Truth is the source of power ( Message Karbala ) || پیغام کربلا حق ہی طاقت کا سرچشمہ ہے

پیغام کربلا حق ہی طاقت کا سرچشمہ ہے
،پیغام کربلا ٬حق ہی طاقت کا سرچشمہ ہے

اسلام و علیکم ناظرین! ﷽

یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ واقعہ کربلا اور خانوادہ رسول ﷺ کی مقدس ہستیوں کی شہادت اور سیدنا امام حسین علیہ السلام کی شہادت یہ جو پورا واقعہ ہے اس کے اندر دو فلسفے آپس میں ٹکراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ دو فلسفوں کا ٹکراؤ تھا ،دو سوچوں کا ٹکراؤ تھا وہ سوچیں کیا تھیں، وہ دو فلسفے کیا تھے، وہ دو افکار کیا تھے انہیں سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ واقعہ واقعہ نہ رہے ایک ابدی حقیقت کے طور پہ سمجھ میں آ جائے۔

حسین حسینیت کا روپ دھار چکے ہیں اسی طرح یزید یزیدیت کا روپ دھار چکا ہے۔ واقعہ کربلا میں جن دو سوچوں کا ٹکراؤ تھا وہ یہ تھی کہ ایک سوچ یہ تھی اور وہ یزیدیت کے روپ میں آج بھی ایگزسٹ کرتی ہے۔ وہ سوچ یہ تھی کہ طاقت ہی حق ہے۔ کیا سوچ تھی طاقت ہی حق ہے یعنی جس کے پاس طاقت ہے وہ حق پر ہے۔ اسی کی پیروی کی جائے، اسی کا ساتھ دیا جائے، اس سے ہر صورت سمجھوتہ کیا جائے، اس سے بنائی جائے بگاڑی نہ جائے، اس کی تابعداری کی جائے، اس کے معاونت کی جائے اور یوں اس کی تائید کر کے اور اس کی تائید لے کر زندہ رہا جائے۔ یہ ایک سوچ تھی جو ایک مختصر سے جملے میں میں نے کہا کہ طاقت ہی حق ہے یہ سوچ تھی۔

اس کے ساتھ امام حسینؑ کی سوچ کا ٹکراؤ تھا اور ان کی سوچ تھی کہ طاقت ہی حق نہیں ہے بلکہ حق ہی طاقت ہے۔ آپ نے دیکھا جملہ ایک ہی ہے صرف لفظ تھوڑے آگے پیچھے ہو گئے ۔یزید جس سوچ کا نام تھا وہ تھی کہ طاقت ہی حق ہے اور حسین جس سوچ کا نام ہے وہ ہے کہ حق ہی طاقت ہے یعنی طاقت کی پرستش نہ کی جائے، طاقت کا ساتھ نہ دیا جائے حق کا ساتھ دیا جائے، حق کا ساتھ دیتے ہوئے اگر طاقت آپ کو کچل بھی دے تو آپ پھر بھی زندہ و جاوید ہیں۔ آپ پھر بھی زندہ و تابندہ ہیں ۔

ان دو فلسفوں کے ٹکراؤ نے یہ بات امت مسلمہ کو اور عالم انسانیت کو سمجھائی کہ واقعہ کربلا کے نتیجے میں حسینؑ شہید ہو گئے اور یزید نے اپنا تخت بچا لیا۔ حالانکہ ابھی کوئی مسلح جنگ نہیں تھی، کوئی بغاوت کی صورت ابھی نہیں پیدا ہوئی تھی۔ یہ تو پرامن قافلہ تھا جو سوئے کوفہ رواں تھا اور صرف خاندان کے لوگ تھے۔ تو یہ جنگ کی تیاری تو نہیں ہوتی مگر واقعہ کربلا کے نتیجے میں امام حسینؑ اور خانواده رسولؐ یہ سب شہید ہو گئے۔

یزید کا تخت بچ گیا لیکن فلسفہ کربلا کا یہ ہے کہ حسینؑ شہید ہو کر بھی زندہ ہو گئے اور یزید تخت بچا کر بھی مردہ ہو گیا، حسین نیزے کی نوک پہ چڑھ کے بھی جیت گئے اور یزید تخت پہ براجمان ہو کر بھی ہار گیا یعنی جیت اور ہار کا مفہوم بدل دیا۔ حسینؑ نے ہار اور جیت کا مفہوم بدل دیا اس لیے یہ جو ٹکراؤ تھا دو سوچوں کا تو یزید بربریت کا پیکر تھا۔

اب اس کا ایک دوسرا رخ بیان کرتا ہوں یزید نام تھا بربریت کا اور حسینؑ استعارہ تھے انسانیت کے، یزید خیانت تھا حسینؑ امانت تھے، یزید ظلم تھا حسینؑ عدل تھے، یزید جبر تھا حسین ؑصبر تھے یہ جبر اور صبر کا مقابلہ تھا، یزید سراسر جفا تھا حسینؑ سراسر وفا تھے، یزید نام تھا مطلق الانانی کا حسینؑ نام تھا مساوات ایمانی کا، یہ دو کردار تھے یزید باطل کردار کا نام حسین حق کے کردار کا نام اس لیے جبر کی طاقت، ظلم کی طاقت، خیانت کی طاقت، کرپشن کی طاقت، بربریت کی طاقت، دہشت گردی کی طاقت، خونریزی کی طاقت یہ یزیدیت بنی اور صبر کی جرات و عدل کا کردار، امن کی خوشبو ،انسانیت کا زیور یہ حسینیت بنی ۔یزید سراسر بے حیائی اور لوٹ مار کا نام تھا ۔ حسینؑ سراسر تقویٰ اور ایثار کا نام ۔

یہ ذہن میں رکھ لیں یزید سرا سر کرپشن ہے وہ سراسر کرپشن تھا اس کی کرپشن کی تین ڈائمنشنز تھیں۔ یزید بانی بنا بانی سیاسی کرپشن کا، یزید بانی بنا مالی کرپشن کا اور یزید بانی بنا اخلاقی کرپشن کا ۔سیاسی کرپشن جس کی بنیاد رکھی اسلام کی تاریخ میں انحراف کرتے ہوئے سیاسی کرپشن اس کی یہ تھی کہ اس نے نظام خلافت کی قدروں کو پامال کر دیا۔ خلافت راشدہ یہ سیرت مصطفیؐ کا عملی نظام تھا اگر آپ سیرت مصطفیؐ کی سنت، مصطفیؐ کی تعلیمات حتی کہ قران و سنت کو اگر ایک عملی نظام کی شکل میں دیکھنا چاہیں تو خلافت راشدہ تھی۔ یزید نے اس خلافت راشدہ کی قدروں کو پامال کیا اور اس کو بدل دیا ،بدترین ملوکیت سے اس کو بدل دیا انتہائی صفات اور کرپٹ امریت سے اس کو بدل دیا، ریاستی دہشت گردی سے جہاں سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو دجلہ کے کنارے بھوک سے مرنے والے بکری کے بچے کا بھی فکر تھا وہاں خانوادہ رسولؐ کے مقدس نفوس کچل دیے گئے۔ کتنا فرق تھا اس سوچ کا جو آقا علیہ السلام نے عطا کی تھی۔ امام حسین علیہ السلام اس سوچ کے امین تھے، اس سوچ کے وارث تھے ،ان قدروں کے محافظ تھے، ان کو جاری وساری رکھنا چاہتے تھے، انہیں مزید طاقتور کرنا چاہتے تھے، ان کو تمکن دینا چاہتے تھے اور اس پر مبنی امت کا مستقبل سنوارنا چاہتے تھے۔

یزید نے خلافت راشدہ کی اور نظام رسالتؐ کی تمام قدروں کو پامال کر کے بدترین کرپٹ اور صفات امریت کے نظام کو رائج کیا یہ سیاسی کرپشن تھی ۔ اور اس کے نتیجے میں اس نے خاندانی بادشاہت اوپر سے لے کے نیچے تک قائم کی اس کا وطیرہ یہ تھا کہ جتنے بزرگ باکردار، پختہ ،اچھی سیرت والے عمر رسیدہ ،تجربہ کار ،دیانت دار ،ایماندار افراد جن جن مناصب پر فائز تھے ان سب کو ہٹا دیا اس نے۔ اور اپنے خاندان کے لونڈوں کو یہ جو لفظ استعمال کر رہا ہوں یہ صحیح بخاری میں آیا ہے صاف ظاہر ہے یہ لفظ تو اردو کا ہے انڈیا میں ایجاد ہوا ہے یہ ترجمہ ہے عربی کے ان الفاظ کا جو صحیح بخاری میں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے بیان فرمائے۔آقا علیہ السلام نے بتایا کہ ایسا ہوگا ایسے لوگ آئیں گے۔ اس کا ترجمہ ایگزیکٹلی 100 فیصد مطابقت کے ساتھ اس کا ترجمہ کر رہا ہوں۔ تو چھوکرے، لونڈے، اوباش، بدمعاش، بدگماش جوان ان کو ان تمام مناصب پہ فائز کرتا تھا جگہ جگہ اپوائنٹمنٹ کرتا تھا اور اس نے ساری سلطنت سے عمر رسیدہ ایماندار، باکردار ،باشعور لوگ جن کے اندر ایمانی غیرت تھی ان کو ہٹا دیا برطرف کر دیا اور اپنا ایک حلقہ ہر جگہ یہ خاندانی بادشاہت اور کرپٹ بادشاہت اور صفات بادشاہ اس کی بنیاد رکھی اس نے۔ یعنی کلچر بدل دیا اس سیاست کا جو آقا علیہ الصلوۃ والسلام نے امت کو عطا کی اپنی سنت کی صورت میں اور ریاست مدینہ کی صورت میں اور خلافت راشدہ کی صورت میں ۔ اس کو بدل کر اس نے بدترین خاندانی کرپٹ بادشاہت اور ملوکیت اور امریت کی بنیاد رکھی یہ اس کی سیاسی کرپشن تھی۔

اور اس سیاسی کرپشن میں چونکہ بدترین سفاک آمریت کی بنیاد رکھی اس میں اختلاف رائے کا حق چھین لیا اس نے ہر ایک سے۔ تو میں اپ کو کنسپٹ سمجھا رہا ہوں کہ یزید کیا تھا اور یزیدیت کیا تھی۔ اس نے اختلاف رائے، آزادی رائے اس کا حق چھین لیا ۔ایک جمہوری طریقہ ہے معاشروں میں احتجاج کرنا اس نے احتجاج کرنے کا حق چھین لیا حتیٰ کہ واقعہ کربلا کے بعد شہادت امام حسین علیہ السلام کے بعد اہل مدینہ نے احتجاج کیا آپ کی شہادت کے بعد یزید نے افواج بھیج کر مدینہ طیبہ کو تاخت و تراج کر دیا۔ نہ صرف مدینہ منورہ پر قبضہ کیا مسجد نبویؐ پر قبضہ کر لیا اور اپنے گھوڑے، اونٹ اور خچر مسجد نبویؐ میں باندھے۔ تین دن تک مسجد نبویؐ میں اذان، جماعت اور نماز معطل ہو گئی۔

یہ جو میں واقعہ بتا رہا ہوں اس پر مورخین کا، محدثین کا ،علماء کا، اسلام کی پوری تاریخ میں کسی ایک کا بھی اختلاف نہیں ہےجتنے مورخ، محدث اور علماء ہوئے ہیں تاریخ اسلام کو جس نے جس رنگ میں بھی بیان کیا ہے میں نے ایک لفظ بولا کسی ایک امام، محدث اور مورخ کا بھی 1400 سال کی تاریخ میں اختلاف نہیں ایک کا بھی کسی غیر معتبر چھوٹے درجے کے امام اور مورخ کا بھی اختلاف نہیں ہے۔ تین دن تک مسجد نبویؐ میں اذان معطل کرد ی، نماز معطل کردی اور صرف یہاں تک نہیں جب اپنی افواج کو بھیجا انہیں حکم دے کر بھیجا کہ تین دن تک مدینہ تمہارے اوپر حلال ہے، مباح ہے جو چاہو کرو قتل عام کر دو، لاشیں گرا دو، خون کے دریا بہا دو، عزتیں لوٹ لو تین دن تک جو چاہو کرو میں تم پر حلال اور مباح کرتا ہوں انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔

پھر اہل مکہ نے احتجاج کیا اس واقعہ میں بہت صحابہ شہید ہوئے، بہت سے تابعین شہید ہوئے، صحابیات شہید ہوئیں، بہت سے صحابہ کرام نے شہادت پائی اور ان کے مزارات کا پورا ایک خطہ جنت البقیع میں ہے۔ جب آپ جنت البقیع میں داخل ہوتے ہیں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ کے مزار اقدس کی حاضری کے لیے تو جاتے ہوئے بائیں طرف آتا ہے وہ خطہ۔ یہ واقعہ ہوتا پھر اہل مکہ نے احتجاج کیا پھر اس نے مکہ پر افواج دوڑائیں اور مکہ معظمہ کو تاخت وتاراج کیا اور صرف مکہ معظمہ کو نہیں وہاں مسجد نبویؐ اور روضہ رسولؐ پر بے حرمتی کی ۔یہاں کعبۃ اللہ کی بے حرمتی کی اور منجنیق کے ذریعے کعبۃ اللہ پر تیر برسائے آگ لگائی اور کعبۃ اللہ کا نہ صرف خلاف جلا مگر کعبہ شریف کا بہت سارا حصہ جل گیا۔ کعبۃ اللہ کو جلایا جب کعبۃ اللہ جل رہا تھا یہ دمشق سے یزید ہدایات دے رہا تھا اس کی فوج کا ایک کمانڈر مر گیا نیا کمانڈر اس نے اپوائنٹ کیا اور کعبہ یہ جلا رہا تھا اسی دوران اس کو تکلیف ہوئی اور تڑپ تڑپ کر کعبہ کے جلانے کے دوران مر گیا۔۔۔۔۔۔

Leave a Comment