The incident of Hazrat Rabia Basri and Imam Hazrat Hasan Basri || حضرت رابعہ بصریؒ اور امام حضرت حسن بصریؒ کا واقعہ

حضرت رابعہ بصریؒ اور امام حضرت حسن بصریؒ کا واقعہ

حضرت رابعہ بصریؒ اور امام حضرت حسن بصریؒ کا واقعہ


دوستو! رابعہ بصریؒ کو اس دنیا سے گئے ہوئے تقریبا 12 سو سال گزر چکے ہیں۔ لیکن آج بھی ان کا نام زندہ ہے اور آپ کو بتاؤں کہ نہ ہی وہ کوئی شہزادی تھیں، نہ ہی وہ کوئی ملکہ تھیں، اور نہ ہی وہ کوئی اتنی خوبصورت تھیں اور نہ ہی وہ خاندانی تھیں۔ بلکہ عورت ہونے کے لحاظ سے ہر عیب ان میں موجود تھا ۔

ان کی خاص بات یہ تھی کہ جب بھی آپ عشاء کی نماز پڑھتی روزانه عشاء کی نماز کے بعد آپ غسل کیا کرتیں۔غسل کرنے کے بعد آپ اچھا لباس پہنتیں،اپنے شوہر کے پاس جاتیں اور ان سے پوچھتی کہ کیا آپ کو میری ضرورت ہے۔ اگر شوہر کہتے کہ نہیں ہے تو پھر آپ ان سے اجازت طلب کرتے ہیں کہ کیا مجھے اجازت ہے۔ شوہر ان کی اجازت دے دیتے اور پھر وہ ایسے مصلے پر کھڑی ہو جاتی کہ فجر بھی اسی مصلے پر ہوتی۔

ان کے خاوند بیمار رہتے تھے اور ان کے خاوند بیماری کی وجہ سے جلدی وفات پا گئےتو آپ جوانی میں ہی بیوہ ہو گئیں۔ لیکن دوستو ! اس وقت کے امام بصرہ کے امام حضرت حسن بصریؒ خود چل کر ان کے گھر تشریف لائے اور انہیں شادی کی پیشکش کی ۔ انہیں کوئی شادی کا شوق نہیں تھا بلکہ رابعہ بصریؒ تو اولاد کے قابل بھی نہیں تھی۔ آپ خود چل کر اس لیے آئے صرف اور صرف ان کی نیکی اور جو اللہ تعالیٰ سے ان کا تعلق تھا کہ شاید اگر میں انہیں اپنی بیوی بناؤں تو میری بھی بخشش ہو جائے۔ اس لیے حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ خود آپ کے پاس چل کر آئے اور انہیں پیشکش کی کہ رابعہ میں اپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں اور حضرت رابعہ بصری رحمت اللہ علیہ فرمانے لگیں کہ اگر آپ میرے ان چار سوالات کا جواب دے دیں تو میں خود آپ سے شادی کرنے کو تیار ہوں۔

تو آپ نے ان سے پہلا سوال پوچھا کہ مجھے بتائیں کہ کیا میں جنتی ہوں یا دوزخی ہوں ؟تو حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرمانے لگے کہ اس کے بارے میں تمہیں کچھ نہیں بتا سکتا۔

پھر آپ نے ان سے دوسرا سوال پوچھا کہ اچھا یہ بتاؤ کہ جب قیامت میں اللہ تعالیٰ اعمال نامے ہوا میں اڑائے گا کسی کے سیدھے ہاتھ میں آئے گا اور کسی کے الٹے ہاتھ میں آئے گا ۔مجھے یہ بتائیں کہ میرا اعمال نامہ میرے سیدھے ہاتھ میں آئے گا یا الٹے ہاتھ میں آئے گا۔ تو ایک دفعہ پھر حضرت حسن بصری رحمت اللہ علیہ فرمانے لگے کہ اس کے بارے میں تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتا۔

پھر آپ نے ان سے تیسرا سوال پوچھا کہ چلیں مجھے یہ بتائیں کہ جب اللہ تعالیٰ نیکیوں کو تولے گا تو کسی کی نیکی زیادہ ہو جائیں گی، کسی کے گناہ زیادہ ہو جائیں گے اپ مجھے بتائیے کیا میری نیکیاں زیادہ ہوں گی یا میرے گناہ زیادہ ہو جائیں گے۔ اور ایک دفعہ پھر حضرت حسن بصری رحمت اللہ علیہ ان سے فرمانے لگے کہ اس کے بارے میں بھی میں کچھ نہیں بتا سکتا ۔

پھر آپ نے ان سے آخری سوال پوچھا کہ جب لوگ پل صراط سے گزر رہے ہوں گے کچھ لوگ اس میں گر جائیں گے جہنم میں گر جائیں گے، کچھ لوگ اسے کراس کر لیں گے کیا مجھے بتا سکتے ہیں کیا میں پل صراط پار کر لوں گی یا میں جہنم میں گر جاؤں گی تو حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ پھر فرمانے لگے کہ اس کے بارے میں میں کچھ نہیں بتا سکتا ۔

تو پھر آپ فرمانے لگی کہ معذرت آپ یہاں سے جا سکتے ہیں۔ مجھے ان چار سوالوں کی تیاری کرنی ہے مجھے ان چار سوالوں کی تیاری کرنی ہے میرے پاس وقت بہت کم ہے اور میرے پاس شادی کا وقت نہیں ہے مجھے ان چار سوالوں کی تیاری کرنی ہے۔

اور دوستو !پھر جب ان کا انتقال ہوا تو آپ کا انتقال رات کے وقت ہوا ۔آپ نے اپنی خادمہ سے کہا کہ مجھے جلدی سے دفن کر دینا، کسی کو مت بتانا ۔صبح لوگوں کو بے شک بتا دینا لیکن رات کو مجھے جلدی دفنا دینا اور مجھے کفن دینا تو میری اسی چادر میں جس میں میں تہجد پڑھا کرتی تھی مجھے اسی چادر میں لپیٹ کر دفن کر دینا ۔سبحان اللہ

1 thought on “The incident of Hazrat Rabia Basri and Imam Hazrat Hasan Basri || حضرت رابعہ بصریؒ اور امام حضرت حسن بصریؒ کا واقعہ”

Leave a Comment