What is the story of Zunaira in Islam?

Today we are talking about Hazrat Zunira, a great person in the history of Islam. What is the story of Zunira in Islam?.The story of Zunira in Islam is that Hazrat Zunira (RA) was the concubine of a polytheist. She accepted Islam. That polytheist used to beat her with sticks, hit her with cracks, and hurt her.

حضرت زنیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک لونڈی ہیں، غریب ہیں

 ماڑے دا کی کام محمد نس جانا یا رونا 

غریب سادی بی بی اور لونڈی، کنیزہ ایک مشرک کی کنیزہ تھی۔ انہوں نے کلمہ پڑھ لیا۔ وہ ڈنڈوں سے مارتا، دروں سے مارتا، تکلیف دیتا۔ حضرت زنیرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اتنا مارا اتنا مارا اب آپ ایک اور پہلو پر بھی غور کریں۔

 مار بھی پڑ رہی ہے پر خدا ادھر ہی ہے، اللہ کی مدد ادھر ہی ہے۔ رب کہتا ہے کہ پہلے تو صبر کرناں (ان اللہ مع الصابرین) تو صبر کرے گا تو پھر رب کی معیت ملے گی۔ ذرا ٹھہرناں، تو تھوڑا ڈٹ ناں ۔

تو کہے اللہ میرا رب ہے پھر تو پہلے ڈاٹ، پہلے تو نے ڈٹنا ہے۔ جو ڈٹ گیا ڈٹنے والے کے لیے مدد آتی ہے۔ القرآن

 پہلے تھوڑا ٹھہرنا پڑتا ہے، پہلے تھوڑا صبر کرنا پڑتا ہے، حوصلہ کرنا اس کے بعد مدد آتی ہے۔ مار پڑ رہی ہے، مارا جا رہا ہے۔ حضرت زنیرہ کو ان کا مالک جو ہے ظاہری آقا وہ مار رہا ہے یہ کنیزہ ہے۔  اتنا مارا اتنا مارا ان کی بینائی چلی گئی نظر آنا بند ہو گیا۔

 ابو جہل آیا اور کہنے لگا زنیرہ دیکھا ناں ہمارے بت تیری آنکھیں لے گئے۔ (معاذ اللہ ) لات و منات ہمارے بتوں نے تجھے اندھا کر دیا۔ اب ایسا نہیں ہے کہ بی بی روتی جا رہی ہے، روتی جا رہی ہے، مایوسی مایوسی معاذ اللہ پریشانی، غریبی بڑی ہے، پوچھنے والا کوئی نہیں یہ باتیں نہیں۔ کیا جملے ہیں خاتون کے، کیا لفظ ہیں۔ ابو جہل نے طنزیہ کہا معاذ اللہ کہنے لگا دیکھا ناں ہمارے بتوں نے تجھے اندھا کر دیا۔ تو جناب زنیرہ کی آنکھوں کی بینائی گئی ہے اور رات کو گئی ہے، دکھ ابھی تازہ ہے۔ لیکن اللہ پہ جو توکل ہے، اپنے مالک سے جو رشتہ ہے۔ وہ اتنا مضبوط ہے، اتنا طاقتور ہے، اس میں اتنی گہرائی ہے کہ حضرت زنیرہ  اتنی قوت سے بولی، اتنی طاقت سے بولی کہ پورے کفر پر لرزہ طاری ہو گیا۔

 فرمانے لگی تمہارے بتوں کی کیا اوقات ہے کہ میری بینائی لے جائیں۔ یہ میرے رب کی حکمت کا تقاضا ہے۔ جب تک اس نے چاہا زنیرہ دیکھتی رہی اور جب اس نے چاہا زنیرہ کی آنکھوں کی بینائی چلی گئی اور اگر وہ چاہے گا  تو بینائی واپس بھی کر دے گا۔

 اگر ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

 اگر وہ چاہے گا تو بینائی ا بھی آ جائے گی۔ حضرت زنیرہ نے رات کو یہ لفظ کہے۔ ابو جہل اور سارے کفار ڈر کے سن کے چلے گئے۔ آپ اطمینان سے آ کے بستر پہ سوئی۔ جب سویرے اٹھی تو اللہ نے آنکھوں کی روشنی واپس کر دی تھی۔ سبحان اللہ اب چھڑی پکڑی  بازاروں میں گھومتی ہے کہتی ہیں بلاؤ کدھر ہے تمہارے لا ت و منات دیکھو میرے رب نے روشنی واپس کر دی۔

  ادھر آ ستمگر ہنر آز مائیں تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں 

بیمار لوگو یاد رکھو کہہ دیا ڈاکٹر نے کہ تو بڑا بیمار ہے، تو بڑا کمزور ہے، یہ ہو گیا، وہ ہو گیا تو ڈاکٹر اپنے علم کے مطابق بات کر رہا ہے۔ ہوگا تو وہی جو میرا رب چاہے گا۔ کمزور ہو جانا، پریشان ہو جانا، تکلیف میں آ جانا پتہ نہیں بات ہو گئی ہے تو جانے کیا ہو جائے گا۔ اپنی زندگی کے اندر اپنے رب سے رشتہ مضبوط کریں، رسول کائناتﷺ سے رشتہ مضبوط کریں، اللہ والوں سے رشتہ مضبوط کریں۔

 حضرت زنیرہ نے پیغام دیا کہ زندگی میں جو جینا چاہتے ہیں تو وہ رب کا نام لے کے جی سکتے ہیں۔ جو اپنی زندگی میں خوشیاں دیکھنا چاہتے ہیں تو رسول اللہﷺ کے نام پر خوشیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ توکل کی بنیاد پر بندہ خوشیاں لے سکتا ہے اور اگر انسان میں توکل نہیں ہے تو پھر وہ اس کالے جادو سے بھی ڈر رہا ہے، وہ نیلے سے بھی ڈر رہا ہے، وہ پیلے سے بھی ڈر رہا ہے، وہ فلانے سے بھی ڈر رہا ہے۔ وہ میرے خلاف فلانا رشتہ دار سازش کر رہا ہے تو ڈر رہا ہے۔ فلانا میرے بارے میں یہ کر رہا ہے تو ڈر رہا ہے۔ وہ پتہ نہیں دنیا ادھر ہو جائے گی تو کیا ہو جائے گا اٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ 

Leave a Comment