Why are children not being educated?

ناظرین کرام پچھلے کالم میں ہم نے بات کی کہ تربیت کیا ہے اور کیا نہیں ہے؟آج ہمارہ موضوع ہے  تربیہ کیوں نہیں ہو پا رہی؟

 تربیت کیوں نہیں ہو پا رہی؟

 تربیت کیوں نہیں ہو پا رہی اس کے عوامل جاننا بھی بہت ضروری ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کی پانچ بڑی وجوہات ہیں۔ تربیت آج کے معاشرے میں کیوں نہیں ہو پا رہی اور ان پانچ باتوں کو بیان کرنے سے پہلے میں یہ عرض کروں گا کہ عمومی معاشرے کے اندر ایک عمومی فضا اور ایک عمومی خیال یہ پایا جاتا ہے اور جب میں لوگوں سے بات کرتا ہوں تو بہت سے احباب یہ کہتے ہیں کہ تربیت اس لیے نہیں ہو پا رہی کیونکہ آج کے دور میں بہت برائی عام ہو گئی ہے، میڈیا کی وجہ سے نہیں ہو پا رہی۔ بہت سے لوگ بہت سارے برے کاموں میں اتنے جوش سے مشغول ہیں اور برائی اتنی عام ہو گئی ہے اور اتنی آسان ہو گئی اس لیے تربیہ نہیں ہو پا رہی۔ میں اس خیال سے اتفاق نہیں کرتا اگر تربیت کی یہی شرط تھی تو عرب کے معاشرے میں تربیت ناممکن تھی۔ اگر تربیہ کی یہی شرط تھی تو پوری اسلامی تہذیب کے اندر بلکہ 1400 سال کی اسلامی تہذیب میں جہاں کہیں انسان نے اپنے حسن عمل کی مثال پیش کی ہے تو پھر یہ ضروری تھا کہ ہر طرف اچھائی ہوتی۔ تو پھر وہ اچھا کام کر کے دکھاتا۔

 اصل بات تربیہ نہ ہونے کی یہ نہیں ہے کہ آج کے دور میں برائی عام ہو گئی ہے یا آج کے دور میں بہت زیادہ دوسری چیزیں میڈیا اور دوسرے عوامل اتنے ایکٹو ہو گئے ہیں تو تربیہ مشکل ہو گئی۔ اصل بات یہ نہیں ہے بلکہ اصل بات کیا ہے میری نظر میں اس کی پانچ بڑی وجوہات ہیں۔

1: والدین تعلیم کا مقصد بھول گئے ہیں۔ امکانی معاشی مفاد کی خاطر حصول تعلیم

 سب سے پہلی وجہ یہ ہے بہت معذرت کے ساتھ والدین جو ہیں وہ تعلیم کا اصل مقصد بھول گئے اور یہ بہت بڑی وجہ ہے۔ ہم اپنے بچوں کو تعلیم کیوں دلوا رہے ہیں اگر ہمارے دلوں کو ٹٹولا جائے اور ہمارے دل کے اندر جا کے اس کی وجہ ڈھونڈی جائے تو اس کی وجہ جو نکلے گی وہ میں آپ کو بیان کر دیتا ہوں۔ وہ وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کے امکانی معاشی مفاد ،مستقبل کے امکانی معاشی مفاد کی خاطر بچوں کو تعلیم دلوا رہے ہیں۔ ہم فیوچر کے ایک امکانی ایکنامک بینیفٹ کی محبت میں بچوں کو ہمیں یہ خوف لاحق ہے کہ اگر یہ تعلیم نہیں لے گا تو بھوکا مرے گا۔ رازق پر سے ایمان کمزور رکھتے ہوئے ہم تعلیم دلوا رہے ہیں۔ ہماری عجیب کیفیت ہے۔

 تعلیم کا اصل مقصد یہ نہیں ہے کہ یہ کمانے کے قابل ہو جائے۔ تعلیم کا اصل مقصد کچھ اور ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد یہ ہے کہ یہ اپنے نفس پر قابو پانا سیکھ لے۔ نفس اس کے اوپر حاوی نہ ہو یہ اپنے نفس پر حاوی ہو۔ یعنی یہ اپنی ضروریات اور وانٹس میں تمیز کر سکے۔ اس کو زندگی کیوں ملی ہے یہ پہچان سکے۔ یہ اپنی زندگی کے اندر کوئی بڑا رول نبھا سکے۔

 لیکن بہت معذرت کے ساتھ آج کے والدین کی اکثریت تعلیم کے اصل مقصد کو بھول بیٹھی ہے۔ اور وہ بہت سا تھا اور یہ بہت چھوٹے مقاصد کے لیے تعلیم اپنے بچوں کو دلوا رہی ہے۔ بلکہ وہ بولتے ہیں بعض اوقات جتاتے ہیں کہ تمہیں پتہ ہے تمہاری کتنی فیس دیتے ہیں، تمہیں پتہ ہے ٹیوشن کی کتنی دیتے ہیں، یہ کتابیں تمہاری کتنے کی آئی ہیں۔ تمہیں پتہ ہے چار ہزار روپے کا کورس لایا ہوں، 15 ہزار روپے کی فیس دی ہے میں نے، وین کے اتنے دیتا ہوں اور ٹیوشن الگ لگوائی ہے۔ تمہیں پتہ ہے تم پہ کتنا خرچ کرتا ہوں۔ یہ پورا مائنڈ سیٹ غلط ہے اس کے نتیجے میں بچے کے اندر جو بات پیدا ہوتی ہے وہ یہ ہوتی ہے کہ اچھا اگر میرے اوپر اتنی پیسے کی انویسٹمنٹ ہے تومیری سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ میرے باپ نے اگر میری تعلیم پہ لاکھوں لگائے ہیں تو اب میں لاکھوں اس کو واپس کروں اور ساری زندگی کا مقصد یہی بن جاتا ہے۔

2: تعلیمی اداروں نے بڑی کامیابی سے ہر طالب علم کو طالب نمبر بنا دیا ہے. امتحان مقصود بن گیا 

دوسری بڑی وجہ جو تربیت نہ ہونے کی ہے بہت معذرت کے ساتھ تعلیمی ادارے بھی یہاں موجود ہیں لیکن مجھے میں یہ عرض کرنے کی جسارت کروں گا کہ ہمارے تعلیمی اداروں نے بڑی کامیابی سے ہر طالب علم کو یہ سکھا دیا ہے کہ تمہیں طالب نمبر بننا ہے طالب علم نہیں بننا. ہمارے ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز چاہے کالج ہو ،چاہے یونیورسٹی ہو، چاہے سکول ہو حتی کہ بہت معذرت کے ساتھ میں یہ عرض کروں. میں مدارس کے ساتھ بھی میرا پچھلے کئی سالوں سے ایک تعلق پیدا ہوا ہے اور میں ان کے ساتھ کئی مدارس کے معاملات مجھے دیکھنے کے موقع ملا ہے تو میں دیکھتا ہوں کہ مدرسے کا طالب علم ہو یا یونیورسٹی کا طالب علم ہو ،یا کالج یا سکول کا طالب علم ہو اس کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ امتحان  میں کیا خاص  ہے.

 دیکھیے وہ بچہ جس کے والد صاحب پاکستان کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کرتے رہتے ہیں وہ مطالعہ پاکستان کے اس سوال کو جس کا تعلق تحریک پاکستان کی جدوجہد سے ہے اس لیے چھوڑ دیتا ہے کیونکہ وہ اس سال خاص  نہیں ہے. وہ بچہ جس کے پانچ سال سے پیٹ میں درد ہے اور معدہ خراب  رہتا ہے سائنس کے اندر ڈائجسٹو سسٹم کے سوال کو اس لیے نہیں اسٹڈی کرتا کیونکہ وہ اس سال خاص  نہیں ہے. آپ  تصور  کریں اس بچے کی حالت جو نصاب میں موجود احادیث کا مطالعہ اس لیے نہیں کر رہا کہ اس سال خاص  نہیں ہے. میں حدیث کو چوائس میں چھوڑ دوں گا. سورہ فاتحہ کا ترجمہ اس لیے نہیں یاد کر رہا کیونکہ وہ اس سال خاص نہیں ہے. 

آپ  اس قسم کی مینٹیلٹی کے ساتھ کوئی بامعنی تعلیم دے سکتے ہیں؟ امتحان جو ہے ایگزام جو ہے وہ ہمارے تعلیمی نظام کا آسمان  بن گیا ہے. ایگزام نے ہمارے وژن کو بلاک کر رکھا ہے. ایگزام سے پہلے نظر نہیں آتا  ہم تین گھنٹے کے امتحان میں کامیاب ہونے کے لیے اپنے بچوں کو تیار کر رہے ہیں. زندگی کے امتحان میں کامیاب بنانے کے لیے اپنے بچوں کو تیار نہیں کر رہے  اور آخرت  کے امتحان میں تیار کرنے کے لیے تو وہ تو ہمارے موضوعات میں بھی شامل نہیں ہے. وہ تو ہمارے بہت معذرت کے ساتھ ہمارے خواب و خیال میں بھی مشکل سے آتا ہے. تو سوال  یہ ہے کہ ہماری ایجوکیشن صرف نمبروں کے گرد گھومے گی اور اس سسٹم کے نتیجے میں جو انسان پیدا ہوتا ہے وہ نمبر ہی تو پیدا ہوگا. ہم نمبر ہی انسان ہوتے ہیں .

 میں آپ  کو اور ایک بات عرض کروں 16 سال، 18 سال کی ایسی تعلیم کے نتیجے میں جو انسان پیدا ہوتا ہے وہ اپنی پوسٹ گریجویشن اور اپنے ماسٹرز اور اس کے بعد پوسٹ ماسٹرز اگر کوئی سٹڈی یا کوئی ٹریننگ یا کوئی اور کوئی پروگرام کرنا چاہتا ہے تو اس کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ وہ اپنے آپ  کو بہتر کرے. اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے تعارف کو بہتر کرے اپنے تعارف کو بہتر بنانے کی محنت کچھ اور چیز ہے اپنے آپ  کو بہتر بنانے کی محنت کچھ اور چیز ہے. وہ عورت جو اچھی بیوی نہیں بن پا رہی ایم فل میں داخلہ نہ ہونے پر ڈپریشن میں جا رہی ہے. ارے ایم فل میں داخلہ ہونے سے آپ کیا اچھی بیوی بن جائیں گی اپنے شوہر کا دل جیت لیں گی . وہ آدمی  جس کو اپنی بیوی کے ساتھ اور اپنے بچوں کے ساتھ اور اپنے والدین کے ساتھ اچھا تعلق نصیب نہیں ہو پا رہا وہ ایوننگ میں ایم بی اے کرنے پہ بھاگا جا رہا ہے بھاگا جا رہا ہے اور اس کی ساری محنت کا جو حاصل ہے وہ صرف اس کے سی وی میں دو لائنوں کا اضافہ ہے . یقین مانیے جیسا وہ ایم بی اے کرنے سے پہلے تھا ویسے ہی ایم بی اے کرنے کے بعد ہے۔ جیسے بی ایڈ کرنے سے پہلے تھا ویسے ہی بی ایڈ کرنے کے بعد۔ جیسا ایم اے کرنے سے پہلے تھے ویسے ہی ایم اے کرنے کے بعد۔ صرف چند چند فارمولے چند تھیوریز چند فریم ورکس ہمارے معلومات میں آئے ہیں اور سی وی میں ایک لائن ایڈ ہوئی ہے۔

 لیکن ہمارے نفس کے اندر کوئی فرق نہیں پڑا ہمیں اپنے نفس پر قابو نہیں نصیب ہوا۔ کیا پی ایچ ڈی اس بات کی ضمانت ہے یا ماسٹرز اس بات کی ضمانت ہے کہ یہ انسان ماسٹرز کیے ہوئے ہے اس کو ضرور اپنے نفس پہ قابو ہوگا۔ اس کو ضرور یہ بات پتہ ہوگی کہ زندگی کے مقاصد کیا ہیں زندگی کا ویژن کیا ہونا چاہیے بامعنی زندگی کہتے کس کو ہیں۔ اس کو اپنے تزکیے کی فکر لاحق ہوگی کیا یہ بات ماسٹرز یا گریجویشن سے انشور ہو رہی ہے۔ ہمارے ہاں یہ نہیں انشور ہو رہی بلکہ وہ ایسی چیزیں پڑھتا ہے جس کا اس کی زندگی سے تعلق بہت معمولی نوعیت کا ہے۔ تو یہ ہمارے تعلیمی اداروں کا مسئلہ ہے۔

3:  اپنے تزکیہ کی فکر نہیں ہو رہی 

تربیہ کیوں نہیں ہو پا رہی اس کی تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمیں اپنے تزکیے کی فکر نہیں ہو رہی. ہمیں دوسروں کو ٹھیک کرنے کی کبھی کبھی فکر ہو جاتی ہے لیکن اپنی اپنے تزکیے کی فکر ہمیں نہیں ہو رہی. میں اس نقطے کو آگے  اور واضح کروں گا تھوڑی دیر بعد.

 4: تربیت کی فکر کرنے والا انسان پسندیدہ نہیں بن پا رہا 

 چوتھی جو بڑی وجہ ہے تربیہ نہ  ہونے کی تربیہ کی فکر کرنے والا ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ ضرور ایسے ہیں جو الحمدللہ تربیہ کی فکر کرتے ہیں. میں یہ نہیں کہنا چاہ رہا کہ ہمارے معاشرے میں تربیت بالکل بھی نہیں ہو رہی. الحمدللہ ہمارے معاشرے میں کہیں کہیں تربیہ کی کامیاب کوششیں بھی الحمدللہ ہوتی ہیں. بہت سے اداروں میں، بہت سے گھروں میں، بہت سی مسجدوں میں، بہت سے مدارس میں الحمدللہ بہت اچھی اپروچ کے ساتھ، بہت اچھی حکمت عملی کے ساتھ بہت اچھا کام بھی ہو رہا ہے لیکن ان کا جو تناسب ان کی جو کہہ لیں ریشو ہے وہ بہت معمولی ہے. یعنی یہ ون پرسنٹ سے بھی کم ہے. باقی جگہوں پہ کچھ شور ہے لیکن وہ پریکٹیکلی کوئی بہت ایفیکٹو ثابت نہیں ہو رہا اور اس کی بہت بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سارے لوگ جنہیں تربیت کی فکر اگر ہوئی ہے وہ اپنے بچوں کا پسندیدہ انسان بننے سے معذور ہو گئے ہیں.

 ہمارے آج  کے بچے کا بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ انسان جو اس کی اخروی فلاح چاہتا ہے وہ انسان اس بچے کا پسندیدہ انسان نہیں بن پا رہا اور میں آپ سے عرض کروں کسی کا پسندیدہ انسان بنے بغیر اس کی تربیت ناممکن بات ہے. تربیہ کسی انسان کو صحیح اور غلط ثابت کرنے سے نہیں ہوتی. تربیت کسی انسان کو پسند آ  جانے سے شروع ہوتی ہے. اچھا انسان جب مجھے پسند آ  جاتا ہے تو میری تربیت کا امکان روشن ہو جاتا ہے. اچھا انسان جب مجھ پہ میری غلطیاں ثابت کر دیتا ہے اور مجھے پسند نہیں آتا  ہے تو میری تربیت کا دروازہ بند ہو جاتا ہے.

 یہ بہت اہم اصول ہے جسے ہمیں سمجھنا ہوگا یعنی ہمارے معاشرے کا کوئی اچھا آدمی جب مجھ پر میری غلطیاں تو ثابت کرتا ہے لیکن میرا پسندیدہ انسان نہیں بن پاتا تو میری تربیت کا دروازہ وہ مجھ پہ بند کر دیتا ہے. لیکن وہ اچھا انسان اگر میرا پسندیدہ انسان بننے میں کامیاب ہو جاتا ہے بھلے مجھے میری غلطیاں ثابت نہ کرے، بھلے مجھے بہت ساری چیزوں پہ غلط ثابت نہ کریں لیکن آپ یقین مانیے میری تربیت کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں. اس لیے کہ مجھے اچھا آدمی پسند آ گیا ہے. اچھا انسان میرا فیورٹ بن گیا، مجھے اچھا آدمی اچھا لگنے لگا ہے. تو یہ کام کیسے ہوگا میں اس کی پریکٹیکل چیزیں بتاؤں گا.

5: ہم بچوں پہ اعتماد نہیں کرتے 

 پانچواں بہت اہم پوائنٹ تربیہ نہ ہونے کی جو بڑی وجہ ہے وہ یہ ہے ہم بچوں پر اعتماد نہیں کر پا رہے. ہم بچوں کو سمجھ نہیں پا رہے بلکہ ہم ان پر اعتماد کرنے کی بجائے ان کے نمبروں پر اعتماد کرتے ہیں. جتنا اعتماد ہم کسی بچے کے نمبروں پہ کرتے ہیں اتنا اعتماد ہم اس بچے پہ نہیں کرتے. جتنا اعتماد ہم کسی بچے کے لیے بنائے جانے والے نصاب  پہ کرتے  ہیں اتنا اعتماد ہم بچے پہ نہیں کرتے. بچہ نصاب  سے زیادہ اہم ہے. بچہ اپنے نمبروں کی وجہ سے اپنا شرف انسانی کھوتا نہیں ہے نمبر کم آ نے کی وجہ سے کوئی انسان اپنے شرف سے نیچے نہیں گرتا.  نمبروں کے دھوکے میں نہ آ ئیں، نہ ڈالیں یہ اصول اپنا بنا لیں. چاہے آپ کے بچے کے نمبر دو ہوں یا چار ہوں، دس میں سے دو ہوں یا دس میں سے ایک ہو ہر بچے کو یہ احساس منتقل کیجئے تم جیسے بھی ہو میرے ہو . تم ہار گئے یا جیت گئے تم میرے ہو ، تم پاس ہو یا فیل ہو تم میرے ہو ،تمہارے اندر جو خوبصورتی ہے، تمہارے اندر تمہاری نیتوں میں جو خوبصورتی ہے، تمہارے ذہن کی جو خوبصورتی ہے، تمہارے دل کے اندر جو خوبصورت خواہشات ہیں اس کی وجہ سے تمہارا مقام بلند ہے. تمہیں اللہ نے ایک بڑے مقصد کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے تم اہم ہو. تمہارے نمبروں کی وجہ سے میں تمہاری بے عزتی  کروں، تمہیں زلیل  کروں، تمہاری تذلیل ہو،  تمہیں سٹریس ملے ایسا نہیں ہونا چاہیے .

 اس سے ہو یہ رہا ہے کہ بچے نفسیاتی مریض بن رہے ہیں. بچوں کی سائیکلوجیکل ہیلتھ تباہ ہو رہی ہے. آج کا بچہ 40 سال پہلے جو سٹریس 18 سال کے لڑکے کو نہیں تھا اس وقت وہ سٹریس چھ سال کے بچے کو ہے. جناب میں سائیکالوجی کی جو علم نفسیات ہیں میں اس کی الحمدللہ میرا ایک شعبہ ہے. میں نے بہت کام کیا ہے بچوں کی نفسیات اور بچوں کے ذہن کو سمجھنے کے لیے میری تحقیقات ہیں. میں آپ سے یہ عرض کر رہا ہوں کہ 40 سال پہلے جو اسٹریس 18، 19 سال کے نوجوان کو بھی نہیں تھا وہ اس وقت کے ایجوکیشن سسٹم اور اس وقت کے والدین کی توقعات کی وجہ سے چھ سال کے بچے کو اس وقت وہ اسٹریس میں ہم لے گئے ہیں . ہم نے اس سے نکالنا ہوگا، ہمیں اس کی زندگی کو ریلیکس کرنا ہوگا، ہمیں اس پر اعتماد کرنا ہوگا تو یہ وہ بنیادی چیزیں تھیں.

 اب تک جو میں نے بات کی میں نے یہ بات کی کہ تربیہ کیا نہیں ہے اور کیا ہے اور تربیہ کیوں نہیں ہو پا رہی تیسرا پوائنٹ میرا یہ ہے کہ تربیہ نہ ہونے کے نقصانات کیا ہیں اس کو بھی سمجھنا بہت ضروری ہے.

1 thought on “Why are children not being educated?”

Leave a Comment