The incident of the martyrdom of Hazrat Saad Al-Aswad || حضرت سعد الاسودؓ کی شہادت کا واقعہ

A companion whose name is Hazrat Saad (RA). The name is Saad but people used to call him black because of his black color.The incident of the martyrdom of Hazrat Saad Al-Aswad || حضرت سعد الاسودؓ کی شہادت کا واقعہ

حضرت سعد الاسودؓ کی شہادت کا واقعہ
حضرت سعد الاسودؓ کی شہادت کا واقعہ
 
ایک صحابی جن کا نام حضرت سعد رضی اللہ تعالی عنہ ہے۔ نام سعد ہے لیکن رنگ کالا سیاہ ہونے کی وجہ سے لوگ اسے اسود کہتے تھے۔ ایک روز بارگاہ رسالت عزت مآب صلی اللہ علیہ ہ وسلم میں حاضر ہوئے۔ عرض کرتے ہیں بڑے دکھی دل کے ساتھ کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میرا رنگ کالا سیاہ ہے، ظاہری خوبصورتی نہیں ہے، نقش موٹے ہیں میں شادی کرنا چاہتا ہوں ۔لیکن اس وجہ سے کہ میرا حسن و جمال نہیں ہے کوئی بھی مجھے اپنی بیٹی کا رشتہ نہیں دیتا ۔یا رسول اللہ ؐ آپ میرے لیے نکاح کا کوئی بندوبست فرمائیں۔

 
کیہا دکھیاں جا کے دکھیاں نوں غم خوار آگئے ہن خیر ہےٗ
ہوئیاں حاکم خوشیاں نبیاں نو سردار آگئے ہن خیرہےٗ
تے پہلے مرن تو ڈر پیا لگداہا سرکار آگئے ہن خیر ہےٗ
 
حضور ؐسراپہ رحمت انداز میں فرمایا اچھا دیکھو یہاں امر بن وہب بیٹھے ہیں تو عرض کرتے ہیں یا رسول اللہؐ وہ تو موجود نہیں ۔امر بن وہب سقفی ہیں، خوبصورت حسب نسب خاندان، ان کی بیٹیاں بھی خوبصورت۔تو حضور سے کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ؐوہ تو نہیں ہے۔حضور ؐنے فرمایا اچھا ایسا کرو ان کے گھر تشریف لے جاؤ دروازے پہ جا کے دستک دینا اور کہنا کہ حضورؐنے بھیجا ہے۔ اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کر دو ۔
 
اب یہ خوشی کے ساتھ مچلتے ہوئے اب حوصلہ بھی پیدا ہو گیا تھا چند لمحے پہلے تو ہمت ہی نہیں تھی نا کوئی بیٹی دیتا ہی نہیں تھا، رنگ روپ ہی نہیں تھا زمانے کی نظر میں۔ دل تو ایمان سے منور تھا ۔دروازے پہ پہنچے دستک دی۔ امر بن وہب باہر آئے، پوچھا جی بتائیں کیا ہے؟
 
کہا حضور ؐکا قاصد بن کے آیا ہوں حضورؐ نے حکم دیا ہے کہ اپنی بیٹی کا نکاح مجھ سے کر دے۔ اب امر بن وہب ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے تو بیٹی کی طرف دیکھ کر اور ان کے ظاہری حسن کی طرف دیکھ کر بیٹی کی محبت میں فورا ًسے بول اٹھے ۔کہنے لگے کہ جا جا میں تجھ سے اپنی بیٹی کا نکاح نہیں کرتا ۔اب یہ حضرت سعد الاسود بڑے شکستہ دل کے ساتھ واپسی مڑتے ہیں کہ پیچھے سے بیٹی نے سن لیا تھا ۔یہ جو گفتگو ہوئی باپ کی اور حضرت سعد الاسود کے مابین یہ امر بن وہب کی بیٹی نے سن لی تھی ۔بیٹی آ کر کہنے لگی کہ ابا جان آپ نے میری محبت میں یہ تو کہہ دیا ہے کہ جاؤ میں تم سے نکاح نہیں کرتا لیکن آپ نے حضور ؐ کی رضامندی کو ٹھکرا دیا ہے، آپ نے حضور ؐ کی ناراضگی مول لی ہے۔ اگر حضور ؐنے میرا رشتہ کر دیا ہے تو مجھے قبول ہے۔ جائیں جا کر فورا ًسے ہاں کر دیں۔
 
ا دھر حضرت سعد نے آ کر حضور ؐکی بارگاہ میں عرض کی کہ حضورؐ وہ رشتے کے لیے رضامند نہیں۔ پیچھے سے امر بن وہب دوڑتے ہوئے آئے اور اآکر عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ ہ وسلم حضور معافی چاہتا ہوں میں اور میری بیٹی رشتے کے لیے رضامند ہیں۔ حضورؐ آپ نکاح فرما دیں۔
 
حضور ؐنے 400 درہم حق مہر کے عوض نکاح فرمایا اور حضرت سعد سے فرمایا کہ سعد حق مہر کی رقم ادا کرو اور اپنی دلہن کو لے جاؤ ۔تو حضرت سعد عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم میرے ماں باپ قربان حضورؐ میرے پاس تو رقم بھی نہیں ہے کہ میں حق مہر ادا کر سکوں۔ حضورؐ کے چہرے پہ تبسم آیا سراپہ رحمت حضورؐ نے فرمایا اچھا ایسا کرو عبدالرحمٰن بن عوفؓ، ثابت ابن قیسؓ ،علی ابن ابی طالبؓ کے پاس جاؤ اور جا کر کہنا کہ حضور ؐنے فرمایا ہے حق مہر کی رقم کا بندوبست کر دیں۔ یہ دوڑتے ہوئے تشریف لے گئے۔ تینوں صحابیوں نے مل کر اتنی رقم جمع کی کہ 400 درہم سے زیادہ رقم جمع ہو گئی۔
 
رقم جب ان کےحوالے کی تو حضرت سعد یہ سوچ رہے ہیں کہ 400 درہم تو حق مہر ادا کروں گا اوپر جو رقم اضافی ہے پہلے بازار جاتا ہوں کچھ زیورات ،کچھ کپڑے خرید لیتا ہوں۔ کچھ تحفے لے لیتا ہوں جا کر اپنی بیوی کو دوں گا۔
 
اب یہ بازار میں داخل ہوئے۔ یہ وہ دور تھا کہ جب مدینے میں بدو ڈاکو گاہے بگاہے حملے کرتے رہتے تھے ،کبھی آتے جاتے راہگیروں کو لوٹ لیتے تھے ،کبھی تاجروں کو نقصان پہنچاتے، کبھی چرواہوں کو قتل کر دیتے۔ اتنے میں کسی نے آ کر حضور ؐکو خبر دی کہ بدوں نے حملہ کر دیا۔ حضور ؐنے فرمایا اچھا ایسا کرو کہ مسجد میں اعلان کروا دو۔اب مسجد میں جب صدا لگائی گئی حی الجہاد اے اللہ کے سوارو نکل آؤ۔
 
اب جب یہ صدا لگائی جاتی تھی تو کوئی بھی صحابی گھر نہیں رکتا تھا وہ اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکل پڑتا تھا ۔اب یہ جب آواز حضرت سعد الاسود کے کانوں میں پڑی آپ بازار میں موجود ہیں۔ اور آپ جانتے ہیں جس نوجوان کو ایک خوبرو دلہن مل گئی ہو پہلے کوئی رشتہ نہ دیتا ہو اور کتنے خواب سجائے ہوئے آپ اپنی دلہن کے لیے کچھ چیزیں خرید رہے ہیں، شاپنگ کر رہے ہیں اپنی شادی کی ۔لیکن جب کانوں میں حضور ؐ کی صدا پہنچ گئی کہ اللہ کے سوار و نکل آؤ تو حضرت سعد کے قدم رک گئے آسمان کی جانب رخ کیا اور فرماتے ہیں کہ اے اللہ اے زمین و آسمان کے مالک، اے مصطفٰیؐ کے اللہ اب یہ رقم سعد کی شادی پر نہیں اب یہ تیرے راستے پر قربان ہوگی ،اب یہ تیرے راستے پہ خرچ کی جائے گی۔
 
ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ جس نوجوان کی شادی ہو رہی ہو کتنے خواب ہوتے ہیں دل میں لیکن نہیں اپنی مرضی کو ترک کر دینے کا نام ہی اللہ کی رضا ہے ۔فورا ًسے پہلے ایک گھوڑا ،ایک تلوار ،ایک زرہ خریدی ۔گھوڑے پر سوار ہوئے اور ہوا کی رفتار کے ساتھ آپ اس جگہ پہنچے جہاں حملہ ہوا تھا۔ چہرے پر نقاب ڈال لیا کہ کہیں مجھے کوئی پہچان نہ لے۔جب جا کر آپ معر کے میں شامل ہوئے آپ کے گھوڑے کو زخم لگا ۔آپ نیچے گر پڑے حضور ؐنے دیکھا تو بازوں سے پہچان لیا اور فرمایا سعد تم یہاں کہاں، سعد تمہیں تو حق مہر کے لیے بھیجا تھا تم یہاں کیوں آئے ہو ۔کیونکہ تمہارا تو نکاح ہے تو سعد عرض کرتے ہیں یا رسول اللہ ؐمیں آپ کی رضا کے لیے، اللہ کی رضا کے لیے قربان ہونا چاہتا ہوں۔ آپ کی رضا کے لیے آیا ہوں۔
 
تو حضور نے فرمایا کہ سعد تم پر جنت واجب ہو گئی۔ حضرت سعد کہتے ہیں یا رسول اللہؐ مجھے اور کیا چاہیے یہ کہتے ہوئے آپ نے پھر لڑنا شروع کر دیا ۔تلواروں کی ضربیں آپ کو لگیں، ادھر کافر خاکستر ہو کر بھاگ نکلے۔ حضرت سعد لڑکھڑا کر گرنے لگے تو حضورؐ نے انہیں برق رفتاری کے ساتھ آگے بڑھ کر حضرت سعد کو سنبھالا تو حضرت سعد حضور ؐ کی گود میں آگئے ۔
 
حضرت سعد کا سر انور زخموں سے چور اور خون بہتا ہوا حضورؐ کی گود میں ہے ۔اور حضورؐ حضرت سعد کے چہرے کو دیکھ رہے ہیں۔ مہتاب عالم ،والضحیٰ کے چہرے پر آنسو ہیں ،داڑھی مبارک سے آنسو حضرت سعد کے چہرے پہ گر رہے ہیں۔ اور حضورؐ نے فرمایا کہ سعد تو کتنا خوبصورت ہے ،سعد تو نے اللہ اور اس کے رسول کو راضی کر لیا ،اے سعد تجھ سے کتنی خوشبو آرہی ہے۔
 
چند لمحے پہلے یہ منظر تھا کہ نکاح کی مجلس سجی ہوئی تھی اور چند لمحے بعد منظر یہ ہے کہ حضرت سعد اللہ کی راہ پہ قربان ہو گئے ہیں، سعد شہید ہو گئے ہیں۔ اور حضورؐ کی آنکھوں میں حضرت سعد کے لیے آنسو ہیں۔ اپنی شادی کے تمام ارمان کو پس پشت ڈال کر اللہ کی راہ میں قربان ہو گئے۔ یہ تھے کبھی وہ شاہ سوار
 
یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائیٗ
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائیٗ
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو عجب چیز ہے لذت آشنائی ٗ
 

2 thoughts on “The incident of the martyrdom of Hazrat Saad Al-Aswad || حضرت سعد الاسودؓ کی شہادت کا واقعہ”

Leave a Comment