The Temptation of Social Media and the Destruction of the Young Generation || سوشل میڈیا کا فتنہ اور نوجوان نسل کی تباہی

The Temptation of Social Media and the Destruction of the Young Generation
سوشل میڈیا کا فتنہ اور نوجوان نسل کی تباہی

اسلام وعلیکم عزیز من! آج سے تقریباً کچھ سالوں پہلے ایک خبر آئی تھی کہ کچھ یورپ ممالک میں معاذ اللّٰہ حضور سرور کائنات صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے بنا کے سوشل میڈیا پر شائع کرنے کی جسارت کی جا رہی ہے۔ جس کے خلاف ملک پاکستان اور پوری مسلم ورلڈ کی طرف سے بھرپور غم وغصہ کا مظاہرہ کیا گیا تھا۔ باقی کا تو معلوم نہیں لیکن پاکستان کے حالات اس وقت بہت خراب ہو گئے تھے۔ کئی دن دھرنے اور احتجاج ہوئے اور پھر جا کے اس وقت کی حکومت نے اپنی وساطت سے معاملات کو سنبھالا۔

بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ کیا اسی وقت ان کی یہ گندی حرکت کا سدباب ہو گیا تھا؟میرا ایک سوال ہے ان یوٹیوبرز، ٹک ٹاکرز اور ان شخصیات سے جو چوبیس سو گھنٹے سوشل میڈیا پہ active رہتے ہیں اور نت نئے آن لائن پیسے کمانے کے طریقے بتاتے رہتے ہیں اور خاص طور پر علمائے کرام سے سوال ہے کہ کیا آج بھی سوشل میڈیا پہ گستاخانہ خاکے موجود ہیں یا نہیں؟

دیکھیں سوشل میڈیا کا  کوئی بھی پلیٹ فارم ہو فیس بک، یوٹیوب، ٹک ٹاک، انسٹاگرام، گوگل وغیرہ یہ بذات خود اچھے یا برے نہیں ہیں بلکہ ان کا استعمال ان کو اچھا یا برا بنا سکتا ہے۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ان سے فوائد اٹھانے کے لیے ان کو positiveطریقے سے یا پھر دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لیے negative طریقے سے استعمال کریں۔

اس سے پہلے کہ ہم اصل موضوع پہ بحث کریں میں آپ کو کچھ بتانا چاہتا ہوں کہ یوٹیوب پہ آن لائن ارننگ کی ویڈیوز دیکھ دیکھ کر میرے بھی من میں خیال آیا کہ ایک چینل بناؤں اور میں نے یہ ذہن بنایا کہ ایک اسلامی چینل بناؤں۔ اس کے لیے میں نے مزید ویڈیوز دیکھنی شروع کر
دیں کہ چینل کیسے بنانا ہے اور مواد کہاں سے لانا ہے تو مجھے ایک چینل سے پوری معلومات مل گئی اے ٹو زیڈ۔ 

میں نے over voice کی ویڈیوز بنانی تھی تو اس کے لیے اسلامی تصاویر کا استعمال کرنا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ سوشل میڈیا کے فلاں پلیٹ فارم پہ جا کے آپ سرچ کریں٬اسلامک پینٹنگ،۔ سو میں نے ایسا ہی کیا اور وہاں جا کے میں نے جو تصاویر (خاکے )دیکھیں توبہ توبہ اتنی بڑی
گستاخی۔

اب جس نے بھی یہ تصاویر یا خاکے اپلوڈ کیے ہیں view حاصل کرنے کے لیے یا محبت کا اظہار ہے لیکن ابھی تک ان کو کسی نے گائیڈ نہیں کیا۔اور میں حیران ہوں کہ اتنے بڑے بڑے YouTubers جو اپنے چینل پہ چوبیس گھنٹے پیسے کمانے کے طریقے بتانے میں مصروف عمل ہیں کیا ان کی نظروں سے یہ چیز نہیں گزری یا جان بوجھ کر نظر انداز کر دیا۔اور خاص طور پر علمائے کرام بھی کیونکہ آپ بھی انٹرنیٹ پہ بہت active ہوتے ہیں آپ نے بھی کبھی جائزہ نہیں لیا۔

حیرانگی کی بات یہ ہے تصاویر اپلوڈ کرنے والوں کی پروفائل آئی ڈیز مسلم لوگوں کے نام کی ہیں یا تو آن کو آپریٹ کرنے والا کوئی اور ہے یا پھر ہم میں سے ہی کوئی ہے۔  جو جو تصاویر اپلوڈ کی گئیں ہیں ہر تصویر کسی نہ کسی واقعے کی عکاسی کرتی ہے۔ جس میں حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم ،خلفائے راشدین، اہلِ بیت، حسن و حسین علیہ سلام کا بچپن غرض کسی کی بھی آپ کو تصویر چاہیے سرچ بار میں لکھیں تصویر آ جائے گی آپ کہیں بھی اس کو استعمال کر سکتے ہیں۔ استغفرُللہ

بطورِ ثبوت تمام تصاویر میں یہاں اپلوڈ کرنے کی جسارت نہیں کر سکتا۔ لہٰذا آرٹیکل کے آخر میں میں آپ کو لنکس دے دوں گا آپ خود دیکھ لینا۔

آپ نے ان کے خلاف احتجاج بس اتنا کرنا ہے کہ ان تصاویر کی رپورٹنگ والے آپشن میں جا کے ان کے خلاف رپورٹنگ کریں۔ جب بھی کسی بھی تصویر کے خلاف سو، پچاس جب رپورٹس آ جاتی ہیں تو مذکورہ پلیٹ فارم اپنی رپوٹیشن برقرار رکھنے کے لیے اس تصویر کو یا اس کی پوری پروفائل کو بلاک کر دیتا ہے۔ بس آپ نے اتنا  کام کرنا ہے اور اس پیغام کو اتنا شیئر کریں کہ پوری دنیا کے کونے کونے تک پہنچ جائے۔

میں دوبارا آپ لوگوں کی خدمت میں عرض گزار ہوں ک پلیٹ فارم کوئی بھی ہو  بذاتِ خود برا نہیں ہے ہوتا بلکہ ہمارہ استعمال ان کو اچھا یا برا بنا دیتا ہے۔ اب یہ بھی تو social media کا  ایک پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے میں آپ لوگوں تک اپنا پیغام پہنچا رہا ھوں۔

لیکن افسوس کہ ہماری موجودہ نوجوان نسل ڈالر کمانے کے چکروں میں اتنی اندھی ہو چکی ہے ک ہماری اسلامی روایات کو تار تار کر کے رکھ دیا ہے۔ میرے پاس تو اتنا علم کا خزانہ نہیں ہے کہ آج کے موجودہ نوجوانوں کے حالات زندگی آپ کے سامنے رکھ سکوں میں خود ایک گنہگار شخص ہوں.
اللّٰہ تعالٰی سے دعا کریں کہ اس عاجزانہ کوشش کے طفیل میری آخرت سنور جائے۔ سر اسد بن ثناءاللہ نے آج کے نوجوانوں پہ خاصی اچھی گفتگو فرمائی ہے آپ کے گوش اتارنا چاہتا ہوں۔

سر اسد بن ثناءاللہ

 

جو میں سچ کہوں تو برا لگے جو دلیل دوں تو ذلیل ہوں

 یہ زمانہ جہل کی زد میں ہے یہاں بات کرنا حرام ہے

 میں آج بار دیگر مخاطب ہوں اپنے سستے اسلامی جمہوریت پاکستان کے یوٹیوبر  سپیشلی ولاگرز اور سو کالڈ آنفولانزا اور ٹک ٹاکر سے خدا کے لیے اس نوجوان نسل پہ تھوڑا سا رحم کھا لیں.

 گو کہ اقبال یہاں
نام نہ لیں علم خود ہی کا 
موضوع نہیں  مکتب کے لیے ایسے مکالات 

لیکن پھر بھی بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں 

خدا کے لیے میں پھر بھی یہ عرضی کرنا چاہتا ہوں کہ اس نوجوان نسل پر تھوڑی سی شفقت کا مظاہرہ کر دیں،  تھوڑا سا رحم کر لیں کیا کچھ دکھانا چاہ رہے ہیں آپ ان کو؟ یہ کس طرح کا طوفان بدتمیزی برپا ہے کہ گھر کا وہ ماحول جو کبھی ہماری پرائیویسی ہماری حیا کا حصہ ہوا  کرتی تھی جو معاشرے کی تہذیب اور تمدن ہماری ثقافت ہمارا معیار ہوا کرتا تھا آپ نے  تو اس کو تار تار کر کے رکھ دیا ہے کبھی ہماری گھر کی ماں، بہن، بیٹیاں ،بیویاں ہماری عزت اور حمیت و غیرت کی علامت ہوا کرتی تھی آپ نے تو سرعام نیلام کر دیا ہے.

سستی شہرت اور ڈالر کمانے کی حرس و ہوس نے آپ کو برہنہ کر کے رکھ دیا ہے. ڈالرز کیا  آنے لگے آپ نے ایمان حیا اور روایات کی پاسداری اور اخلاقیات اصولوں کو تار تار کر کے رکھ دیا  ہے. جو جی میں آئے بکتے چلے جاؤ ،جو دل کرے دکھاتے چلے جاؤ بدنام  جو ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا .جو جتنی ذومعنی  گفتگو کرتا ہے، جو جتنا فحش بولتا ہے اتنا ہی چینل اس کا grow کرتا چلا جاتا ہے.

 آپ کو کیا لگتا ہے کہ آپ جو کچھ اس نوجوان نسل کو دکھا رہے ہیں یہ ہوا میں جا کے کوئی بخارات بن رہے  ہیں نہیں دیکھنے والے شعور رکھتے ہیں یہ بچے ابھی سیکھ رہے تھے یہ سارا کچھ ان کے ذہنوں پر ریکارڈ ہو رہا ہے اور ہر  ایکشن کا  ری ایکشن ہوتا ہے . اس کا ری ایکشن ہو رہا ہے ری ایکشن کیا ہے معاشرے کی طرف دیکھ لیں بچوں کے ساتھ زیادتیاں ہو رہی ہیں، بڑوں کے اندر ناچاکیاں ہیں ،گھروں میں طلاق  کی شرح  کتنی بڑھ گئی ہے، بد تمیزی ، فحاشی اور  عریانی کا بازار گرم ہو چکا ہے .کبھی ہماری یہ مائیں، بہن، بیٹیاں ہماری غیرت و حمیت کی علامت ہوا کرتی تھیں .

 اقبال نے نقشہ کھینچا 

روہیلہ کس قدر ظالم جفا جو کینہ پرور تھا 

نکالی شاہ تیموری کی آنکھیں نوک کے خنجر سے

 پھر دیا اہل حرم کو رقص کا فرمان ستم گرنے

 اور یہ انداز ستم کچھ کم نہ تھا آثار محشر سے 

رکھا خنجر کو آگے پھر کچھ سوچ کر لیٹا

 تقاضا کر رہی تھی نیند گویا چشم احمر سے 

پھر اٹھا اور تیموری حرم سے یوں لگا کہنے 

شکایت چاہیے نہ تم کو کچھ اپنے مقدر سے 

میرا مسند پہ سو جانا بناوٹ تھی تکلف تھا

 کہ غفلت دور ہے شان سفر یان لشکر سے

 لیکن میرا یہ مقصد تھا میرا اس سے کہ کوئی تیمور کی بیٹی

 مجھے غافل سمجھ کر مار ڈالے میرے خنجر سے

 مگر صد افسوس کے راز اخر کھل گیا سارے زمانے پر

 ہمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے

 وہ جو ہماری غیرت ہوا کرتی تھی نا اس کو آپ نے مار دیا ہے. خدا کے لیے سستی شہرت کے لیے اس طرح عزتوں کو برہنہ نہ کریں. 

میں دیکھ رہا ہوں کہ بہت  سی ایسی  فیملیز ہیں جنہوں نے vlogs بنانے کیا  شروع کر دیے ہیں کہ گھروں میں بیٹھی ہماری مائیں ،بہن بیٹیاں، بچیاں احساس کمتری کا شکار ہو گئی ہیں. وہ بھی یہ سوچ رہی ہیں کہ چلیں اگر کچھ دکھا کر، گھر کا ماحول دکھا کر یا اپنی زیب و زینت آرائش جس بیٹی کو صفا مروہ میں دوڑنے کی اجازت نہیں تھی جس کی تخلیق کے وقت فرشتوں سے اس کی مٹی کا پردہ رکھا گیا اور اللّٰہ نے اس کو ایک پردے میں رکھنے کا حکم دیا آپ اس کو تار تار کر رہے ہیں. چند ڈالرز کے عوض وہ سامنے آ تی ہیں اور اپنی زیب و زینت دکھا رہی ہیں. خدا کے لیے ترس کھائیں معاشرے پہ تھوڑا سا رحم کریں.

 کچھ چیز روشن خیالی  بھی ہوتی ہے یا صرف intertenment .ہماری عوام کو بھی اللّٰہ خدا کا خوف کریں کچھ شعور دے دے کہ انہیں ہر چیز میں انٹرٹینمنٹ چاہیے. سوشل میڈیا پہ انٹرٹینمنٹ ،دفاتر میں، گھروں میں۔ Enlightenment بھی کوئی چیز ہوتی ہے. کبھی آپ نے سوچا ہے کہ کیا مسلمان کی زندگی کوئی پھولوں کی سیچ ہے.

 ہم نے موت اور زندگی کو خلق اس لیے کیا تھا کہ دیکھ سکیں کون ہے جو تم میں سے نیک اعمال کرتا ہے. القرآن

    اور وہ دن آنے والا ہے وہ جو زندگی نہ ختم ہونے والی ہے . اللّٰہ نے فرمایا ہے کہ تم پر جو کرامن کاتبین نصب کیے گئے ہیں وہ devices ریکارڈنگ کے لیے لگائی گئی ہیں جو کسی بھی قسم کی فنی خرابی سے پاک ہیں  اور وہ ڈیٹا Reel کیا جائے گا.  کوئی عمل رائی کے دانے کے برابر بھی چھوٹا ہو تو اللّٰہ اس سے لا موجود کرے گا. القرآن

کسی کی دل آزاری مقصود نہیں تھی مطمع نظر فقط اصلاح تھا .خدا کے لیے اللّٰہ فرماتا ہے کہ نصیحت کرتے رہو نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے. کاش کسی کے دل میں اتر جائے میری بات ۔سلام پہنچے.

اب میں آپ کو وہ تمام لنکس دے رہا ہوں جن پے جا کے آپ نے رپورٹ کرنی ہے یہی آپ کا جہاد  ہے اور حضور ﷺ  سے محبت کا ثبوت بھی .اس پلٹ فارم کا نام ہے  pinterest . جب آپ نیچے دیے گۓ کسی بھی لنک پہ کلک کریں گیں تو یہ اسی ( pinterest ) میں اوپن ہو گا سائن اپ کے لئے ان کی کچھ  requirmnt ہوتی ہے جو آپ easy طور پر کر سکتے ہیں .

میری تمام مسلمانوں سے  گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیر کریں تانکہ زیادہ سے زیادہ رپوٹیں مارکر اس کا بروقت تدارک کیا جاے . ورنہ  ہماری آنے والی نسلیں اس چیز کو   اپنا کلچر بنا لیں گی .جس میں نہ کوئی ادب رسول ﷺ اور نہ ہی کوئی ادب آل رسول ﷺ ہو گا
. یہ ایک فتنہ ہے جو  ہمارے دلوں سے رسول ﷺ اور آل رسول ﷺ کی محبت اور مقامِ ادب نکالنا چاہتا ہے . 

میری گزارش ہے ان نوجوانوں سے جو انٹرنیٹ سے وابستہ ہیں تھوڑا سا ٹائم نکال کر ادھر بھی توجہ دیں . آپ روزانہ کی بنیاد پر چار ،پانچ پوسٹوں پہ رپوٹ مار دیا کریں انشاء اللّٰہ آپ کی نیکی رائیگاں نہیں  جاے گی .ڈالر کمانے کے لئے بھی گھنٹوں کام کرتے رہتے ہو .تھوڑا سا نیکی کا کام بھی کر لیں . جزاک اللّہ 





حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم، مولا علی علیہ سلام،  بی بی فاطمہ زہراء علیہ سلام،  امام حسن علیہ سلام، امام حسین علیہ السلام 

یہاں کلک کریں 

حضور پاک صلی اللّٰہ علیہ وسلم جب سجدے میں  تھے 

یہاں کلک کریں 

فتح خیبر 

یہاں کلک کریں 

حضور ﷺ کا بچپن کا واقعہ 

یہاں کلک کریں 

فاطمة الزهراء(ع) والحسن والحسين

یہاں کلک کریں 

ویڈیو ملاحظہ فرمائیں

یہاں کلک کریں

یوں اس  platform پر ایسی ہزاروں اور لاکھوں پوسٹیں ہیں جن کو یہاں جمع کرنا یا اندراج کرنا ناممکن ہے اس لئے بطور ثبوت میں نے چند پوسٹیں شیر کر دیں ہیں باقی آپ اس پلٹ فورم پہ جاکے خود visit کریں اور کسی بھی اسلامی ہستی کا نام لکھیں تمام پوسٹیں آپ کے سامنے آ
جایں گی .آپ کو جو نامناسب لگے آپ اس پر رپورٹ کر دیں . 

الله کریم سے دعا ہے اس نیک کام کے  صدقے ہماری آخرت سنور جاۓ اور ہمیں کامل ایمان نصیب ہو جاۓ . آمین  

 

Leave a Comment