The smallest punishment of hell || جہنم کا سب سے چھوٹا عذاب

جہنم کا سب سے چھوٹا عذاب

 جہنم کا سب سے چھوٹا عذاب


حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے جبریل  سے پوچھا مجھے جہنم کے عذابوں کا ذکر سناؤ۔ جبریل نے عرض کی حضور ﷺ سب سے ہلکے عذاب کی کہانی سناتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ جہنمی کے پاؤں میں آگ کا جوتا رکھا جائے گا۔ باقی پورا بدن اس کا سلامت ہوگا یہ سب سے ہلکے عذاب کی کیفیت ہے۔ اب پاؤں میں آگ کا جوتا ہوگا حدت، گرمی، شدت اتنی ہوگی کہ دماغ پگھل کر ناک اور کانوں کے راستے سے باہر آ جائے گا۔ پاؤں میں پہنے ہوئے جوتے کی گرمی دماغ کو ایسے چڑھے گی کہ وہ پگھل جائے گا اور ناک اور کانوں کے راستے سے باہر آ جائے گا ۔تو اللّٰہ کے عذاب کے خوف سے چہرے بگڑ جائیں گے، حالت سلامت نہیں رہے گی۔ 

یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اللّٰہ تعالیٰ جس کو جہنم میں ڈالے گا اس کو اس صورت میں نہیں ڈالے گا یہ محمدی صورت ہے یہ شکل اس کی چھین لی جائے گی اور اس کی شکل بڑی کر دی جائے گی۔ اس کا ایک ایک دانت احد پہاڑ جتنا ہوگا۔ احد پہاڑ کا پھیلاؤ 15 کلومیٹر پہ ہے 15 کلومیٹر کا ایک دانت اور 32 دانت کتنے ہوں گے تو منہ کتنا بڑا ہوگا۔ اس کو اتنا بڑا اس لیے کیا جائے گا تاکہ وہ عذاب کی تکلیف زیادہ سہے۔ 70 ،70 گز موٹی کھال ہوگی اور کھال جل جائے گی تو اللّٰہ قرآن میں فرماتا ہے ہم نئی کھال دے دیں گے تاکہ عذاب کی تکلیف اس کو گوارہ کرنی پڑے۔ پھر چیخے گا چلائے گا ہائے مجھے پانی دو پانی دو پیاس کی شدت ہے۔ 70 سال تک تو اس کی کوئی آواز ہی نہیں سنے گا ۔70 سال کے بعد داروغہ جہنم چیخ کر کہے گا کیا مانگتا ہے وہ بولے گا مجھے پانی چاہیے۔ کہا جائے گا تمہیں ابھی ملتا ہے پانی۔ نہیں قرآن بتاتا ہے اسے ماء حمیم دیا جائے گا کھولتا ہوا پانی اور وہ اتنا گرم ہوگا جب پینے کے لیے چہرے کے قریب کرے گا اس سے اٹھتی ہوئی بھاپ کی وجہ سے چہرے کی کھال ادھڑ کے اس کے اندر گر پڑے گی۔ لیکن اس کے باوجود اس کو پینا پڑے گا ۔

اللہ فرماتا ہے یہ دنیا ہی سب کچھ نہیں ہے سمجھ لیا یہی سب کچھ ہے۔ آخرت کو بھول گئے، صبح اٹھے کام پہ چلے گئے، شام کو آئے آوارگی میں چلے گئے۔ صدائیں آتی رہی کوئی پرواہ نہیں کی، نہ پیشانیوں نے سجدے کیے ،نہ سوچوں میں پاکیزگی آئی زندگی یوں گزار کے چلے گئے ایسے نہیں۔ کہا ایک وہ ہوں گے جن کے چہرے گلاب کی طرح شگفتہ ہوں گے ایک وہ ہوں گے جن کے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Comment