہے۔ تو گھر کی طرف روانہ ہوئے ایک آدھ  دن کا سفر کیا۔ راستے میں ایک فقیر تھا مجزوب جو راستے میں بیٹھا تھا حالت اس کی عجیب سی تھی تو یہ سلام کر کے گزرنے لگے تو وہ مسکرا کے بولا محب بنو گے یا محبوب۔ تو حیرت زدہ ہو گئے کہ اسے کیسے پتہ چل گیا یہ تو میرے شیخ کا اور میرا راز ہے۔ تو رک گئے کہا کہ حضرت اگر آپ بتا دیں تو بہت اچھا ہو۔ کہا نہیں نہیں ماں سے پوچھو جو وہ بتائے گی وہی بن جانا اور اگر ماں نے نہ بتایا تو کل آ جانا اسی وقت یہاں ملاقات ہوگی پھر میں بتا دوں گا۔

 خیر چلے رات کو پہنچے والدہ کی خدمت میں سلام پیش کیا پاؤں دبائے اور کہا کہ شیخ موج میں آگئے اور کہا محب بنو گے محبوب بنو گے تو میں نے کہا ماں سے پوچھ لوں تو میں اماں جی آپ سے پوچھنے آیا ہوں راستے میں یہ واقعہ بھی ہوا۔ تو ماں نے کہا کہ بیٹے تم صبح ناشتہ کر کے پلٹ جانا اور وہ جو راستے میں تیرے دل کی بات بوج   گیا وہ کوئی صاحب حال تھا وہ تمہیں صحیح بتا سکے گا کہ محب بننا کے محبوب بننا۔ خیر یہ صبح ناشتہ کر کے ماں کے پاؤں پکڑے اجازت طلب کی اور واپس نکلے اور وہاں جا کے دیکھا تو کوئی فقیر نہیں ہے بڑے حیرت زدہ ہوئے دائیں بائیں سے پوچھا کہ یہاں کل ایک بابا بیٹھا تھا۔ کہا وہ تو کل کے فوت ہو گیا تو کہا اس کی قبر کہاں ہے۔ کہا قبر کس نے بنانی تھی اس کی وہ گندگی کے ڈھیر پہ لوگوں نے پھینک دیا۔ دل میں بڑے حیرت زدہ ہوئے اتنا باکمال تھا لیکن اپنی حالت یہ۔ خیر وہاں چلے گئے اور جا کے کھڑے ہو کے پوچھنے لگے بندہ خدا دل کی باتیں بوجتا تھا اور میرے ساتھ وعدہ کیا تھا کہ اگر ماں نے نہ بتایا تو کل آنا اور اپنا پتہ ہی نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ یہ بات کہی تو بابا اٹھ کے بیٹھ گیا  اور کہا کہ نظام الدین محبوب بننا محب نہ بننا محبوں کا یہ حال ہوتا ہے نہ کفن ملتا ہے نہ دفن ملتا ہے۔ محبوب بنو گے تمہاری قبر پہ بھی میلے لگیں گے۔

 اگر حضور ﷺ  کی اطاعت کرو گے حضور ﷺ کی فرمانبرداری کرو گے تو تم محبوب بن جاؤ گے تو حضور ﷺ کی محبت خدا کی محبوبیت کا ذریعہ ہے۔ اس لیے ہمیں حضور ﷺ کا پیار اپنی روحوں میں موج ذن کرنا ہے، حضور ﷺ کی محبت اپنی روحوں میں اتارنی ہے اور محبت اپنے تمام تر تقاضوں کے ساتھ جب روح پذیر ہوگی تو پھر ہمارا انداز زندگی بھی سنور جائے گا ہماری آخرت بھی سنور جائے گی۔ محبت کے من جملہ تقاضوں میں سے سب سے بڑا تقاضا محبوب کی اطاعت ہے کہ بندہ جس سے پیار کرتا ہے اس کی بات مانتا ہے یہ ہے دعویٰ محبت کا ثبوت اس کی دلیل۔ اور حضور ﷺ کے صحابہ کی زندگیاں دیکھیے اور ان کی قربانیوں اور وفاداریوں سے سبق سیکھنا چاہیئے۔۔۔۔۔ 

Leave a Comment