The incident of Sultan Murad || sultan murad ka waqia in urdu

The incident of Sultan Murad
 sultan murad ka waqia in urdu



علامہ اقبال نے اپنے خوبصورت انداز میں لکھا ہے۔ کہتے ہیں سلطان مراد ہندوستان کا بادشاہ تھا ۔ اس نے ایک مستری کو بلایا مسجد بنانے کے لیے۔ اور کہا مسجد اس طرح کی بنانا کہ میرا دل خوش ہو جائے مستری نے مسجد بنائی۔ لیکن بادشاہ سلامت کو پسند نہ آئی تو بادشاہ سلامت نے اس مستری کا ہاتھ غصے سے کاٹ ڈالا ۔پوچھ کوئی نہیں نہ سکتا ناں۔

وہ سیدھا قاضی کی عدالت میں کٹا ہوا ہاتھ لے کے گیا اور قاضی کے دروازے پہ جا کے کہنے لگا میں پوچھ سکتا ہوں آپ کس کا کلمہ پڑھتے ہیں، پوچھ سکتا ہو؟ تو قاضی کہتے ہیں میری کرسی بھی کانپنے لگی اور جس کمرے میں بیٹھا تھا وہ کمرہ بھی کانپنے لگا ۔میں نے کہا سوالی تو بات کر۔ کہا نہیں پہلے بتاؤ کلمہ کس کا پڑھتے ہو؟ تو قاضی کہتا ہے میری آنکھیں برس پڑیں۔ میں نے کہا میں اس کاکلمہ پڑھتا ہوں جو دنیا میں بھی میرا وارث ہے، قیامت میں بھی وہی میرا والی بنے گا۔ جو دنیا اور اخرت میں میرا والی ہے میں مصطفیٰ ؐ کا کلمہ پڑھتا ہوں۔

کہنے لگے ہاں اس لیے تجھ سے یہ بات کہلوائی ہے کہ کہیں تو بادشاہ کا تو کلمہ نہیں پڑھتا معاذ اللہ ۔تو قاضی ہے عدالت میں بیٹھا ہے کرسی پہ اس کا کلمہ تو نہیں پڑھتا۔ کہا نہیں میں مصطفیٰ ؐ کاکلمہ پڑھتا ہوں۔کہا پھر دیکھ میرا ہاتھ کٹ گیا ہے اب تو بتا کہ تو بادشاہ سمجھ کے معاف کرے گا یا رسول اللہ کا دین سمجھ کے نافذ کرے گا ۔

ڈاکٹر اقبال کہتے ہیں قاضی نے حکم جاری کیا کہ فورا ًبادشاہ کو بلایا جائے۔ ہندوستان کا فرمان روا کوپیغام گیا تو کانپتا ہوا آیا۔ قاضی نے سامنے کھڑا کیا ایک طرف بادشاہ اور ایک طرف وہ معمولی مستری کام کرنے والا ۔قاضی گرجدار آواز میں کہنے لگے بادشاہ تو بتا اس کا خون سرخ ہے تو تیرا سرخ نہیں ،اس کے بازو پہ گوشت ہے تو تیرے بازو پہ نہیں ،اسے درد ہوتا ہے تو تجھے نہیں ہوتا ۔یہ تو نے کیا حرکت کی ۔بادشاہ کی گردن جھک گئی ۔قاضی کہنے لگے پکڑو اس کو باہر لے جاؤ اور اس کا بازو کاٹ دو۔

ڈاکٹر اقبال کہتے ہیں جہاں کانپ رہا تھا سارا کچھ وہاں خوشی کے شادیانے بجنے لگے۔ قاضی کہنے لگا اس کا بازو کاٹو اور اس کو بتاؤ امیر غریب کا فرق اتنی دیر ہوتا ہے جتنی دیر بندہ مسلمان نہیں ہوتا ۔اور جب کوئی رسول اللہ ؐکا غلام ہو جاتا ہے پھر سارے برابر ہو جایا کرتے ہیں ۔

بندہ او صاحب و محتاج و غنی ایک ہوئے  ٗ
تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے ٗ
اور
اپنی ملت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کر  ٗ
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی ٗ

اقبال کہتے ہیں جب باہر لے جایا گیا بادشاہ کو تو بادشاہ نے گردن جھکائی۔ مستری کہنے لگا تو نے گردن کیوں جھکا دی ہے، اب کیا ہوا بادشاہ سلطان مراد آنکھ کھول کے کہنے لگا بھول گیا تھا ،غلطی ہو گئی تھی بادشاہی کے تکبر میں آیا تھا ۔وہ جو تیرا ہاتھ کاٹا ہے وہ تکبر سے کٹ گیا ہے اور یہ جو گردن میں نے جھکا دی ہے یہ میں نے اپنے نبیؐ کے دین کی حد کے نیچے جھکا دی۔ حضور کے قانون کے نیچے جھکا دی ہے یہاں سزا لوں گا وہاں شرمندہ نہیں ہونا چاہتا ۔

اس مستری نے بڑھ کے سینے سے لگا لیا اور کہنے لگا قاضی صاحب میں نے معاف کیا مجھے پتہ چل گیا ہے کہ مسلمان بادشاہوں کا کلمہ نہیں پڑھتے محمد عربیؐ کا کلمہ پڑھتے ہیں رسول اللہ ؐکا کلمہ پڑھتے ہیں اور جب تک مسلمان نبی پاکؐ کا کلمہ پڑھیں گے کوئی اللہ کی حدوں کو نہیں توڑے گا ،کوئی دین کو پامال نہیں کرے گا، کسی کے اندر طاقت پیدا نہیں ہوگی کہ وہ دین کی حد کو توڑ سکے۔۔۔

Leave a Comment